وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا لَعِبٌ وَلَهْوٌ وَلَلدَّارُ الْآخِرَةُ خَيْرٌ لِّلَّذِينَ يَتَّقُونَ أَفَلَا تَعْقِلُونَ
And the worldly life is not but amusement and diversion; but the home of the Hereafter is best for those who fear Allah, so will you not reason?
Al-An'am 32
سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا:
"پرودگار! تیری شان کے لائق شکر کیا ہے؟
ارشاد ہوا: *تیری زُبان ہمیشہ میرے ذکر سے تَر رہے!"
سیدنا عبدالله بن سلام رضی الله عنه
(مصنف ابن أبي شيبة : 35429)
اگر تم دوزخ کی حقیقت جان لو تو اتنا چیخو کہ تمھاری آواز بند ہو جائے اور اس قدر نماز پڑھو کہ تمھاری کمر ٹوٹ جائے!
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللّٰہ عنہ
(الزھد لابن المبارک، 1007)
کھانا کھا کر اللہ کا شکر ادا کرنے والے کو صبر کرنے والے صائم روزے رکھنے والا کے برابر ثواب ملتا ہے
The one who thanks Allah by eating food gets the same reward as the one who fasts patiently.
Ibn E Majah : 1765
_Sayyiduna Abu Hurayrah رضي الله عنه reports that Nabi ﷺ supplicated:_
“O Allah, forgive the sins of the haji and forgive the sins of the one for whom the haji seeks forgiveness”
(Mustadrak Hakim, vol. 1 pg. 441)
وَمَنۡ كَانَ فِىۡ هٰذِهٖۤ اَعۡمٰى فَهُوَ فِى الۡاٰخِرَةِ اَعۡمٰى وَاَضَلُّ سَبِيۡلًا
_And whoever is blind in this world (i.e, does not see Allah's Signs and believes not in Him), will be blind in the Hereafter, and more astray from the Path._
Al-Isra 72
مولوی اور علماء ‘Role Models’ نہیں!
اکثر آپ کچھ لوگوں کو یہ بات کہتے ہوئے سنتے ہونگے کہ علماء اور مولویوں نے آج کی نسل کو کچھ خاص نہیں دیا اور انکے لئے ایک رول ماڈل کا کردار نہیں ادا کیا ۔ مانا کے مسائل موجود ہیں اور کافی ایسی چیزیں ہیں جن پر کام کرنے کی ضرورت ہے جس طرح دنیاوی تعلیمی اداروں اور بیشتر اداروں میں اصلاح کی ضرورت ہے اور ہمیشہ رہے گی ۔
آپ ایسی باتیں اکثر ایسے لوگوں سے سنینگے جنہوں نے ذاتی طور پر کبھی علماء سے نہیں پڑھا اور دینی علم کے حصول کے لئےکبھی مدارس یا علماء سے تعلق نہیں رکھا ، یا پھر انکا تجربہ صرف ان نام نہاد علماء سے رہا ہوتا ہے جو Social Media پر مشہور ہوں یا پِھر Television پر آتے ہوں اور انہی لوگوں کو مثال بنا کر ��یش کرتے ہوں۔
ہمارے Media کو ایسے لوگوں کی سخت ضرورت ہے جو ٹیلیویژن پر آکر دین کے نام پر لوگوں کو علماء سے دور کریں اور ایسے لوگوں کو Airtime دیں جو اپنا منجن ہی اِسی بات پر بیچتے ہوں کے چناچہ علماء اپنا کام انجام نہیں دے رہے اس لئے ہم آپکو بتائین گےکہ دین کی اصل تصویر کیا ہے اور اس بنا پر ایسی منگھڑت ، جاہلانہ اور خالی جزبات پر مبنی باتیں کریں گے جس سے عوام مزید Confusion کا شکار ہو ۔
ہمارے میڈیا کو ایئرٹیم کے لئے مصالح کی ضرورت ہوتی ہے اور انکے لئے یہ ایک اچھا مصالح ہے جو انکو اچھی ریٹنگ دیتا ہے کیونکہ لوگ برائی کو پسند کرتے ہیں اور برائی کو پھیلانے میں خوشی محسوس کرتے ہے اس لئے ایسے شوز اور ویڈیوز کافی views حاصل کرتے ہیں ۔
رول ماڈل کے طور پر ایکٹرز اور ایکٹرسز کو پیش کرنا اور اپنا مداح صرف اس بنا پر رکھنا کے چونکے نوجوان نسل ان ایکٹرز اور ایکٹرسز کو سنتی ہے اور علما کو
نہیں سنتی تو یہ ثابت ہوئی کے علماء فیل ہوگئے ہیں ۔ یہ نہایت ہی احمقانہ بحث ہوئی کے چونکے نوجوان نسل آج Materialism کا شکار ہے اور انہی لوگوں کو فالو کرتی ہے جو دُنیاوی زیب و نمائش میں ڈوبےہوئے ہیں تو اچھا کام کرنے والے ناکام ہوگئے ہیں اور صحیح کام نہیں کر رہے۔
اکثریت کبھی بھی صحیح کی پیروی نہیں کرتی اور اللّٰہ نے اپنی کتاب میں یہ بات واضع کردیا ہے کہ اکثریت اللّٰہ کی نافرمان ہی رہے گی۔
ناسمجھ عوام میں اس طرح کی بات کرنا صرف انکے اندر دینی تعلیم کے خلاف اشتعال پیدا کرنا ہے اور انکو ایسے رستے پر چلنے سے demotivate کرنے کا باعث بنا ہے جبکہ اس وقت سخت ضرورت ہے کہ لوگوں کو علم کے حصول میں ملوث کیاجائے تاکہ انکی نجات کا باعث بنے۔
کم وسائل اور limited resources کے ساتھ جس طرح ہم نے کچھ علماء کو دین کی تعلیم میں مشغول دیکھا ہے اور لوگوں کو بغیر دنیاوی مفاد کے ساری زندگی پڑھاتے دیکھا ہے اسکا اجر صرف اللّٰہ ہی انہیں دے سکتا ہے ۔
اگر ان لوگوں سے صرف یہ پوچھ لیا جائے کہ انہوں نے کن علماء سے بنیادی علم حاصل کیا ہے اور کتنا دینی علم حاصل کیا ہے تو گھما پھرا جواب دے کر لوگوں کی بات ٹال دیتے ہیں یا پھر سرسری طور پر کسی کا بھی نام لے لیتے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کے انکو علم کی ہوا نے بھی نہیں چھوا ہوتا ۔
خیر ، اس پر لکھا تو بہت کچھ جا سکتا ہے اور تفصیلی بات کی جاسکتی ہے لیکن یہ باتیں اسکے لئے ہیں جو واقعی سمجھ رکھتے ہوں اور تجربے کی بنا پر کسی نتیجے پر پہنچنا چاہتے ہوں اور حقیقی علم کی پیاس دل میں رکھتے ہوں۔
بس دل کی بات تحریر میں لیکر آنی تھی تو وہ کردی ۔ باقی پھر کبھی انشاءاللّٰہ۔
لَكِنَّ الجَاهِلَ لاَ يَعلَمُ رُتْبَةَ نَفْسِه، فَكَيْفَ يَعْرِفُ رُتْبَةَ غَيْرِهِ
“لیکن جاہل شخص ��و اپنا مقام نہیں جانتا دوسروں کا مقام کیسے پہچانے گا”۔