ایک نہیں دو پاکستان۔۔۔
ہرجگہ غریبوں کی جیب سے چالان نکلوانےوالے سفید چمگادڑ ایک سائیں کے لونڈے کی ون ویلنگ کو پروٹو کول دیتے ہوئے۔۔۔
سائیں تو سائیں کا کتا بھی سائیں۔۔🤔
کراچی ڈیفینس میں جیکب آباد کے ماجد علی لاشاری کو جوس میں نشہ آور چیز پلائی گئی اور کئی دن تک خواتین زیادتی کا نشانہ بناتی رہیں۔
یہ ایک مرد کے ساتھ ہوا ہے تو سوشل میڈیا پر اس کی مذمت اور متاثرہ مرد کے لئے انصاف کی بجائے مذاق اڑایا جارہا ہے۔
جب آپ سرکار کے مُلازمین کو لامحدُود اختیارات دے دیں گے تو موٹرسائیکل کو لاک نا لگانا بھی جُرم بن جائے گا۔۔ بھلا ہو ویڈیو بنانے والے کا ورنہ موٹرسائیکل والا رُل جاتا۔۔
کل رحیم یار خان سے پیرا فورس کے تشدد کی فوٹیج آئی تھی اب یہ فوٹیج قصور سے سامنے آئی ہے۔ تشدد،لوٹ مار کے جس مقام پر ادارے 78 سال میں پہنچے ہیں پیرا وہاں 6 مہینوں میں پہنچ گئی ہے۔
یہ ہے مریم بی بی کا پنجاب.. دکانداروں پر ٹیکسز کی بھرمار الگ اور تذلیل الگ.. ہمارے ضلع کی تحصیل لیاقت پور علاقہ خان بیلہ کے ایک دکاندار اختر شاہ سے پیرا فورس کا ظالمانہ سلوک
#PunjabGovernment#PERAForce#disrespectful
@Aadiiroy2 اور عوام کے پاس جانے کی کوئی جگہ رہ ہی نہیں جاتی۔ نہ پولیس نہ اور کوئی سنوائی ۔ عدالت کا نظام اور لوازمات بھی ہر بندے کی دسترس میں نہیں۔ سو اس طرح کی ذلت سے انسان کو صرف خدا کی ذات ہی بچا سکتی ہے اس ملک میں۔۔۔۔
@Aadiiroy2 جب آپ پولیس اور اس سے ملحقہ ہر ادارے کو غیر محدود اختیارات دے دیں۔ اور ٹریفک وارڈن تک کو کھلے اختیارات مل جائیں تو بات صرف قانون پر عملدرآمد کی نہیں رہ جاتی۔ ذاتی بغض، غصہ اور بھاری جیب گرم ہونا بھی ایسے واقعات کا سبب بنتا ہے۔
ظالموں نے خانہ خدا کا بھی خیال نہیں کیا
ظالموں نے مسجد کا تقدس پامال کر دیا خدا کا خوف نہیں ہے
😭😭😭🚨پیر وسن کے قریب گاؤں فیض محمد موجانی کی مسجد میں تین شرابی اوباش لڑکوں نے 12 سال کی معصوم لڑکی کو گھر سے اغوا کرکے نشہ دے مسجد میں جنسی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔
ان درندوں پر ایف آئی آر درج ہے جس میں سے ایک ملزم گرفتار ہوا ہے
جبکہ باقی دو بااثر ملزمان کو پولیس گرفتار نہیں کررہی ہے اور ملزمان کو تحفظ دے رہی ہے
مسجد کے پیش امام اور مولوی حضرات خاموش ہیں جبکہ علاقے کے لوگوں میں خوف و ہراس پھیلا ہوا ہے۔
جبکہ بااثر ملزمان کی طرف سے دھمکیاں دی جارہی ہیں مظلوم لڑکی اور اسکی فیملی کو
اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ ان مجرموں کو گرفتار کرکے سزا دی جائے
ملتان شاہ رکنِ عالم کے علاقے میں ایم فل پاس 26 سالہ نوجوان ساجد نے مبینہ طور پر بے روزگاری اور معاشرتی طعنوں سے تنگ آ کر اپنی تمام تعلیمی اسناد اور ڈگریاں چوک کے بیچوں بیچ آگ کی نذر کر دیں اور خود پر پیٹرول چھڑکنے کی کوشش کی۔ عینی شاہدین کے مطابق ساجد پچھلے تین سال سے نوکری کی تلاش میں در در کی خاک چھان رہا تھا، لیکن ہر جگہ سفارش یا رشوت مانگی جاتی تھی
