76 سال کی تاریخ میں پہلا سرکاری ملازم جس نے پروٹوکول نہیں لیا
پہلا سرکاری ملازم جو بلٹ پروف بی ایم ڈبلیو وغیرہ نہیں لی
پہلا سرکاری ملازم جس نے پلاٹ لینے سے انکار کیا
پہلا سرکاری ملازم جس نے قوم کے پیسے پر 20 لاکھ کا عشائیہ لینے سے انکار کیا
پہلا سرکاری ملازم وجج جس نے عملا ٹی وی پر لائیو کیس چلوا کر انصاف کیا
غرض یہ کہ آپکو پاکستان کے سارے کرپٹ سرکاری ملازم اسکی مخالفت کرتے نظر آئیں گے کیونکہ وہ یہ لوٹ کھسوٹ نہیں چھوڑ سکتے
منجی کا ترٹ گیا ہے پاؤا خبر
اور ناظرین قاضی عیسی کے بیٹے نے برطانیہ کی درسگاہ مڈل ٹیمپل میں پہلے پاکستانی بینچر کے طور پر منتخب ہو کر تاریخ رقم کردی ہے جبکہ ثاقب ناسور سے بندیال تک کے تمام چیف جسٹس صاحبان کو لی مارکیٹ کی دلا منڈی کا بینچر بھی منتخب نہیں کیا گیا
یہ ہے بنیادی فرق
الواداع قاضی فائر عیسی۔۔
جس تحمل اور صبر سے آپ نے ہر بونے شخص کو اپنا قد بڑھانے کے لئے انکی تنقید، طنز، دشنام طرازی اور ذاتی حملے برداشت کئے اور ہر قیمت پر آئین کو معتبر جانا آپ کا مقام سوشل میڈیا اور یوٹیوب سے پیسے کمانے والے گدھ نہیں بلکہ تاریخ طے کریں گی۔ میری نانی کہتی تھی کہ اس شخص سے ڈرنا چاہئے جو کسی بھی حال میں صبر کا دامن ہاتھ سے جانے نہیں دیتا بھلے ہی صاحب طاقت و اختیار ہوتا ہے۔ صبر سیرت محمد (ص)، اسماعیل (ع) ایوب(ع) ادریس اور ذوالکفیل (ع) ہے اور یہ قسمت والوں کو اللہ عطا کرتا ہے۔
ہم ان سب کا انجام دیکھیں گے جو آج آپکے خلاف سپر آزما ہے۔ بس خدا سے یہی دعا ہے کہ اس قوم کے سر سے جنرل فیض و ٹی ایل کو کھبی کم نہ کریں۔
آپ ایک گریسفل جج تھے ، آپ نے بگٹی قتل کیس کو کھولا جسکے سبب مشرف جسے آمر کا منطقی انجام ہوا، آپ نے بلوچستان امن و امان کا کیس اٹھایا جب بارود بھرا ٹرک بلوچستان ہائی کورٹ کے دیوار سے ٹکرانے تیار تھا، آپ نے بلوچستان وکلاء کمیشن کی سربراہی کی اور ذمہ داروں کا تعین کیا، آپ نے فیض آباد دھرنے کے ذمہ داروں کا تعین کیا جسکے نتجے میں ٹی ایل پی بنی اور بڑے بڑے نام نہاد ترقی پسند بھی آپکے خلاف کمپین کا حصہ بنیں، آپکے بلاسفمی کیس میں پھنسانے کی کوشش کی مگر آپ ہر مشکل سے نکل گئے۔ آپ نے ملک ریاض جیسے مافیاز کو پکڑا جسکے آگے بڑے بڑے قلمکار سربسجود ہے اور جنکے ضمیر گروی ہے۔ ہم خوش ہے کہ آپ آج عزت و وقار کے ساتھ ریٹائر ہو رہے ہے اور آپکے سچائی، ایمانداری کے ساتھ ریٹائر ہورہے ہے۔ جس آدمی کو بلوچستان ہائی کورٹ کے ایک ایک پھول کا حساب معلوم تھا کھبی کوئی ذی روح آج اس ہائی کورٹ کا چکر لگا کر دیکھ لیں معلوم پڑے گا کہ اب سب کچھ کیسے اجڑ چکا ہے۔
خیر آپ جہاں رہے سلامت رہیں، خوش رہے اور کامیاب رہیں۔۔۔ باقی حق اور باطل کا فیصلہ یوٹیوبرز نہیں تاریخ کرتی کی اور ابھی تاریخ کا لکھا ہونا باقی ہے۔
اگر سپریم کورٹ میں الزامات کے ثبوت نہ مانگے جا رہے ہوتے تو بہت سارے لوگ یہی سمجھتے کہ پی ٹی آئی سے بہت زیادتی ہو رہی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے ساتھ ابھی کچھ بھی نہیں ہو رہا۔ نو مئی کے حملوں اور دہشت گردی کے بعد یہ پارٹی صرف اور صرف کالعدم ہونے کی حقدار ہے۔