@Sanfeez بات تو بلکل ٹھیک کی ہے شمشیر احمد صاحب نے 💯
اقتدار کی کرسی کا نشہ ہی نرالا ہوتا ہے اچھے خاصے انسان کو فرعون بنا دیتا ہے اور فرعون ہمیشہ اپنی لگائی آگ میں بھسم ہوتا ہے یہی قانون قدرت ہے
@Vendetta_110@DrJalaliTLY جو اس قانون کو بدلنے والی بات کرے گا وہ پکا مرزے کانے کا پیروکار ہے اور میں مرزے پر اس کے پیروکاروں پر لعنت بھیجتا ہوں در در کتیوں
@Vendetta_110@DrJalaliTLY ابلیس بھی نمازی تھا عبادت گزار تھا پرہیزگار تھا لیکن اس نے آدم علیہ السلام کو سجدہ نہیں کیا اللّٰہ پاک کے حکم سے انکار کیا اور سب عبادتیں خاک ہو گئی اور اللّٰہ کے نبی صلی علیہ وآلہ وسلم کے قانون کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے والا بھی نہیں بچے گا اس قانون کو کالا کہنے والے باز آ جاؤ
@MehdiRa06684452@makl476571@HijabZahra313 Bhai sab asal main mazrat k sath jitnay b ahil e tashee hain wo bohat kuch ghalat boltay hain Nabi pak s. a.w.w k sahaba k baray main ghalat baatain kartay hain jo ma samajta hoon ghalat hy ma sub ko manta hoon ma Husain A.S ko manta hoon har sahabi ko manta hon ksi ka munkr nahe
ایک بنگلہ دیشی مزارِ قائد پر پہنچا تو آنکھیں نم ہوگئیں… 💔🇵🇰
کراچی آنے والا ایک بنگلہ دیشی ویلاگر جب مزارِ قائد پہنچا اور قائداعظم محمد علی جناحؒ کی قبر کے سامنے کھڑا ہوا تو اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکا۔
وہ رو پڑا… اور روتے ہوئے اس نے وہ بات کہہ دی جس نے ہر سننے والے کے دل کو چھو لیا:
"قائداعظم! آپ کے بعد ہم یتیم ہوگئے۔
جس طرح یتیموں کو دنیا ٹھکرا دیتی ہے، اسی طرح ہمیں بھی ٹھکرا دیا گیا۔"
یہ صرف ایک بنگلہ دیشی نوجوان کے آنسو نہیں تھے، بلکہ شاید ایک پوری نسل کے دل میں موجود یادوں، شکووں اور محبت کا اظہار تھا۔
تاریخ کے صفحات پر سیاسی اختلافات اپنی جگہ، مگر قائداعظم محمد علی جناحؒ کے نام سے جڑی یادیں آج بھی پاکستان اور بنگلہ دیش کے لاکھوں لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔
کبھی کبھی آنکھوں سے بہنے والے آنسو وہ بات کہہ دیتے ہیں، جو الفاظ نہیں کہہ سکتے۔ 🇵🇰❤️🇧🇩
رات گئے ویسٹ انڈیز میں ٹیسٹ میچ جاری تھا اور پاکستان کی بیٹنگ ہو رہی تھی۔ اسی دوران کیمرہ بار بار ڈریسنگ روم کی طرف گیا، جہاں محمد رضوان قرآنِ مجید کی تلاوت میں مصروف نظر آئے۔ یہ منظر دیکھ کر ویسٹ انڈیز کے سابق لیجنڈ کرکٹر اور معروف کمنٹیٹر جیف ڈوجون نے اپنے ساتھی کمنٹیٹر این بشپ سے پوچھا:"محمد رضوان کیا پڑھ رہے ہیں؟"این بشپ نے جواب دیا"وہ اپنی مذہبی کتاب کا مطالعہ کر رہے ہیں۔این بشپ نے مزید کہا کہ یہی محمد رضوان کی خاص بات ہے کہ وہ دنیا کے کسی بھی میدان میں ہوں، کرکٹ کے ساتھ ساتھ اپنے دین سے بھی اپنی محبت کو ہمیشہ زندہ رکھتے ہیں۔ واقعی، یہ صرف ایک کرکٹر کی نہیں بلکہ ایک ایسے انسان کی خوبصورت مثال ہے جو اپنے کھیل پر بھی پوری توجہ رکھتا ہے اور اپنے رب سے تعلق کو بھی نہیں بھولتا۔
محمد رضوان کے لیے یہ یقیناً قابلِ فخر بات ہے۔ 🇵🇰❤️
