لاپتہ عامر عالیزئی کی بحفاظت بازیابی کے لیے مہم ابھی شروع ہوگئی ہے۔ تمام سیاسی و سماجی کارکنوں بالخصوص صحافیوں سے گزارش ہے کہ کچھ دیر کے لیے ووٹ چوری کی مہم بند کریں اور جبری گمشدہ افراد کی بازیابی کے لیے آواز بلند کریں۔
#ReleaseAmirAlizai@HamidMirPAK@asmashirazi
دو فروری کو مستونگ سے جبری گمشدگی کے شکار ہونے والے کمسن طالب علم عامر بلوچ کی عدم بازیابی اور انکے حوالے سے انکے خاندان کو معلومات فراہم نہ کرنا باعث تشویش ہے جس کی مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ عامر بلوچ کی بازیابی کو فوری طور پر یقینی بنایا جائے
#ReleaseAmirAlizai
#ReleaseAmirAlizai
Baloch students are being racially profiled, intimidated, forcibly disappeared and extrajudicially executed with impunity. Despite court orders & Govt assurances before Const. Courts, innocent Baloch students are targeted every single day.
جو یے دعویٰ کرتے ہیں کے وہ بلوچستان کے خیر خواہ ہیں اور پارلیمنٹ میں بلوچ کی نمائندگی کررہے ہیں آج وہ اپنے ووٹ گم ہونے پر پریشان ہیں اور پورے بلوچستان کو بند کرکے رکھا ہوا ہے لیکن وہی دعویدار بلوچ نوجوانوں کی جبری گمشدگی پر خاموش ہیں-
یے ہماری خیرخواہ نہیں-
#ReleaseAmirAlizai
دو فروری سے مستونگ سے جبری طور پر گمشدہ ہونے والے کمسن طالب علم عامر بلوچ تاحال لاپتہ ہیں۔
بلوچ نوجوان طالبعموں کی جبری گمشدگی اور بلوچستان میں اس سنگین غیرقانونی عمل میں اضافہ باعث تشویش ہے۔
اس معاملے میں حکومت اور قانون نافذ کرنے والوں کی غیرسنجیدگی حیران کن نہیں ہے لیکن انسانی حقوق کے اداروں کی جانب سے خاموشی مایوس کن ہے۔
#ReleaseAmirAlizai
Baloch Nation,
As you are aware, we have been protesting for the last two months against the state's genocidal policies in Balochistan and for the safe recovery of our family members. We were hopeful that the state authorities in Islamabad would listen to the grievances of the victims of state forces in Balochistan. Unfortunately, in Islamabad, we were beaten, tortured, harassed, and compelled to return to our homeland, Balochistan.
By returning to our homeland, we want to convey our national message to the state: the Baloch nation does not accept state barbarism in Balochistan anymore and will continue the political struggle for the safety of its people. We plan to persist in our struggle by strengthening our presence in Balochistan. In continuation of the movement, a grand gathering is being held tomorrow at Shahwani Stadium, Kechi Baag, Quetta. We request people of every age, gender, and nation, particularly our Baloch people, to participate in this grand event and demonstrate our national strength against the state's genocidal policies in Balochistan.
Help us to end Baloch Genocide by signing this Petition:
🔗 Link:
https://t.co/uklTNHDjK0
#MarchAgainstBalochGenocide
پنجگور : پروم جہاں پندرہ سال بعد خوف کو مات دے کر عوام آج اتنی بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکلے ہیں اس علاقے میں کوئی ایسا گھر نہیں جہاں ریاستی دہشت گردی کے ایثار نہ ملتے ہوں کوئی ایسا گھر نہیں ہے جہاں ریاست نے لاش نہیں بھیجیں ہو کوئی ایسا گھر نہیں جہاں لوگ جبری گمشدگی کے شکار نہیں بنائے گئے ہیں اس علاقے میں دس سال کے بچوں سے لے کر 70 سال کے بزرگ تک جبری گمشدگی کا نشانہ بنائے گئے ہیں ۔۔
مگر بلوچوں کی زندگی انکی اپنی سرزمین پر اجیرن بنانے والے سب لیں
بلوچ بے موت مارے جانے سے تمہاری خوف سے روز روز مرنے سے تمہارے جبر کے آگے سر تسلیم خم کرنے سے انکار انکار ۔۔۔۔انکار ۔۔۔۔انکار ۔۔۔۔انکار کرتے ہیں
