بلوچ قوم کے مسائل اسمبلی کی نئی عمارت کے تعمیر سے حل نہیں ہوں گے ، بلکہ اصل ضرورت ریاستی اعتماد کی بحالی (Restoring State Trust) ،سیاسی مکالمے، تاریخی قومی حقوق یعنی "حقِ حکمرانی ، وسائل پہ دسترس” کا ہے .
ہم ایران اور امریکہ کے درمیان سفارتی عمل اور مذاکرات کی حمایت کرتے ہیں، لیکن ثالثی کرنے والے کو یہ ذمہ داری بھی اٹھانی ہوگی کہ وہ اس تنازع میں زیادتی کرنے والے کا تعین کرے! امن صرف جنگ بندی سے نہیں بلکہ انصاف سے قائم ہوتا ہے۔
“On World Health Day, we must remember: the mental stability of a superpower’s ruler is not just a domestic issue—it shapes the health and stability of the entire planet.”
Pakistan missiles ‘significant threat’ to US: Gabbard - Pakistan - https://t.co/MDj6XD6zfc
🛑Henry Kissinger said “ It may be dangerous to be America’s enemy, but to be America’s friend is fatal”🛑 https://t.co/1gvAMvIEKX
ہم مستونگ کو قلات ڈویژن سے علیحدہ کرنے کے فیصلے کو قطعی طور پر مسترد کرتے ہیں۔ مستونگ تاریخی طور پر ریاستِ قلات کا ایک نہایت اہم اور مرکزی حصہ رہا ہے، جس کی سیاسی، ثقافتی اور انتظامی حیثیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس نوعیت کا فیصلہ نہ صرف تاریخ اور عوامی وابستگیوں سے متصادم ہے بلکہ عوامی مشاورت کے بغیر کیا گیا اقدام عوامی جذبات کو مجروح کرتا ہے۔
ہم واضح کرتے ہیں کہ ایسا فیصلہ عوام کے لیے قابلِ قبول نہیں ہوگا، اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس فیصلے پر فوری نظرِ ثانی کی جائے اور مقامی آبادی کی رائے کو مقدم رکھا جائے
ضلع کوئٹہ کے 1896ء کے مستند ریونیو ریکارڈ اس حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں کہ ہم رئیسانی بلوچ اُولس کی جدی پشتی جائیداد نو (9) مواضعات پر مشتمل ہے، اور ہم اس سرزمین کے قدیم باشندے ہیں، جن کے تاریخی حقوق ناقابلِ تردید ہیں ۔
Bulldozing of two tribal villages in District of Mustung—اسپلنجی & گونڈین—by the government is a deeply condemnable act that violates fundamental human rights, tramples long-standing tribal norms. This assault on homes and livelihoods represents not only physical destruction, but also a grave breach of the State’s duty to safeguard its citizens from undesirable LEA’s oppressive actions. Such actions undermine trust of citizens vs State.
سریاب میں بی این پی کے جلسہ میں بم دھماکا قابلء مذمت اور افسوسناک وا قعہ ہے! ، یہ پاکستان کا سوویت افغان جنگ میں بے جا مداخلت کا شاخسانہ ہے ۔ بلوچستان کا مسلہ سیاسی ہے بلوچ قومی حقوق کے معاملات بات چیت کے ذریعہ حل کیے جائیں ، بلوچستان اور پشتونخوا میں فوج کشی فوری بند کی جاے ، لاپتہ افراد کی بازیابی %100 ریاست پاکستان کی ذمہ داری ہے اس مسلہ کو فوری حل کیا جائے! بلوچ سیاسی اسیروں کو فوری رہا کیا جاے۔ پُر اَمن قومی جمہوری جہد جوحق حکرانی اور وسائل پے دسترس کے لیے ہے بلوچوں کا اتحاد اور قائدین کا متحد ہونا ضروری ہو گیا ہے۔
حکومت پاکستان سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے قائدین کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ لاپتہ افراد کی بازیابی اور اَغواہ کاروں کو بے نقاب کرنا صد در صد ریاست پاکستان کی ذمہ داری ہے !اس مسئلے کو انسانی اور آئینی بنیادوں پر حل کیا جائے۔ یہ مسئلہ محض کسی ایک تنظیم کا نہیں بلکہ پورے انسانیت اور بلوچ قوم کا مشترکہ دکھ ہے، جسے ہر باشعور بلوچ اپنی ذات کا مسئلہ سمجھتا ہے.
