سندھ نے ایک بات تو ثابت کر دی ہے کہ عوام اپریل ۲۰۲۲ سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹی۔ ۲�� ستمبر کو انشاءاللہ تاریخ رقم ہوگی! عمران خان کی صحت اور رہائی کے لیے انشاءاللہ پاکستان کے ہر کونے سے لوگ نکلیں گے۔
#ستمبر27_کی_کال_عوام_تیار
ستائیس تاریخ کو پانچ جگہ پر ہم کراچی کو بند کریں گے نوجوانو صرف پانچ دن آپ کراچی کو بند کر دیں یہ عمران خان کے پاؤں پکڑیں گے۔آپ نے نکلنا ہے پاکستان کو آزاد کرانا ہے ۔
کراچی کی 3 کروڑ آبادی تیس فیصد لوگ نکلیں 30 لاکھ لوگ بنتے ہیں ایک دفعہ نکل کے دکھادو ایک بار ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دکھاؤ۔ وزیراعلی سہیل آفریدی
@SohailAfridiISF
#ستمبر27_کی_کال_عوام_تیار
حماد اظہر کی گرفتاری کی وڈیو منظر عام پر آگئی۔ پنجاب کی پولیس اور فوج تین سالوں سے حماد کو ڈھونڈ رہے تھے بہت دفعہ قریب قریب معاملہ بھی ہوا بہت مشکل سے بچ نکلے۔
اب پھر ایسا کرتے ہیں فوج سے صلح کرلیتے ہیں۔ کیا ہرج ہے ، کیا فرق پڑتا ہے۔ آخر کو ملک بھی میرا ہے فوج بھی میری ہے۔ ہم فوج کو کورکمانڈر ہاوس کی دیواریں رنگ کروا دیتے ہیں۔ فوج کے جو مجسمے ٹوٹے وہ ٹھیک کردیتے ہیں اور جو کوئی گاڑیوں کے شیشے وغیرہ ٹوٹے ہیں وہ نئے لگوا دیتے ہیں۔ فوج نے جو نومئی کو لوگ مارے ، چھبیس نومبر کو مارے وہ واپس کردیں۔ جن لوگوں پر جھوٹے مقدمات بنا کر انہیں جیلوں میں ڈالا انکو ہرجانے ادا کریں۔ جنکے گھر توڑے وہ گھر ٹھیک کروا دیں۔ یہ تو ہوگیا فوج اور تحریک انصاف کا معاملہ۔ پھر فوج اور علیحدگی پسندوں کی صلاح کن شرائط پر ہوگی۔ وزیرستان سے فوج کی واپسی کیسے ہوگی؟ پھر جو ملکی خزانے کو نقصان پہنچایا۔ جو بار بار آئین توڑا؟ اس کا ہرجانہ ؟ پھر اسکے بعد سب ہنسی خوشی کیسے رہیں گے؟ کیا فوج بیرکوں میں جانے کےلیے تیار ہے؟ نہیں ؟ اچھا سوری۔ یہ جنگ ابھی لمبی چلے گی۔
ڈی جی آئ ایس پی آر صاحب!
یہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا کہ میں نے سوال آپ پر اٹھایا ہو اور جواب مجھے دوسری جانب سے ملا ہو۔ اپریل ۲۰۲۳ میں بھی یونہی آپ پر سوال اٹھانے کا جواب مجھے میرے گاؤں میرے لوگوں کو لہولہان کرکے ملا تھا اور آج پھر کبل سوات میں ہونے والے امن پاسون پر حملے اور امن کا سفید جھنڈا لی کر نکلنے والے ہمارے معصوم شہریوں کو لہولہان کیا گیا ہے۔