#MarchAgainstBalochGenocide
لوگوں کی بے انہتا محبت کو دیکھ کر کبھی کبھی آنکھیں بھر اتی ہیں جس طرح سے بلوچستان سے لے کر دنیا میں جہاں جہاں بلوچ آباد ہیں انکی جانب سے محبت کے پیغامات مل رہے ہیں انکے تہہ دل سے مشکور ہیں اور یہ محبتیں ہمارے کندھوں پر مزید زمہ دار یاں ہیں اور ہمارا یہ خود سے وعدہ ہے کہ انکی اس جدوجہد کے ساتھ وابستگی کو رائیگاں جانے نہیں دیں گے
اور اپنے وطن کو امن و محبت کا گہوارہ اور انسانوں کے لیے بسنے جیسی بستی بنائیں گے
اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف ریاستی تشدد و جبر خلاف بولتے رہیں گے
اور ایک ایسے سماج کی تشکیل کریں گے جہاں ماؤں کی آنکھیں اپنے بچوں کی جبری گمشدگیوں کی وجہ سے نم نہ ہوں کسی حیات بلوچ کے ہاتھ پاؤں اسکے ماں کے سامنے اسی کے دوپٹے سے باندھ کر گولیاں نہ برسائی جائیں
کسی بالاچ کی بہن کو اپنے بھائی کی زیر حراست قتل پر قسطوں میں سسک سسک کر روز مرنا نہ پڑئے
#MarchAgainstBalochGenocide
کوئٹہ : جن کو لگتا تھا اسلام آباد دھرنے سے واپس بلوچستان جانا ہماری شکست ہے وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں ہماری شکست :
ہم نے یہ کمایا ہے عوامی طاقت ہی ہماری فتح ہے عوامی طاقت سے ہی ریاستی تشدد بلوچ کش پالیسیوں کا مقابلہ کریں گے عوامی طاقت سے ہی اپنے پیاروں کو بازیاب کروائیں گے عوامی طاقت سے ہی انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کو روکیں گے
ہم خالی ہاتھ بلوچستان لوٹ کر نہیں ائے ہیں آپکی بربریت اپنے ساتھ کی جانے والی سلوک کی داستانیں لے کر ائے ہیں یہ عوامی اجتماعی ہمارے استقبال کے لیے نہیں بلکہ تمہاری دہشت اور وحشت کے خلاف تمہاری بے جا طاقت کے استعمال کرنے کے خلاف عوامی عدالت میں عوام کا فیصلہ ہے
جہاں مدعی عوام منصف بھی عوام ہی ہیں
ہماری جدوجہد اسلام آباد میں ختم نہیں ہوئی ہے بلکہ یہ جدوجہد نئی شکل نئی رنگ میں شروع ہوئی ہے
#MarchAgainstBalochGenocide
بلوچستان بھر سے شال جلسے کیلئے لوگوں کے قافلوں کا نکلنا شروع ہو گیا ہے۔ اس سلسلے میں کیچ سے دو بسیں شال جلسے کیلئے نکل چکے ہیں جنہیں مختلف علاقوں سے دیگر لوگ جوائن کرینگے۔ قافلوں کا یہ سلسلہ بلوچستان بھر سے شال کی جانب روانہ ہو چکی ہے۔ بلوچ عوام سے بھرپور اپیل کرتے ہیں کہ وہ کل شال میں بلوچ قومی جلسے میں اپنی بھرپور شرکت یقینی بنائے۔
#MarchAgainstBalochGenocide
اسلام آباد نے دو مہینے میں ہمیں انصاف کجاء بدلے میں ہماری بوڑھی ماؤں کو انڈین ایجنٹ اور دہشت گرد کا خطاب دیا
یے بوڑھی مائیں دہشت گرد نہیں دہشت گرد تو آپ ہیں جو انکے بچے گھروں سےاُٹھا کر سالوں لاپتہ کردیتے ہو یا پھر جعلی مقابلے میں مار دیتے ہو
البتہ اسلام آباد کا رویہ ہم کبھی
میری پیاری بلوچ راج!
ہم شکست خوردہ نہیں بلکہ بلوچ عوام کا مقدمہ جیت کر آرہے ہیں، ہم مزید حوصلہ، ہمت اور طاقت کے ساتھ اپنی سرزمین بلوچستان واپس آرہے ہیں۔ ہم بلوچ نسل لشی کے خلاف اب اس تحریک کو مزید حوصلہ، ہمت اور طاقت کے ساتھ گھر گھر پہنچائے گے، اپنے لوگوں کے آواز بنے گے، اپنے عوام کے ساتھ کھڑے ہونگے، اپنے ماؤں، بہنوں، بزرگوں اور نوجوانوں کو ساتھ لیکر چلے گے اور اپنی عوام کی قوت سے اس جبر کا مقابلہ کریں گے۔
ہمارے تحریک کے پانچویں فیز کا آغاز کوئٹہ میں 27 جنوری کو ایک عوامی جلسے سے ہوگا۔ میں بلوچستان بھر کے عوام سے درخواست کرتی ہوں، وہ 27 جنوری کو بلوچستان بھر سے اپنے آپ کو کوئٹہ پہنچائے اور اس تحریک کا حصہ بن جائے۔
یہ میرا ایمان ہے جیت بلوچ عوام کی ہوگی!
#MarchAgainstBalochGenocide
تم نے اسلام آباد میں ہمارے دھرنے کے چاروں اطراف خاردار تاریں لگائی ہمارے آنے جانے پر پابندی لگائی ہم پر تشدد کیا ہمیں جیل میں رکھا ہم نے تمہارا ہر جبر سہا کیونکہ ہمیں پتا تھا تمہارے ساتھ تمہاری بندوقیں ہیں اور ہمارے ساتھ ہماری قوم کھڑی ہے دیکھو
#MarchAgainstBalochGenocide