مشہور و معروف صحافی مہدی حسن ، قاسم اور سلیمان کو ایک سچا واقعہ سنا رہے ہیں۔
مہدی حسن: "یہ سچی کہانی ہے… میں یہاں لندن میں تھا، میں نے اسٹوڈیو آنے کے لیے اوبر (Uber) ٹیکسی لی۔ ڈرائیور نے گاڑی روکی اور مجھے دیکھ کر کہا، 'اوہ، آپ مہدی حسن ہیں! مجھے آپ کا کام بہت پسند ہے۔' میں نے کہا، 'بہت بہت شکریہ، آپ کہاں سے ہیں؟' اس نے کہا، 'پاکستان سے۔' میں نے پوچھا، 'آپ عمران خان کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟ کیا آپ ان کے مداح ہیں؟'
اس نے کہا، 'سر! میں ان کے لیے اپنی جان بھی دے سکتا ہوں…' اور اتنا کہتے ہی اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
قسم سے، اوبر میں میرے ساتھ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا! میں نے سوچا کہ واہ، لوگ آپ کے والد (عمران خان) سے کس حد تک محبت کرتے ہیں۔"
ہر کوئی خان صاحب سے جڑا ایک قصہ سنا رہا ہے۔ کچھ تو ہے اس میں
جوس بٹلرJos Buttler : (سرگوشی میں) "عمران خان کا ریکارڈ بہت شاندار ہے یار۔"
اسٹیورٹ براڈ: "واقعی بہت زبردست ہے، ہے نا؟ تمہیں یہ بات سرگوشی میں کہنے کی ضرورت نہیں ہے!"
جوس بٹلر: "بس یونہی اونچی آواز میں سوچ رہا تھا۔"
ساری دنیا ہی خان کی دیوانی ہوئی پڑی ہے 😍
ہر دور میں اللہ نے خان کو عزت دولت شہرت رتبہ اور بےپناہ محبت دی ہے۔
سنیں یہ بےحد دلچسپ لائیو مکالمہ
نادیہ (ہوسٹ): السلام علیکم نادیہ!
شمیلہ (کالر): وعلیکم السلام!
نادیہ: کیسی ہیں شمیلہ؟
شمیلہ: الحمدللہ، بالکل ٹھیک! میں عمران خان سے بات کرنا چاہ رہی تھی۔ روز کے سیاسی سوال جواب سے ہٹ کر میں ایک معصوم سا واقعہ سنانا چاہتی ہوں۔
شمیلہ: جب میں شیخوپورہ میں نویں جماعت میں پڑھتی تھی، تب یہ ہمارے سکول آئے تھے۔ ہم تین سہیلیوں کی شرط لگی کہ عمران بھائی کو ہاتھ لگا کر دکھاؤ۔
نادیہ: پھر کیا ہوا؟
شمیلہ: میری وہ سہیلی بہت تیز طرار تھی اور کسی کے قابو نہیں آتی تھی۔ لیکن جیسے ہی عمران بھائی سڑک سے گزرے، اس نے صرف ان کی قمیض کو ایک انگلی لگائی اور یوں نروس ہوئی جیسے اسے ہارٹ اٹیک آ گیا ہو! ہم سب ان کی زبردست شخصیت دیکھ کر دنگ رہ گئے تھے۔
شمیلہ: لوگ ہیرو کی باتیں کرتے ہیں، لیکن ہم خواتین کے لیے پاکستان میں ان سے بڑا کوئی ہیرو نہیں ہے۔
نادیہ: کرکٹر کے طور پر یا سیاستدان کے طور پر بھی؟
شمیلہ: بالکل، سیاستدان کے طور پر بھی! کل ہی میری اپنے میاں سے بحث ہو رہی تھی کہ اگر انہوں نے عمران خان کے بارے میں کچھ منفی کہا تو آج میرا ان سے جھگڑا ہو جائے گا۔
نادیہ: او ہو ہو! یہ دیکھئے!
شمیلہ: آپ اگلی بار شیخوپورہ سے بھی الیکشن لڑیں۔
عمران خان: شیخوپورہ سے تو نہیں، لیکن یہ خواتین ہمارا سب سے بڑا ووٹ بینک ہیں اور انشاءاللہ ہم ان کی صحیح معنوں میں نمائندگی کریں گے۔
شوبھنکر مشرا کا سوال: "1992 کا ہیرو آج اکیلا کیوں؟" — عمران خان کی تاریخ مٹانے پر سخت تنقید
جس انسان نے ملک کو ورلڈ کپ دیا اور پوری قوم کو آگے بڑھنے کا راستہ دکھایا، آج اسی کی شناخت اور تاریخ کو مٹانے کی کوشش کیوں؟
ورلڈ کپ سے سیاست تک، جس کی قیادت کی دنیا معترف رہی، آج اسی کا نام لینے سے ڈر کیوں؟
کیا اپنے ہی ہیروز کی تاریخ مٹانا درست ہے؟
محمدشامی کے معاملے پر نصیحتیں کرنے والے، اپنے کرکٹ ہیرو اور سابق وزیراعظم کے حق میں بولنے سے کیوں کتراتے ہیں؟
اصل خوف کس بات کا ہے؟