آ کہ پہاڑوں کی سن لو سدائیں
محسوس کر لو یہاں کی فضائیں
یہ ہے بلوچوں کی مسکن بلوچی
لے جاؤ ساتھ اپنے نیک دعائیں
بلوچستان! جس کا ہر پہاڑ باوقار
جس کے ساحل میں وسعت بے شمار
جو صرف زمین کا ٹکڑا نہیں میرے اجداد کا مان
سجدہ گاہِ وفا ہے میرا بلوچستان
@DeedeBaloch ہم نے تو بہت پہلے کہا تھا ہماری روایات میں بلوچ خواتین سڑکوں پر احتجاج نہیں کرتیں اور یہ جو بی وائی سی بنی ہے اسکا ٹارگٹ خواتین کو مسلح کرنا ہے
دو دن پہلے ہی پوسٹ کی تھی کہ اب دہشتگردی صرف زمین پر اپنی اجارہ داری یا کسی کو نقصان پہنچانے کیلئے نہیں بلکہ ذہنوں کو مفلوج کرنے کیلئے ہے۔
کیمرہ ایکشن بول کر ایسی درد بھری کہانی فلمائی جاتی ہے کہ دیکھنے والا صحیح اور غلط کا فیصلہ کئے بغیر اندھے جذبات میں بہہ جاتا ہے۔
اب اسی ویڈیو کو ہی دیکھ لیں جس میں بظاہر دکھایا گیا کہ ایک بوڑھی ماں داد دے رہی ہے اور ایک خاتون بندوق کی گولیاں دے رہی ہے۔
یعنی ویڈیو کے ایک حصے میں یہ دکھایا جا رہا کہ دہشتگردوں کیساتھ ماؤں کی دعائیں ہیں تو دوسرے حصے میں یہ بتایا جا رہا کہ گھر کی عورتیں خود اسلحہ دیکر بھیجتی ہیں۔
اب ایک عام انسان تو دیکھ کر یہی کہے گا کہ جن کیساتھ ماؤں کی دعائیں اور گھر کی عورتوں کا ساتھ ہو وہ کبھی کہیں شکست کھا ہی نہیں سکتے۔
لیکن کیا کبھی کسی نے یہ پوچھا یا جاننے کی کوشش کی کہ جب یہی سرمچار حرام ہو ہوتے ہیں تب ان کے لواحقین کو تنظیم پوچھتی بھی ہے؟ ان کے بیوی بچوں کا کیا حال ہوتا ہے، وہ کیسے زندگی گزارتے ہیں، کس پرسان حال میں رہتے ہیں؟
لیکن گلیمرائز کہانی ہے جسے پردہ سکرین پر دکھا کر کچھ لمحوں کیلئے تو ذہنوں کو مفلوج کر لیا جاتا ہے لیکن ایک دائمی اذیت نہیں دکھائی جاتی جو ان سرمچاروں کی موت یا گرفتاری کیبعد ان کا خاندان بھگتتا ہے۔
ایک کہانی نظر سے گزری کہ جب بی ایل اے نے "ہیروف ٹو" (Herof 2) آپریشن کا آغاز کیا اور ان کے دہشت گرد ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو رہے تھے تو سامنے ایک پندرہ سالہ لڑکے نے انہیں روکا اور ساتھ جانے کی ضد کی۔
سرمچاروں نے انکار کیا تو لڑکے نے دھمکی دی کہ نہ لے گئے تو سامنے پہاڑی سے کود کر جان دے دوں گا جس پر وہ مجبواً اسے ساتھ لے گئے۔
ایسی کہانیاں سن کر بظاہر کوئی بھی یہ سوچنے پر مجبور ہو جائے گا کہ بلوچستان کا نوجوان اس حد تک ان دہشتگردوں کے ساتھ کھڑا ہے۔
لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ اس بدامنی اور تشدد کو میڈیا پر اس قدر "گلیمرائز" کر دیا گیا ہے کہ دیکھنے والا گمان کرنے لگتا ہے کہ بندہ بھلے دہشت گرد تھا مگر لڑا جگرے سے ہے۔