اللہ تعالیٰ ہمیں بھی قرآنِ مجید سے سچی محبت اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 🤲
@ArifRetd دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جس میں میاں بیوی کو ایک دوسرے کا لباس کہا گیا ہے ماں باپ کا اپنا مقام ہے آپ اپنے مقام کو سمجھنے کی کوشش کریں اگر نہیں پتا تو پتہ کریں نا کے اس طرح کے بیان دیں
اس کمینے کا نام شفقت عباس ہے
اور یہ لعنتی اپنے آپ کو سجدے کرواتا ہے
اور یہ اپنے آپ کو عزت دار اور بااثر کہلواتا ہے
اللہ پاک کی رضا کیلئے اس معاملے میں کوئی ساتھ دے یا نہ دے میں اس کا اس وقت تک پیچھا کروں گا جب تک یہ اس کام سے توبہ نہیں کر لیتا
@ParvezBaig1055 یوتھیوں کا دماغی توازن پہلے دن سے ہی خراب ہے تب ہی تو ذہنی مریض کے پیچھے لگے اور ملک کو بھی تباہی کے دہانے تک پہنچایا اور اب ایک اور آ گئی ہے یوتھن سستی شہرت حاصل کرنے جب بھی کسی کو کچھ نہیں ملتا وہ اس طرح کی بات کر کے خبروں میں انا چاہتا ہے
@RukhsarH2O محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا امتی ہوں سب کومانتا ہوں چار یاروں کو بھی اور 5 تن پاک کو بھی ہر صحابی رسول کو ہر ولی کو کسی کا گستاخ نہیں ہوں الحمدللہ
مدینہ منورہ میں واقع جبلِ اُحد کا یہ تاریخی مقام غزوۂ اُحد کے عظیم اور ایمان افروز واقعات کی یاد تازہ کرتا ہے۔
روایات کے مطابق غزوۂ اُحد کے دوران جب نبی کریم ﷺ زخمی ہوئے تو آپ ﷺ نے اس پہاڑی علاقے میں کچھ وقت کے لیے پناہ لی اور آرام فرمایا۔ یہ وہ نازک لمحہ تھا جب شدید آزمائش کے باوجود رسول اللہ ﷺ نے صبر، استقامت اور اللہ تعالیٰ پر کامل توکل کی بے مثال مثال قائم کی۔
اس موقع پر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر رسول اللہ ﷺ کے گرد حفاظتی حصار قائم رکھا اور وفاداری و جانثاری کی ایسی مثالیں پیش کیں جو تاریخ اسلام کا روشن باب ہیں۔
سیرت اور تاریخِ اسلام کی معتبر کتابوں (جیسے الرحیق المختوم) کے مطابق، غزوۂ احد کے دوران جب یہ افواہ پھیلی کہ رسول اللہ ﷺ شہید ہو گئے ہیں، تو درحقیقت آپ ﷺ شدید زخمی ہوئے تھے
غزوۂ احد میں رسول اللہ ﷺ کا چہرہ مبارک زخمی ہوا اور دندانِ مبارک شہید ہوئے، حضرت طلحہ بن عبید اللہ اور دیگر صحابہ کرام آپ ﷺ کو اپنے کندھوں پر اٹھا کر جبلِ احد کے محفوظ پہاڑی حصے (غار) کی طرف لے کر گئے۔
احادیثِ مبارکہ میں جبلِ احد کی فضیلت واضح طور پر ملتی ہے۔ صحیح بخاری کی روایت کے مطابق آپ ﷺ نے فرمایا: "یہ احد پہاڑ ہے، یہ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں"
جبلِ اُحد کا یہ علاقہ آج بھی اسلامی تاریخ کے ایک نہایت اہم اور سبق آموز واقعے کا گواہ ہے۔ یہاں کی چٹانیں اور پہاڑ سیرتِ نبوی ﷺ کے ان یادگار لمحات کی خاموش داستان سناتے ہیں جنہوں نے امتِ مسلمہ کو صبر، ثابت قدمی اور اللہ پر بھروسے کا درس دیا۔
آج بھی دنیا بھر سے آنے والے زائرین اس مقام پر حاضر ہو کر غزوۂ اُحد کی قربانیوں، وفاداریوں اور ایمان افروز واقعات کو یاد کرتے ہیں اور اپنی روحانی وابستگی کو تازہ کرتے ہیں۔
#DiscoverPakistan
Disclaimer: Disclaimer: This content is based on traditional Islamic history and classical Seerah narratives.