واقعے کے وقت ساجد سڑک پر کھڑا چیخ رہا تھا کہ "ان کاغذ کے ٹکڑوں کا کیا فائدہ جب یہ مجھے دو وقت کی روٹی نہیں دے سکتے۔" وہ جیسے ہی ماچس جلانے لگا، وہاں موجود ٹریفک پولیس اہلکار اور راہگیروں نے اپنی جان پر کھیل کر اسے دبوچ لیا اور اس کے ہاتھ سے ماچس چھین لی۔ نوجوان کو شدید ذہنی دباؤ کی حالت میں تھانے منتقل کیا گیا جہاں اس کے غریب والدین بھی پہنچ گے۔
لخ لعنت اس نظام پر جہاں انگوٹھا چھاپ لوگ سسٹم پر قابض ہیں اور پڑھا لکھا طبقہ بھوک افلاس سے تنگ آکر اپنی جان کے درپے ہے۔۔۔💔💔
اللّٰہ کا سخت عذاب نازل ہو ایسے درندوں پر 😢😢😢
ﷲ نے دوبارا بیٹی کی ہی خوشخبری دی ہے سسرال کے پریشر سے عروج نے جب جاکر الٹرا ساؤنڈ کروایا تو لیڈی ڈاکٹر نے بیٹی کا بتایا تو عروج بیچاری نے ڈرتے ڈرتے یہ خبر جیسے اپنے شوہر کو سنائی وہ آپے سے باہر ہوگیا کہنے لگا ایسا کیسے ہوسکتا ہے پہلے بھی بیٹی ہوئی اور اب بھی دوبارہ بیٹی یہ کہہ کر اس نے اس بیچاری کو مارـنا پیٹـ نا شروع کردیا یہاں تک کہ اس کا چہرہ پہچاننا مشکل ہوگیا
اس کے شوہر کو بچی کی خبر ملنا ایسا تھا جیسے کوئی گناہ بس ﷲ پوچھے اس نے پانچ ماہ کے ننھے مہمان کو دنیا میں آنے سے پہلے ہی ﷲ کے پاس بھیجنے کی کوشش کی اور افسوس کہ تمام گھر والے تماشائی بنے رہے اس بیچاری نے کسی طرح اپنی ماں سے رابطہ کیا پھر کسی طرح اس کے والد عروج کو آکر وہاں سے فورا لیا اور سول اسپتال لے کر گئے وہاں وہ بیچارا رو پڑا کہ اپنی پھول جیسی بچی کا چہرہ تک پہچاننا ممکن نہیں تھا😢😢😭😭😭
سب مل کر عروج کے لئے آواز اُٹھائیں پوسٹ کو شیئر کریں
منقول
بابے کی عُمر، سفید داڑھی اور سب حُلیہ نوٹ فرمائیں، یہ وہ ہیں جن کی شکلیں دیکھ کر لوگ پارسائی کا سرٹیفیکیٹ دیتے ہیں۔ شرمناک حرکت دیکھیں اس کی اپنی بچیوں کو ان مذہبی جنسی درندوں سے بچاؤ یہ اسی معاشرے کا بزرگ ہے جو اہل مغرب کو ایپسثین کے طعنے دیتے نہیں تھکتا
چلیں کہیں سے تو آغاز ہوا۔۔۔۔۔۔یہ جاہل، گنوار میٹرک فیل صافی آئندہ جب کبھی کسی ہسپتال میں ڈاکٹرز اور عملے کو پریشان کریں تو ایک ویڈیو بنا کر 15 پر کال کرکے انکو جیل بھجوائیں۔۔۔۔۔۔✌️✌️
ایسے جاہلوں کا یہی علاج ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔🫡✌️🔥
@DrNaeemMeoMD ڈاکٹر کی غیر حاضری پر صحافی کا سوال اٹھانا جرم بن گیا ڈاکٹر عرفان جو کہ تین پرائیوٹ ہسپتال چلاتا ہے اور اکثر ڈسٹرکٹ وہاڑی ہسپتال میں ڈیوٹی سے غائب ہوتے ہیں جناب سرکاری ہسپتال میں کم اور پرائیوٹ ہسپتال میں زیادہ نظر آتے ہیں یہی جرم ہے صحافی کا
عمر دیکھو، داڑہی دیکھو، اور حرکتیں دیکھو...
