ہم اپنے اس دوست (عمران خان) کی مدد کرنا چاہتے ہیں جس کے ساتھ ہم نے کرکٹ کھیلی۔ ہمیں پاکستان کے قوانین کا علم نہیں، لیکن انسانیت کے ناطے کسی بھی قیدی کو بنیادی سہولیات ملنی چاہئیں۔ عمران خان پاکستان کے سابق وزیراعظم اور دنیا کے بہترین کرکٹرز میں سے ایک رہے ہیں، ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ انہیں بہترین علاج اور سہولیات فراہم کی جائیں۔ ہم اس سے زیادہ کچھ نہیں مانگ رہے، کپل دیو
لوگ مہنگائی اور بے روزگاری سے تنگ ہیں،ظالمانہ ٹیکسوں نے کمر توڑ کر رکھ دی ہے،معیشت کا پہیہ جام ہے اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ بنانے والے وزارت خزانہ اور وزیراعظم ہاوس کے ملازمین کو 6 ماہ کی تنخواہ بطور بونس دینے کا اعلان کردیا ہے ۔کیوں بھئی ؟ آپ کے باپ کا مال ہے؟ بادشاہ سلامت ہیں آپ ؟ پہلی بات تو یہ اس بجٹ میں ایسا کونسا تیر مارا ہے کہ انعام دیا جائے؟ دوسری بات اگر بونس دینا بھی ہے تو ان چند ملازمین کو دیں جنہوں نے دن رات کام کیا۔ کروڑوں روپے یوں اڑا دینے کیا جواز ہے؟ وزارت خزانہ اور وزیراعظم ہائوس کے سینکڑوں ملازمین کو 6ماہ کی تنخواہیں انعام دینے کا اختیار کس نے دیا ؟ کیا آپ اپنی جیب سے یہ بخشش دے سکتے ہیں؟
میں کوشش کرتاہوں کہ کبھی کسی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر گالی مت دوں۔۔لیکن یہ دونوں سور اور ان جیسے اور درندوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے پورے ملک کے ٹی وی لائو دکھائیں۔۔پھر بھی ننھا پھول جو ان حرامیوں کے گناہوں کی وجہ سے مرجھا گیا وہ ہرا نہیں ہو گا کبھی ۔۔لیکن شاید لوگ اپنی اولاد کے مستقبل کو شاید کسی حد تک محفوظ بنتا دیکھ سکیں۔
This is Muntaha, a 7-year-old girl from Sargodha, who went to a nearby shop to get something but never came back. Later, her body was found, sexually abused and murderd. This pic is a slap in the face of Punjab’s govt. They’ve failed to protect kids. Absolutely heart breaking 💔.
Enough is enough. The rape and murder of innocent children must end. Rapists should face the harshest punishment, including public hanging. This voice must not stop until justice prevails and every child is safe.
ظالمو وہ صرف گیارہ سال کی معصوم بچی تھی ۔ یہ ج ور اتنے بے رحم ہو جائیں گے ۔ خدا کی قسم یہ معاشرہ رہنے کے قابل نہی رہا ۔
رات گئے اچانک آنکھ کھلی۔ موبائل پر وقت دیکھا تو واٹس ایپ کا نوٹیفکیشن بھی نظر آیا۔ سرگودھا کے ایک دوست کا میسج تھا۔
میں نے میسج کھول کر پڑھا۔
کاش میں نے یہ میسج نہ پڑھا ہوتا
کاش یہ ہولناک خبر نہ پڑھی ہوتی
کاش۔۔
بخدا! اُس وقت سے لے کر اب تک طبیعت سخت بے چین ہے۔ سینہ غم سے پھٹا جا رہا ہے۔ بار بار اپنے بچوں کو دیکھتا ہوں تو ذہن میں معصوم منتہا کا چہرہ گھوم جاتا ہے۔ اک اور زینب کیس ا گیا ۔
ایسا ظلم ایسی سفاکیت اور وہ بھی ایک معصوم بیٹی کے ساتھ!