امن پاسون کا اعلان ہوتے ہی امن تحریک کے پرانے ساتھی اور اولسی پاسون کے خلاف جو کریک ڈاون ہوا اس سے واضح تھا کہ امن کے نام سے کس کو نفرت ہے۔ آج کے امن پاسون کو روکنے کی کوشش ناکام ہوئی تو دھماکہ کروایا گیا۔ اس کا ایک ہی مقصد ہے کہ جو قوم میڈ ا�� دہشت گردی کی کئی کوششوں کو ناکام بنا کر اپنا امن قائم کر چکی ہے اس دفعہ ان کے اجتماعات پر دھماکے اور فائرنگ سے خوف پیدا کرکے اپنے مذموم مقاصد حاصل کیے جائیں۔
کئی دفعہ مالاکنڈ سے ریاست کی چھتری تلے دہشت گردوں کو بسانے کی کوشش کو ہم نے ناکام بنایا۔ پچھلے سال سے پھر کوشش جاری تھی اور کچھ عرصہ قبل میں نے پوری تفصیل بیان کی کہ بیس دہشت گردوں کی سوات، پندرہ شانگلہ، دس بونیر اور اس طرح دیر تشکیل ہوگئی ہے۔ سات مہینے پہلے پختونخواہ حکومت کو بھی آگاہ کیا۔ کتاب میں ان کو باجوڑ سے روٹ لگا کر لے جانے اور پھیلانے کی پوری تفصیل لکھ دی۔ سوات میں پرسوں جو خیبر پختونخواہ پولیس کے ج��انوں کی شہادتیں ہوئی ہیں اس واقعے کی تفصیلات اتنی خطرناک ہیں کہ متعلقہ لوگ سب جانتے ہوئے بھی خاموش ہیں کہ ”گیم بڑی لگ رہی ہے کچھ کہیں گے تو مارے جائینگے“۔ مارے جانے کا ساماں تو ریاست کر چکی ہے بس فیصلہ یہ کرنا ہے آپ نے کہ پھر سے بے گھر ہونا ہے، ایک ایک کر کے نشانہ بننا ہے یا اسی طرح ان کو نکال باہر کرنا ہے جس طرح ہم پہلے کئی بار کر چکے ہیں۔ جنوبی اضلاع میں پولیس نے کھل کر اس ڈبل گیم پر اعتراض اٹھایا سوات اور مالاکنڈ پولیس سے گزارش ہے کہ پردہ پوشی چھوڑیں، دیکھ لیجئے آج پھر آپ نشانہ بن گئے۔کھل کر پچھلی دفعہ ڈی ایس پی کو گولی لگنے اور پھر مٹہ کے پہاڑوں میں پولیس کے اغوا کی کہانی قوم کے سامنے رکھیں۔ ۲۰۲۳ میں کبل سی ٹی ڈی پولیس لائن پر ہونے والے حملے کی حقیقت قوم کے سامنے رکھیں جس کو شارت سرکٹ کہہ کر دبایا جارہا ��ھا۔ پرسوں جو شہادت ہوئی جس کا ذکر آپ نے بند کمرے میں کیا قوم کے سامنے وہ حقیقت رکھیں ورنہ یونہی فرنٹ لائن پر رہتے ہوئے جنازے اٹھاتے رہیں گے۔ اداروں کے کہنے پر امن کی آوازوں کو حراساں کرنے کا سلسلہ روکیں کیونکہ ان کی پالیسی تو بدل جائے گی بے گھر ہم نے ہونا ہے۔ قیمت ہم نے ��ل کر ادا کرنی ہے۔ سوال پوچھیں کہ آخر یہ چھپن چھپائی یہ لانا، بسانا، جنازے اٹھانا اس سے کونسا ملک کا مقصد حاصل ہو رہا ہے جس کی ہمیں سمجھ نہیں۔ جھوٹ بولنے اور ہمارے جنازوں کے اعداد و شمار دکھانے کی بجائے ایک دفعہ سچ پر مبنی بریفنگ دے کر اپنی پالیسی بدلیں۔ اور کان کھول کر سن لیں کہ آج کا یہ ترقی یافتہ مالاکنڈ ریجن یہ سیاحت ترقی اور امن کا گہواہ مالاکنڈ ہم نے ۲۰۱۳ کے بعد سے اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے اور کسی کو اس کا امن تباہ نہیں کرنے دیں گے چاہے وہ آنے والے ہوں یا لانے والے!