دوسرا طریقہ کہ ویڈیوز اور تصاویری پروپیگنڈے میں لڑکیوں کو ٹیکٹیکل گلوز پہنا کر کندھے پر M4 رائفل سجائے فائرنگ کرتے دکھاؤ تاکہ دیکھنے والا متاثر ہو کر بول اٹھے کہ 'اب تو خواتین بھی میدانِ جنگ میں آ گئی ہیں'۔
یہ لڑائی اب زمین کی تو رہی ہی نہیں بلکہ ذہن سازی کی بن چکی۔ جس میں دشمن کبھی شہناز کبھی شاری تو کبھی ماہرنگ کے چہرے کو سامنے لاتا ہے۔
جہاں ایک طرف مزاحمت کا چورن بیچا جاتا ہے تو دوسری طرف قومیت تیسری طرف مظلومیت کا کارڈ کھیل کر ذہنی گمراہی پھیلائی جاتی ہے۔
کیوں نا ہمیں اپنے بلوچستان کے سرداروں کے بارے بھی لکھا جانا چاہئے۔ جو ہمارے حقوق کی جنگ لڑتے لڑتے خود تو کھرب پتی بن گئے لیکن ہمیں ککھ پتی بھی نہ بنا سکے۔
سب سے پہلے ہم اپنے بلوچستان کے عظیم الشان اور شدید قوم پرست سردار جناب اختر جان مینگل صاحب سے کرتے ہیں۔
سردار صاحب کی ذات با برکات میں یوں تو لاتعداد اوصافِ حمیدہ پائے جاتے ہیں مگر چند ایک کا تذکرہ ازحد ضروری ہے۔
آپ کے والدِ محترم سردار عطا اللہ مینگل بلوچستان کے پہلے وزیرِ اعلیٰ تھے جن کے عہدِ حکمرانی میں سرکاری سرپرستی میں تعصب اور قوم پرستی کا باقاعدہ بیج بویا گیا۔
یہی وہ تاریک عہد حکمرانی تھا جب سردار اختر مینگل کے والد نے بطور وزیراعلیٰ بلوچستان حکم نازل فرمایا کہ پنجابی فوراً بلوچستان چھوڑ دیں ورنہ زندہ نہیں بچیں گے۔
بس پھر کیا تھا بلوچستان میں پنجابی اساتذہ کے خونخوار قتلِ عام اور انکی ہجرت کا اغاز ہوا ورنہ اس سے پہلے تو پنجابی و غیر مقامی استاد وہاں پڑھا رہے تھے۔
اور یہی وہ دور تھا جب بلوچستان کی شرحِ خواندگی دیگر صوبوں سے کسی طور کم نہ تھی مگر سردار صاحب کے والد نے سوچا بلوچستان کے بلوچ تو ہماری نوکری کیلئے ہیں یہ اتنا پڑھ کر کیا کریں گے۔
کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی، نوے کی دہائی میں ہمارے جوان، جوشیلے اور اقتدار کے امیدوار سردار اختر مینگل صاحب نے بھی اس نفرت انگیز آگ میں خوب ایندھن ڈالا۔
سردار صاحب باقاعدہ جلسوں میں پنجابیوں کے قتلِ عام کو مقدس فرض اور بلوچستان پر قرض قرار دے کر اشتعال پھیلاتے اور معصومیت سے سوال داغتے کہ کیا اپنی قوم کا حق مانگنا جرم ہے؟
آج سردار صاحب اقتدار کی راہداریوں سے نکل کر دبئی و لندن کی پرتعیش فضاؤں میں سانس لیتے ہی اور کوئٹہ سے لے کر کراچی کے شاہانہ بنگلوں کے مالک ہیں لیکن ان کا اپنا علاقہ وڈھ آج بھی کسمپرسی اور بے بسی کا ماتم کر رہا ہے۔
