@fawadchaudhry Parliament main Zardai aor shreef bethay hain aor phir ap jesay....
Agr islam ki kisi ne tashreeh ker di too ap subko phansi ho jaye gi.... 😀
@fawadchaudhry Parliament Agr islamic ho too aesa mumkin ha. Jis parliament , Sharabi , zinaai , Dakoo , Chor , corrupt hu , wo islam ki tashreeh kesay ker skty ? Ap b apni Qabar aor Akhirat ka aik dafa soch lo ...
محسن نقوی نے جب سینیٹ کا الیکشن لڑا تو انہوں نے دبئی کا اپارٹمنٹ ڈیکلیئر نہیں کیا تھا جو کہ ڈیکلیئر کرنا ضروری تھا اب اگر کوئی انہیں پھنسانا چاہے تو اس پہ انہیں پھنسا سکتا ہے ! ضرار کھوڑو ۔۔
صرف امیروں کے گھروں پر بات کی؟
جو یہ کہتے ہیں وہ یہ دیکھیں ہمارا کام 👇
مُحسن نقوی کے انڈر سی ڈی اے اسلام آباد میں غریبوں کے ساتھ جو کر رہا تھا سُنیں ۔ دل سے
9 اگست 2025
ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو ، کہانی کے پیچھے کی کہانی
مُحسن نقوی فیض حمید کے راستے پر
زرداری کا منہ بولا بیٹا اور حافظ صاحب کا بیسٹ فرینڈ محسن نقوی حافظ صاحب اور حکومت کے جوڑوں میں بیٹھے گا
محسن نقوی Twin towers کی ۸۰ کنال زمین اپنے لاہور کے ایک کاروباری دوست کو دلانا چاہتا ہے لیکن موجودہ مالک قیمت زیادہ مانگ رہا ہے جس وجہ سے ڈیل نہیں ہو رہی جبکہ محسن نقوی رینجرز اور عدلیہ کا استعمال حافظ صاحب کے نام پر کر رہا ہے
سینئر صحافی ابصار عالم کا دعوی
حافظ صاحب منجھی تھلے ڈانگ پھیرو 🙏
اسلام آباد کو کنکریٹ، انڈرپاسوں، ناکوں کا گرے جنگل کیوں بنایا جا رہا ہے؟؟؟ اس شہر کی خوبصورتی، ہرے بھرے سبزے، مارگلہ پہاڑیوں کو کیوں برباد کیا جا رہا ہے؟؟؟ کراچی اور لاہور کی بربادی کیا کم نہیں تھی۔ یوں تو تمام حکومتوں کے climate change پر بھاشن اعلی درجے کے ہوتے ہیں لیکن ناک کے نیچے شہروں کو برباد کیا جا رہا ہے۔ کوئٹہ والوں نے جس اذیت سے ناکے ختم کروائے، اب وہاں سے اٹھوا کر اسلام آباد میں لگوا دیے گئے ہیں جن کا نہ کوئی فائدہ، صرف عوام کو اذیت۔ بڑی اور ملٹی لین شاہراہوں کا مقصد ہی الٹا کر کے رکھ دیا گیا ہے اوپر سے so-called development کے نام پر سڑکوں کو بند کر کے محض 5/10 منٹ کے راستے کو 30/40 منٹ کا راستہ بنا دیا گیا ہے جس سے ظاہر ہے فیول کی کھپت بھی زیادہ ہی ہو رہی ہے۔ اس شہر کے فیصلہ سازوں کو اعلی ایوارڈ دینا چاہئیے !