نیا ناظم آباد کراچی میں ایک مہذب نفسیاتی بڈہا چھوٹی بچی کے سامنے شلوار نیچے کر کے اپنا جنگلی پن دکھاتے ہوے۔ بچوں کے ساتھ جنسی حراسانی کے لئے الگ اور قتل سے بھی سخت قوانین ہونے چاہئیں۔
علیزہ علی دختر شوکت علی سال 2023 میں خواجہ فرید یونیورسٹی آف انجینرنگ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی (رحیم یار خان کیمپس) میں بی ایس سی (فزکس) کی چوتھے سیمسٹر کی طالبہ تھی- اسی دوران علیزہ کی بڑی بہن اسی یونیورسٹی سے فزکس میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کی طرف سے 13 لاکھ روپے کی اسکالر شپ پر پی ایچ ڈی کر رہی تھی-
اس دوران یونیورسٹی انتظامیہ (بلال طاہر - ہیڈ آف فزکس ڈیپارٹمنٹ) نے علیزہ کی بڑی بہن پر یہ دباؤ ڈالنا شروع کر دیا کہ وہ اپنی اسکالر شپ سرینڈر کر دے اور اپنا پی ایچ ڈی پروگرام ادھورہ چھوڑ دے, بصورت دیگر اسکی پی ایچ ڈی کی رجسٹریشن منسوخ کر دی جائیگی- اسے مسلسل ایسا کرنے کی دھمکیاں دی گئیں اور شدید مینٹل ٹارچر کیا گیا- علیزہ کی بہن نے یونیورسٹی کا یہ ناجائز مطالبہ مسترد کر دیا اور اپنا پی ایچ ڈی پروگرام جاری رکھا لیکن خوف کی وجہ سے یونیورسٹی جانا چھوڑ دیا-
18 مئی 2023 کو جب علیزہ علی اپنی یونیورسٹی میں ایک سائنسی نمائش میں شرکت کیلئے گئی تو سیکورٹی انچارج خرّم شہزاد چند خواتین کیساتھ علیزہ کے پاس آیا اور اس پر دباؤ ڈالا کہ وہ اپنی بہن سے پی ایچ ڈی پروگرام ختم کرنے کا کہے- علیزہ کے انکار پر خرّم شہزاد اور وہ عورتیں علیزہ کو گھسیٹتے ہوۓ زبردستی سیکورٹی ڈیپارٹمنٹ میں لے گئے- وہاں لیجا کر اسکا موبائل فون اور پرس چھین لیئے گئے اور اس پر پھر سے دباؤ ڈالنا شروع کر دیا کہ جب تک تمھاری بہن PhD پروگرام سرینڈر نہیں کرتی تمہیں نہیں چھوڑیں گے- پھر اسکے موبائل سے سپیکر لاوڈ کر کے بڑی بہن سے بات کروائی گئی- علیزہ نے اپنی صورتحال اور یونیورسٹی کا دیرینہ مطالبہ اپنی بہن کو بتایا-
گھر والوں نے صورتحال کا اندازہ کرتے ہوۓ قانونی ایکشن لیا اور عدالت کے حکم پر پولیس نے علیزہ کو یونیورسٹی کے سیکورٹی ڈیپارٹمنٹ سے چار گھنٹے حبس بیجا میں رہنے کے بعد بازیاب کروایا-
سال 2023 سے مقدمہ عدالت میں بنا سماعت و بنا فیصلہ پینڈنگ ہے-
اب یونیورسٹی والے علیزہ پر صلاح کرنے اور مقدمہ واپس لینے کیلئے دباؤ ڈال رہے ہیں- مذکورہ جج بھی یونیورسٹی کو سپورٹ کرتے ہوۓ کیس کی سماعتیں نہیں کر رہا کیونکہ یونیورسٹی کے الزام علیہ جج کو مسلسل خوش کرتے چلے آ رہے ہیں اور اسے یہ یقین بھی دلا رہے ہیں کہ ہم صلح کر لینگے اور مقدمہ خارج کروا لینگے-
یہ حالات ہیں ہمارے اعلیٰ تعلیم دینے والے اداروں کے جبکہ ہماری عدالتیں تو ہیں ہی ازل کی منحوس- یہ گندہ معاشرہ ہمارے ٹیلنٹڈ اور ذہین بچوں کیساتھ کیسا کھلواڑ کر رہا ہے اور آنے والوں کیلئے کیسی گھٹیا مثالیں چھوڑ رہا ہے جبکہ ریاست آنکھیں موندے پڑی ہے- افسوس صد افسوس-