ہنگامی صورتحال 🚨
جیسے اسداللہ خان والی خبر فوج کی مرضی سے باہر نکلی تھی اسی طرح صدیق جان بھی فوج کی مرضی سے خبر دے رہا ہے کہ عمران خان کا بلڈ پریشر اتنا بڑھ گیا کہ ہسپتال لانا پڑا ورنہ یہ وہی صدیق جان ہے جس نے چھبیس نومبر کے بعد اپنا یوٹیوب ہی بند کردیا تھا ک�� سختی بہت ہے۔
عمران خان کی آنکھ کا مسئلہ بنا خبر باہر آئی کارکنان نے ردعمل دیا اٹک و خوشحال گڑھ پل بند کردیا ۔ سہیل آفریدی اور تحریک انصاف کے رہنما پختونخواہ ہاوس خودساختہ محصور ہوگئے۔ اب بلڈ پریشر کے سبب ہسپتال جانے کی خبر آئی ہے۔ نا تو کارکنان پل بند کریں گے نا سہیل آفریدی کے محصور ہونے کی نوبت آئے گی۔ اگلی خبر کا کنفرم نہیں اس سے اگلی کنفرم خدانخواستہ والی آئے گی۔ اب آپ پیٹرن دیکھیں۔
ردعمل ایسے ہی کنٹرول کیا جاتا ہے۔ پانی ایسے ہی ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔ جیسے عمر ایوب کو استعمال کرکے فوج نے آٹھ فروری کو کسی بھی قسم کے احتجاج کا رستہ بند کیا۔ پھر ایک لانگ مارچ ملتوی کروا کر ٹیمپو توڑا ، پھر دوسرے کی دفعہ علی امین سے بارہ ضلعے پار کروائے۔ تیسری دفعہ تک کمزور سا لانگ مارچ تشدد اور قتل عام سے منتشر کردیا۔ پیٹرن دیکھیں۔ ایک جیسا پیٹرن۔
مزید مثال سنیں۔ عمران خان کو پہلی مرتبہ دو ہفتے کے لیے قید تنہائی میں ڈالا۔ پھر کچھ وقت کے بعد مہینے بھر کے لیے۔ پھر اسکے بعد چھ مہینے ہوگئے عمران خان کی متعلق کوئی بھی خبر باہر آئے ہوئے۔ آٹھ ��ہینے ہوگئے بہن سے ملاقات کیے ہوئے۔ یہی پیٹرن ہے۔ ہر جگہ ایک ہی پیٹرن۔
اب صدیق جان کی خبر درست ہے یا غلط اس کا فیصلہ عمران خان کی اپنی بہنوں سے ملاقات کے بعد ہوگا۔ اگر تحریک انصاف کی قیادت اور پختونخواہ حکومت میں رتی برابر بھی غیرت موجود ہے تو کچھ نا کچھ ردعمل دے دیں۔ عمران خان کی قید تنہائی ختم کروا لیں اسے ہسپتال منت��ل کروا لیں ورنہ اگلی خبر کا تو علم نہیں اس سے اگلی نہایت خطرناک ہوگی۔
نوٹ ؛ یہ کوئی مخصوص ذہن سازی نہیں ہے یہ خطرے کی نشاندہی ہے۔
ملک میں انقلاب لانا بھلے ہی عوام کی ذمہ داری سہی ، جیل میں قسطوں میں مرتے ہوئے عمران خان کی ذمہ داری تحریک انصاف کی قیادت اور پختونخواہ حکومت پر ہی ہے جو اسکے نام پر عہدوں اور اسمبلیوں میں بیٹھے ہیں۔
Dear @TeamYouTube@YouTube@Google my YouTube channel was demonetized after my Google AdSense account was closed. I believe this decision may have been made in error, and I respectfully request a manual review of my case.
This is my first and only YouTube channel, and my first and only Google AdSense account. All of the personal information associated with these accounts belongs to me.
To the best of my knowledge, I have never intentionally violated YouTube or Google AdSense policies. I have spent years creating original educational content and have always tried to comply with the platform's guidelines.
If I have unknowingly made a mistake at any point, I sincerely apologize. It was never intentional, and I would be truly grateful for the opportunity to correct it. I kindly ask for one chance and a fair human review of my case.
I submitted an appeal some time ago and have been patiently waiting, but I have not yet received any response or update. I would sincerely appreciate the opportunity for my case to be reviewed by a human.
Thankyou.
جنید اکبر کو عمران خان نے پیغام بھیجا تھا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی سے باہر نکلو اور تنظم سازی پر سارا فوکس کرو،اور پھر تحریک چلاؤ۔
سہیل آفریدی کو آخری پیغام عمران خان نے بھیجا تھا کہ وہ سٹریٹ مومنٹ شروع کرے اور پھر سڑکوں پر ائے۔
اب دوبارہ ہماری ملاقات ہوتی ہے تو عمران خان اس کے علاوہ اور کیا کہیں گے؟وہ تو کہہ چکے ہیں سڑکوں پر او۔
علیمہ خان
سب سے پہلا سوال کیا عمران خان ایسی کسی کانفرنس میں شرکت کرلیتا ان چوروں کے ساتھ اسٹیج شئیر کرلیتا جن کے ساتھ سہیل آفریدی نے کیا؟
ہرگز نہیں !