Come on @realDonaldTrump, don't fall for the fake narrative of Netanyahu. Iran poses NO threat to the US. This is your best chance of winning a nobel prize. Don't miss it. Sign the peace deal. This will be the greatest legacy you will leave behind #IsamabadTalks2@AJEnglish@araghchi@nytimes@BernieSanders
بریکنگ🚨
روس نے عرب رہنماؤں کو تھپڑ مار دیا۔
جب عرب سفیروں نے لاوروف سے کہا کہ "ایران کو روکو" تو اس نے جواب دیا: "کیا آپ نے امریکہ اور اسرائیل کی مذمت کی ہے؟ مثال کے طور پر، کیا آپ نے 170 سکول کی طالبات کی ہلاکت کی مذمت کی ہے؟
اب پاکستان کہاں سے دو کبوتر لائے ؟
کل سے ایرانی فوجی قیادت اور یونیورسٹیز پروفیسر دھیرے دھیرے پاکستان کے حوالے سے سخت لہجہ اپنا رہے ہیں۔
ایرانی وزیرخارجہ کی اہمیت پاکستان دورے اور امریکن مزاکرات کے بعد کم ہو رہی ہے۔ان کے ہرموز کھولنے کے ٹوئٹ کو ان کی آرمی نے مسترد کر کے بند کر دیا ہے۔
اب سپیکر باقر صاحب ان ہارڈ لائن فورسز کے لیے اہم ہورہے ہیں جو امریکہ کے ساتھ معاہدے پر تیار نہیں جس کےبارے ایرانی وزیرخارجہ کا کہنا تھا بس اسلام آباد میں ہوتے ہوتے رہ گیا تھا۔
ایک ایرانی یونیورسٹی کے پروفیسر کو سن رہا تھا۔ان کا کہنا تھا ان حالات میں ایرانی وزیرخارجہ یا سپیکر پاکستان نہیں جائیں گے اور اگرگئے تو اپنا سیاسی مستقبل تباہ کر بیٹھیں گے اور وہ یہ رسک نہیں لیں گے۔
ایرانیوں کو لگتا ہے اسلام آباد میں ہونے والے مزاکرات میں شاید وہ کچھ زیادہ ہی دینے پر تیار ہوگئے تھے لہذا واپس جاتے ہی اپنی پوزیشن سخت کر لی جس پر فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیرکو تہران جانا پڑا۔
جنرل عاصم منیر کی وزٹ کو ایران سمجھتا ہے امریکہ کو bail out کرنے کے لیے ہے نہ کہ ایران کا مفاد دیکھا جارہا ہے۔ ایران کے ایک دانشور کو سنا ت�� انہوں نے جنرل عاصم کو سیدھا امریکہ کا بندہ کہہ کرکہہ دیا کہ زرا خیال رکھیں سب بات ان کی نہ مان لیں۔
ایک اور ایرانی ماہر علاقائی امو کا کہنا ہے اب ہم امارت اور قطر کی سرزمین اتنی گرم کر دیں گے کہ وہاں کوئی رہنے کے قابل نہیں رہے گا۔
دوبئی اور قطر کو برباد کرنے کی دھمکیاں دینے کے ساتھ ہی انہوں نے کہا پلٹا کھایا اور کہاہاں اگر اس دوران پاکستان نے اپنی ٹوپی سے کوئی کبوتر نکال لیا تو پھر امن ہوسکتا ہے۔مطلب اگر پاکستان نے ہماری شرائط پر امریکہ سے ڈیل کرا دی ورنہ قطر دوبئی کی خیر نہیں۔
ادھر امریکہ بھی پاکستان پر بھروسہ کیے بیٹھا ہے وہ ایرانیوں کو سمجھا کر ہماری ڈیل کرائے گا جو ہوتے ہوتے رک گئی ہے۔امریکہ بھی پاکستان سے کہہ رہا ہے کہ تم کبوتر ڈھونڈ کر اپنی ٹوپی سے نکالو۔ معجزہ دکھائو۔ورنہ ایران کی خیر نہیں۔
شاید اس لیے تین چار ہفتے تک دنیا کا کوئی ملک ایران اور امریکہ کی صلح صفائی کے لیے درمیان میں آنے کو تیار نہیں ہو رہا تھا کہ دونوں پارٹیوں کا قومی فخر اور ملکی غرور اتنا بڑا ہےتیسرا ملک ان کی انا کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔
اس لیے سڑک پر دو لوگوں میں لڑائی ہورہی تو لوگ انہیں چھڑانے کی بجائے موبائل کیمرہ نکال کر ویڈیو بنا کرسوشل میڈیا پرڈال دیتے ہیں۔کوئی ڈوب رہا ہو تو بھی ویڈیو بناتے ہیں۔بچانے کی کوشش نہیں کرتے۔