باقی رہی بات سردار صاحب کے پنجابی دزمن ہونے کی تو ان کی اپنی صاحبزادی بانڑی مینگل کس پنجابی گھرانے کی بہو اور کس پنجابی کی زوجہ ہیں یہ بتانے کی ضرورت نہیں۔
سردار صاحب کی پنجابی دشمنی صرف یہی نہیں کہ انہوں نے اپنی بیٹی پنجابیوں کو دی بلکہ انکی پنجاب میں زمینیں بھی انکا پنجابی داماد سنبھالتا ہے۔
ایک کہانی نظر سے گزری کہ جب بی ایل اے نے "ہیروف ٹو" (Herof 2) آپریشن کا آغاز کیا اور ان کے دہشت گرد ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو رہے تھے تو سامنے ایک پندرہ سالہ لڑکے نے انہیں روکا اور ساتھ جانے کی ضد کی۔
سرمچاروں نے انکار کیا تو لڑکے نے دھمکی دی کہ نہ لے گئے تو سامنے پہاڑی سے کود کر جان دے دوں گا جس پر وہ مجبواً اسے ساتھ لے گئے۔
ایسی کہانیاں سن کر بظاہر کوئی بھی یہ سوچنے پر مجبور ہو جائے گا کہ بلوچستان کا نوجوان اس حد تک ان دہشتگردوں کے ساتھ کھڑا ہے۔
لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ اس بدامنی اور تشدد کو میڈیا پر اس قدر "گلیمرائز" کر دیا گیا ہے کہ دیکھنے والا گمان کرنے لگتا ہے کہ بندہ بھلے دہشت گرد تھا مگر لڑا جگرے سے ہے۔
دوسرا طریقہ کہ ویڈیوز اور تصاویری پروپیگنڈے میں لڑکیوں کو ٹیکٹیکل گلوز پہنا کر کندھے پر M4 رائفل سجائے فائرنگ کرتے دکھاؤ تاکہ دیکھنے والا متاثر ہو کر بول اٹھے کہ 'اب تو خواتین بھی میدانِ جنگ میں آ گئی ہیں'۔
یہ لڑائی اب زمین کی تو رہی ہی نہیں بلکہ ذہن سازی کی بن چکی۔ جس میں دشمن کبھی شہناز کبھی شاری تو کبھی ماہرنگ کے چہرے کو سامنے لاتا ہے۔
جہاں ایک طرف مزاحمت کا چورن بیچا جاتا ہے تو دوسری طرف قومیت تیسری طرف مظلومیت کا کارڈ کھیل کر ذہنی گمراہی پھیلائی جاتی ہے۔
یہ لوگ سنگلاخ پہاڑوں میں رہنے والے نہیں تھے لیکن انہیں پہاڑوں میں پہنچایا گیا۔
یہ وہ لوگ ہیں جنہیں حقوق کے نام پر بہکایا گیا، جنہیں قوم کے نام پر جذباتی کیا گیا، جنہیں علیحدہ بلوچستان کے نام پر اکسایا گیا۔
لیکن دیر آید درست آید۔ انہیں بھی سمجھ آ گئی کہ جو ہمیں حقوق، قومیت اور علیحدہ وطن کا چورن بیچ رہے وہ تو خود اس بلوچستان سے باہر یورپ امریکہ اور سوئزرلینڈ میں رہتے ہیں۔
@DeedeBaloch اس سے یہ تو ثابت ہوا کہ لوگ مرضی سے نہیں جاتے انہیں قومیت کے نام پر بلیک میل کیا جاتا ہے انہیں حقوق کے نام پر اکسایا جاتا ہے اور جب انہیں سمجھ آتی ہے وہ واپس لوٹتے ہیں۔
@DeedeBaloch یہ وہی صادق عمرانی ہے جس نے اسمبلی میں بھاشن دیا تھا کہ ہمیں اسلام آباد میں دھکے دئیے گئے لیکن جب حقیقت کھلی تو پتہ چلا جناب تو ایریگیشن کے پرانے کرپٹ پاپی ہیں اور انہیں بھی نوٹس ملا ہے