پھر شاہینوں کے شہر سرگودھا میں
أَسْتَغْفِرُ اللّٰه
یا اللہ یہ کیا ہو رہا ہے؟
کارخانہ بازار کی رہائشی سات سالہ منتہا زہرہ دن گیارہ بجے کچھ سامان لینے قریبی کریانہ اسٹور پر گئی۔ جیسے بے شمار بچے روزمرہ کے معمول کے تحت چھوٹے موٹے کام کرتے ہیں، منتہا بھی پیسے لے کر دکان کی طرف روانہ ہو گئی۔
منٹ گزرے، پھر ایک گھنٹہ، پھر دو گھنٹے… مگر منتہا گھر واپس نہ آئی۔
تشویش رفتہ رفتہ گھبراہٹ میں بدل گئی۔ اہلِ خانہ نے تلاش شروع کی رشتہ داروں کو اطلاع دی۔
پڑوسیوں کے دروازے کھٹکھٹائے، دکان پر جا کر معلوم کیا، مگر منتہا کا کوئی سراغ نہ ملا۔ پورا محلہ تلاش میں شریک ہو گیا اس امید کے ساتھ کہ شاید بچی راستہ بھٹک گئی ہو۔
وقت گزرتا گیا تو پولیس نے قریبی مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لینا شروع کیا۔ پھر ایک ہولناک انکشاف سامنے آیا۔ کیمروں میں منتہا ایک دکان کے اندر داخل ہوتی ہوئی نظر آئی مگر وہاں سے باہر نکلتی ہوئی کہیں دکھائی نہ دی۔
تفتیش کاروں نے فوراً اپنی توجہ اس عمارت کی طرف مرکوز کر دی۔ جو معاملہ ابتدا میں ایک معمول کے مطابق لاپتا ہونے والی بچی کا دکھائی دیتا تھا وہ اچانک کہیں زیادہ خوفناک صورت اختیار کر گیا۔
پولیس نے عمارت کے ہر کمرے، ہر کونے اور ہر منزل کی تلاشی لی۔ فضا سوگوار اور کشیدہ تھی۔ ہر شخص کے دل میں ایک طرف معجزے کی امید تھی اور دوسری طرف کسی بڑے سانحے کا خوف۔
بالآخر تلاشی کے دوران حکام نے مبینہ طور پر عمارت کی بالائی منزل سے ایک بوری میں چھپائی گئی معصوم کلی منتہا کی لاش برآمد کر لی، جسے درندگی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر دیا گیا تھا۔
إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ
آخر کب تک؟
کب تک ہم صرف افسوس کرتے رہیں گے؟ کب تک اپنی معصوم بیٹیوں اور بچوں کی لاشیں اٹھاتے رہیں گے؟ کب تک مظلوم خاندان انصاف کے لیے دربدر بھٹکتے رہیں گے؟
آخر ایسے مؤثر قوانین اور مضبوط نظامِ انصاف کی ضرورت کب محسوس کی جائے گی جو ایسے درندہ صفت مجرموں کے لیے واقعی عبرت بن سکیں؟
ہماری پریوں جیسی بیٹیاں آخر کب تک سفاکیت کا نشانہ بنتی رہیں گی؟
خدارا! کچھ کیجیے، ورنہ آنے والے دنوں میں والدین کا خوف اور بچوں کا عدم تحفظ مزید بڑھتا چلا جائے گا۔
اس دردناک سانحے نے ایک بار پھر ہمارے اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ اب صرف افسوس نہیں، انصاف چاہیے ایسا انصاف جو مجرم کو کیفرِ کردار تک پہنچائے اور معاشرے کو تحفظ کا احساس بھی واپس لوٹائے۔
اور والدین سے ایک عاجزانہ گزارش ہے
اپنے بچوں کا خود خیال رکھیے۔ کم عمر بچوں کو حتی الامکان تنہا دکان بازار یا گلی میں نہ بھیجیے۔ چند لمحوں کی احتیاط بعض اوقات پوری زندگی کے پچھتاوے سے بچا لیتی ہے۔
درمندانہ اپیل
احبابِ گرامی
آپ سب سے درمندانہ اپیل ہے کہ اس المناک سانحے پر جہاں متاثرہ خاندان، بالخصوص معصوم منتہا کے والدین کے لیے صبر و استقامت کی دعا کریں وہیں اس ظلم کے خلاف اپنی آواز بھی بلند کریں۔
منتہا کے لیے انصاف کا مطالبہ اس حد تک کریں کہ ہر پلیٹ فارم پر یہ آواز گونج اٹھے۔ اس قدر شیئر کریں کہ یہ معاملہ دب نہ سکے اور انصاف تک رسائی ممکن ہو سکے۔
ہمیں ایسا اجتماعی دباؤ پیدا کرنا ہوگا کہ نہ صرف مجرم اپنے انجام کو پہنچے بلکہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت اور مؤثر قانون سازی بھی عمل میں آئے، تاکہ آئندہ کسی درندہ صفت انسان کو اس کی جرات نہ ہو سکے۔
یہ صرف ایک بچی کا مقدمہ نہیں، بلکہ ہمارے پورے معاشرے میں ہر بچے اور بچی کے تحفظ کا سوال ہے۔
ضروری نوٹ:
کبھی بھی ایسے واقعہ کو پوسٹ کرتے ہوۓ بچے بچیوں کی ایسی تصویر نہیں لگانی چاہیے جس سے انکا چہرہ ظاہر ہو۔
آئی ٹی منسٹر شزا فاطمہ نے جس قسم کا بل اسمبلی سے پاس کروایا ہے۔، اس پر نہ صرف ان سے استعفی لینا چاہئے بلکہ سب سے پہلا ٹاور ان کے گھر میں نصب کرنا چاہئے۔ ایسی بے وقوف عورتیں وزیر بنا کر مسلط کر دی ہیں!
🚨BREAKING: For the first time, the original Pakistani cypher — cable I-0678, the document that triggered the removal of former Pakistani Prime Minister Imran Khan — is being released in full by Drop Site.
🚨 A Palestinian mom was shot point blank in her head by IDF soldiers while she was carrying her child.
Retweet and expose Israel if you have a little Humanity left in you.