ہم اپنے بیٹے کے علاج کے وجہ سے کراچی میں تھے ، ہمیں مائنز اینڈ منرلز ایکٹ The Balochistan Mines and Minerals Act 2025 بل پیش کرنے کے لیے اعتماد میں نہیں لیا گیا ۔جمیعت کے رکن اسمبلی ماشکیل حاجی زابد علی خان ریکی سے ہم نے فون پہ بات کی انہوں نے ہمیں بتایا ان کی وزیر اعلیٰ ہاؤس میں میٹنگ ہوئ اُس کے بعد انہوں نے اسبلی میں بل پیش کیا ۔ یہ ایکٹ بلوچستان کے عوام کے مفادات کے خلاف ہے اسے بلوچ مخلوق قبول نہیں کریں گے ۔
لاپتہ افراد کے بازیابی کے لیے جو بھی تحریک چلائے گا ہم اُس کی حمایت کرتے ہیں کرتے رہیں گے ! ♨️ ۔ UN اور دوسرے Human Rights Organisationsسے اپیل کرتے ہیں کہ اس اہم انسانی مسلہ missing persons کو بازیاب کرنے کے لیے پاکستانی حکومت پہ اپنا اَثَر و رُسُوخ استعمال کریں ۔
چند لوگ معترض تھے کہ ہم لکپاس کے دھرنے میں موجود نہ تھے ،اس کی ضروری وضاحت کرنا چاہتے ہیں کہ ہمارے بیٹے میر یاد گار کا سال 2022 کو Agha Khan University Hospital میں تشخیص سے معلوم ہوا کہ اسے گلے کے cancer کا مرض لاحق ہے، 1st April 2022 کو میر یادگار کا 15 گھنٹہ کی surgery ہوئی ، اس دوران 2 چھوٹےsurgery اور بھی ہوے ،مرض کے علاج کے لیے radiation therapy بھی ہوتی رہی، اَب دوبارہ 2025 20th March کو 4th surgery ہوا جو 7 گھنٹے کی تھی، اس وجہ سے ہم بیٹے کے ساتھ کراچی میں ہیں۔ ♨️ سیاسی جدوجہد میں ہمارا واضح موقف رہا ہے کہ سب سے پہلے لاپتہ افراد کی بازیابی ، اِس کثیرالقومی فیڈریشن میں بلوچ اور یہاں بسنے والی قوموں کے قومی جمہوری حقوق کے پرُامن جد وجہد کی حمایت ! بلوچستان میں فوج کشی اور ریاستی جبر کے خلاف آواز بلند کی ہے !۔🍃 حالیہ لکپاس دھرنے کے سلسلہ میں ہم نے حاجی شکر خان بدوزئی اور آغا رضا شاہ کو سردار اَختر جان مینگل کے پاس پیغام کے ساتھ بھیجا تھا کہ اس long march لاپتہ افراد کی بازیابی اور BYC کے قائدین کی رہائی کے لیے دھرنے میں ہم آپ کی حمایت کرتے ہیں♨️ مستقبل میں بھی پاکستانی فیڈریشن میں قومی جمہوری حقوق کے جہد کی ہر اُس پُراَمن تحریک کی حمایت کریں گے جو حق حکمرانی اور وسائل پہ دسترس کی جدوجہد میں مصروف کار ہونگے🍃
حکومت نے BNPکے پُر اَمن long march کو روک کر بہت غلط کیا ، ایسا لگتا ہے حکومت جان بوجھ
کر بلوچ مخلوق کو ناراض کر رہی ہے.حکومت BYC اور BNP(m) کے کارکنوں کو فوری رہا کرے ۔ لاپتہ افراد کے بازیابی اور ناجائز گرفتاریوں کے خلاف پُر اَمن احتجاج اِن کا جمہوری حق ہے ۔