@MaryamNSharif@AzmaBokhariPMLN@RanaSikandarH@AzamNazeerTarar@kfueitofficial@HEC_Pakistan@hecpkofficial
خواجہ فرید یونیورسٹی کی ایک طالبہ کے کچھ دنوں سے سکرین شاٹ وائرل ہیں جس میں ایک استاد اُسے ناجائز تعلقات بنانے کے لیے ہراساں کر رہا ہے اب اسی یونیورسٹی کی ایک اور طالبہ سامنے آ گئی ہے جسے اس یونیورسٹی کے کمرے میں بند کیا گیا تھا اور پولیس نے آ کر بازیاب کروایا یہ یونیورسٹی ہے یا جہنم ؟
یہ جو باحجاب بہن ہے یہ خواجہ فرید یونیورسٹی کی اسٹوڈنٹ ہے ہوا یوں کہ
خواجہ فرید BS فزکس (4th سمسٹر) کی طالبہ علیزہ علی کو یونیورسٹی کے سیکیورٹی ڈیپارٹمنٹ کے ایک کمرے میں 3 سے 4 گھنٹے کے لیے غیر قانونی طور پر قید رکھا گیا۔
علیزہ کے مطابق اس کی بڑی بہن اسی یونیورسٹی سے فزکس میں PhD کر رہی تھی اور اسے HEC کی طرف سے 13 لاکھ روپے کا اسکالرشپ ملا تھا۔
یونیورسٹی کے VC (سلیمان طاہر) اور HOD (بلال طاہر) نے اس اسکالرشپ میں سے اپنا حصہ وصول کرنے کے لیے اس کی بہن پر دستبردار ہونے کا دباؤ ڈالا اور انکار کرنے پر شدید ذہنی اذیت دی اور رجسٹریشن منسوخ کرنے کی دھمکیاں دیں
18 مئی کو جب علیزہ یونیورسٹی کی ایک نمائش میں موجود تھی، تو سیکیورٹی انچارچ خرم شہزاد مسلح اہلکاروں اور لیڈیز سیکیورٹی کے ساتھ وہاں آیا
اور علیزہ سے اپنی بہن کو بلا کر اسکالرشپ سرنڈر کرنے والے کاغذات پر دستخط کروانے کا کہا۔
علیزہ کے انکار پر اسے زبردستی گھسیٹتے ہوئے سیکیورٹی ڈیپارٹمنٹ لے جایا گیا، اس کا موبائل اور پرس چھین کر ایک کمرے میں بند کر کے باہر سے لاک لگا دیا گیا
اور باہر سیکیورٹی اہلکار تعینات کر دیے گئے۔ بعد میں زبردستی لاؤڈ اسپیکر پر اس سے گھر والوں کو فون کروا کر بلانے پر مجبور کیا گیا۔
اطلاع ملنے پر علیزہ کی بہن اسماء علی نے عدالت سے رجوع کیا، جس کے نوٹس پر پولیس نے فوراً کارروائی کرتے ہوئے علیزہ کو بند کمرے سے بازیاب کروایا۔
کیس اس وقت عدالت میں زیرِ التوا ہے،
تاہم علیزہ اور اس کے والد شوکت علی کا الزام ہے کہ انتظامیہ ان پر کیس واپس لینے اور صلح نامہ کرنے کے لیے مسلسل دباؤ ڈال رہی ہے اور تعلیمی مستقبل تباہ کرنے کی دھمکیاں دے رہی ہے۔
کیا کوئی ہے کو اس بہن کو انصاف دے سکے؟؟؟
اے آئی سے زہر دینے کا طریقہ پوچھنے والا 17 سالہ نوجوان بہاولپور سے گرفتار۔۔۔۔ نوجوان نے اپنے گھر میں زہر اور منشیات کی تیاری کے لیے لیب بھی بنا رکھی تھی۔۔۔۔۔
ملزم نے آسٹریلیا اور اسلام آباد سے کیمیائی مواد منگوا کر زہر تیار کیا ،گرفتار نوجوان نے والد کو پہلی بار زہر دینے کی ناکام کوشش پر اے آئی سے دوبارہ رہنمائی مانگی گئی، اے آئی سے زہر بنانے کا طریقہ پوچھنے اور آسٹریلیا سے کیمیکل منگوا نے پر ایک غیر ملکی ایجنسی نے پاکستان کی نیشنل سائبر کرائم ایجنسی سے معلومات شئیر کیں اور غیر ملکی ایجنسی کی معلومات کی روشنی میں ملزم کو گرفتار کیا گیا۔۔۔۔