اے عشق ادھر آ تجھے" عشق "سکھاوں
دریار میں بیٹھ کر تجھے "بیعت" کراوں
تھک جاتے لوگ اکثر تیری عین پر آکر
عین شین سے آگے تیرے" ق "میں سماوں
اے عشق میں تیرے عاشق آ سنگ تو ہمارے
سینے سے لگا کر تجھے سرمست بناؤں
تو جھوم اٹھے دیکھ کر" دیوانگی" میری
آ وجد کی حالت میں تجھے رقص سکھاؤں