سہیل آفریدی اور تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی صرف اس سسٹم کو لیجٹمیسی دے رہے ہیں۔ بدلے میں مراعات ، تنخواہیں اور ٹی اے ڈی اے لے رہے ہیں۔
پھر اس شخص کا مہمان بننا جو تحریک انصاف ، عمران خان، آئین پاکستان ، اور پاکستان کے غریب پر گرنے والی سبھی تلواروں کا سہولت کار ہے ، ایک اور بری موو تھی۔
پھر سہیل آفریدی کی تقریر نہایت ہلکی اور بے وزن تھی۔ یہ وہ موقع تھا جہاں سہیل آفریدی سامنے بیٹھے سامعین کو انکی مینڈیٹ چوری یاد کرواتا ، عدلیہ کو انکی فوج کی سہولت کاری کا بتاتا اور پھر عمران خان سے متعلق عوامی جذبات کا اظہار کرتا۔ لیکن سہیل آفریدی نے بہایت تھکی ہوئی تقریر کی اورسب سے سستا اسٹنٹ مریم بی بی کی تقریر پر ادھر ادھر دیکھنا تھا۔ اگر وہ اس قدر ناپسند ہے تو یہاں آئے کیا لینے تھے؟
عمران خان کو اکیلا کردیا گیا ہے۔ معلوم نہیں اسکی طبیعت کیسی ہے اور یہ بھی معلوم نہیں کہ باہر کی صورتحال کس طرح توڑ مروڑ کر اس تک پہنچائی جاتی ہو ، شاید اس کے اعصاب کو توڑا جا رہا ہو ، شاید اسے ہر چیز سے بددل کیا جارہا ہو ، شاید اسے مایوس کیا جارہا ہو ، ایسے میں تحریک انصاف میں سب سے زیادہ اختیار سہیل آفریدی کے پاس ہے اور اسکی جانب سے خاموشی اورفوج کے کھڑے کیے گئے سسٹم کی حمایت اسکی بدترین ناکامی ہے۔
سوشل میڈیا پر دن پھرتے رہتے ہیں۔ اگر شدت کی لہر میں سہیل آفریدی کو احساس ہوگا کہ اس نے کیا کھو دیا ہے۔
جہاز خریدا ہے بھئی
گندی ویڈیوز سے بلیک میل کیا ہے بھئی
الیکشن مینڈیٹ چھینا ہے بھئی
فوج سے ڈیل کی ہے بھئی
جعلی میڈیکل رپورٹس بنائی ہیں بھئی
اثاثوں کی منی ٹریل نہیں ہے بھئی
مشرف سے بھی ڈیل کی تھی بھئی
یاسمین راشد سے ہارے ہیں بھئی
مہر شرافت سے ہارے ہیں بھئی
سیٹیں سترہ ہی ہیں بھئی
ہم ایک ملاقات نہیں ہم چاہتے ہیں عمران خان کے سارے حقوق بحال کریں یہ ایک ملاقات کراکے پھر چھ مہینے کے لئے قید تنہائی میں ڈال دیں گے، ان کی ملاقاتیں بحال ہوں ان کا ہسپتال میں علاج ہو ، ان کا ٹی وی ان کی اخبار کتابیں تمام حقوق بحال کیے جائیں ان کی قید تنہائی ختم کی جائے۔ علیمہ خان
علیمہ خانم اور انکی بہنیں نا ہوتیں تو ابھی تک فوج نے عمران خان کے پیغامات کی بھرمار کررکھی ہوتی ، بیرسٹر سیف اور بیرسٹر گوہر جیل سے آکر بتایا کرتے کہ عمران خان نے عاصم منیر سے معافی مانگی ہے۔ سہیل آفریدی جیل سے آکر کہتا عمران خان خوش و خرم ہیں۔
علیمہ خان کی اپیل 🚨
میں عوام سے کہتی ہوں کہ اگر عمران خان کی زندگی کو بچانا ہے تو گھروں سے باہر نکل آئیں
اگر سپریم کورٹ انصاف نہیں د��تا تو پا��ٹی سے اور پورے پاکستان سے کہتے ہیں احتجاج کے لئے باہر نکل آئیں
کچھ عرصہ پہلے پاک فوج کے افسران تعلیمی اداروں میں بیانیہ سازی کرنے جایا کرتے تھے۔ ایک نشست کا احوال ایک دوست نے بھیجا۔ ایک یونیورسٹی میں ایک میجر جنرل صاحب کو چند طلباء نے کشمیر پر زچ کیا تو فرمایا کشمیر کی آزادی کی جنگ کشمیریوں نے خود لڑنی ہے۔ کاش اب دوبارہ بیانیہ سازی کا سلسلہ شروع ہوجائے تو جنرل صاحب کسی یونیورسٹی میں جاکر بتا سکیں کہ کشمیریوں کی آزادی کی جنگ تو وہ خود لڑیں گے لیکن انکی بارہ نشستوں پر لڑنے اور مارنے کے لیے ہم تیار ہیں ۔