اکثردیکھا گیا ہےلڑنے وال ایک مرحلے پر تھک ہار کر لڑتے بھی جاتے ہیں اور راہگیروں کو بے بس نظروں سے دیکھتے ہیں بھائی چھڑا لو۔خود لڑائی بند نہیں کریں گے کیونکہ ان کی انا انہیں لڑاتی رہتی ہے۔
وہ چاہتے ہیں تیسرا بندہ آئے اور وہ اس کے کندھوں پر ڈال دیں اگر تم نہ چھڑاتے تو آج میں نے اس بندے کا حشر نشر کر دینا تھا۔جب چھڑایا جاتا ہے تو بھی دونوں ایک دوسرے کو گھوریاں ڈال کر دھمکیاں دے رہے ہوتے ہیں لیکن اندر سے نڈھال کھڑے ہوتے ہیں اور پانی مانگ رہے ہوتے ہیں۔
جو چھڑاتا ہے اس پر بوجھ پڑتا ہے اب ہمارا فیصلہ بھی تم کرائو۔ تم نے ہمیں چھڑایا ہی کیوں تھا اگر ہمارا فیصلہ نہیں کرنا تھا؟یوں وہ بندہ اخلاقی دبائو کا شکار ہو کر کوشش شروع کرتا ہے کہ ان کی صلح ہو جائے۔
دونوں جو سڑک لڑائی میں حاصل نہیں کرسکے تھے وہ اب چھڑانے والے سے چاہتے ہیں وہ انہیں مخالف سے لے کر دے۔دوبارہ لڑنے کی دھمکیاں بھی دیتے جاتے ہیں تاکہ چھڑانے والے پر دبائو بڑھایا جائے۔
لگتا ہے امریکہ اور ایران پاکستان کے ساتھ یہی کررہے ہیں ہمیں چھڑایا کیوں تھا۔اب ہماری مر��ی کی ڈیل لے کر دو۔
امریکن بھی پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ تم نے سیز فائر کرائی تھی تو اب اپنی ٹوپی سے کبوتر نکالو اور ایرانی کہہ رہے ہیں کہ ہم نے آپ کی بات ماننی بھی نہیں ہے لیکن آپ کبوتر ٹوپی سے نکال کر مسلہ حل کرائیں۔
امریکہ اور ایران دونوں دھمکیاں بھی دے رہے ہیں اور پاکستان کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھ بھی رہے ہیں یار جلدی کرو اکیس اپریل سے پہلے اپنی سفارتی ٹوپی سے کوئی کبوتر نکال کر دکھائو۔۔ہم خود لچک نہیں دکھائیں گے۔ہماری تو عزت دائو پر لگی ہوئی ہے۔تم ہی کوئی معجزہ دکھائو ۔۔
اب پاکستان کیا معجزہ دکھا سکتا ہے جب ایک ملک خود کو سپر پاور سمجھتا ہے جسے اپنی برتری اور طاقت کا زعم ہے تو دوسرا ملک اپنی ہزاروں سال کی تاریخ کا حوالہ دے کر خود کو بہادر قوم سمجھتا ہے کہ ایک قدم پیچھے ہٹے تو دنیا میں بدنامی ہوگی۔
اب پاکستان کہاں سے دو سفید کبوتر اپنی ٹوپی سے نکال کر امریکہ اور ایران کو ایک ایک پکڑا دے تاکہ ان کی قومی انا اور ملکی غرور قائم و دائم رہے ورنہ سارا قصور اس کا ہے جو انہیں سڑک پر چھڑانے آیا تھا۔
تحریر/رئوف کلاسرا
Hypocrisy of western media on full display. Everyone talking about how the Iranians first said they are opening hormuz and then closing it. Conveniently skipping the part that after thanking Iran for opening the straits, Trump announced that US blockade of hormuz will continue!!
اس حکومت کا بنیادی مسئلہ اس کی ھئیت میں عوام کی توہین ہے، مہمانوں کی سیکیورٹی کے نام پر اسلام آباد کی انتظامیہ جو اپنے عوام کے ساتھ کر رہی ہے اس کی جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے ، راتوں کو ہاسٹلز سے نکال دو، کاروبار بند کر دو کچی بستیوں کو گرا دو، لوگوں کو بے گھر کر دوق، پولیس مقابلے، بے گناہ گرفتاریاں سیاسی کارکنان اور لیڈرشپ کی توہین یہ ملک میں ایک روٹین بن گیا ہے۔ عالمی سطح پر نیک نامی جب تک اپنے لوگوں کی عزت میں نہیں بدلتی ہر کامیابی ادھوری ہے اور رہے گی! رہے گا نام اللہ کا اور رہے گی عوام۔۔۔ باقی سب ایونٹس ہیں ہوں گے پھر اگلا دن۔۔