@nadiakhaan مکہ و مدینہ کے لئے تو ہماری جانیں ہر لمحہ حاضر ہیں ( ان شاءاللہ ) لیکن بحثیت ریاست پاکستان سردست اپنے کرتوت بہتر کرے اور ایرانیوں سے جان چھڑائے، یہی بہتر ہے کیونکہ تاثر بہرحال خراب ہو رہا ہے۔
پہلا دورہ تھا اور آپ اس کالے کھٹمل کو ساتھ لے کر کعبۃ اللہ کے اندر گئے تھے۔۔عائلی مجبوریوں کی سمجھ آتی ہے مگر آپ نے تو ایران کو گود ہی لے لیا، باقی آپ اندھے ہیں لیکن عرب نہیں۔
ایران ہزاروں میل دور عرب ملکوں میں امریکی اڈے نشانہ بنارہے ہیں مگر بندر عباس کے قریب ابراہم لکن امریکی بیڑا پر ابھی تک ایک میزایل فایر نہی کیا ہیں کوی محب ایران معقول جواب دے سکتا ہیں؟
حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا:
اللہ جس کے ساتھ خیر کا ارادہ کرتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے اور میں تو صرف تقسیم کرنے والا ہوں اور دیتا اللہ ہے۔
(بخاری، ۷۳۱۲)
حالیہ جنگ میں ایران نے اسرائیل سے زیادہ حملے عرب ریاستوں پر کئے جس نے عربوں کا ذہن بدل دیا ہے‘ اب وہ براہ راست ایران سے پوچھنے لگے ہیں اس نے فلسطین کے لئے کیا کیا؟
بلکہ اب تو نوبت یہ آرہی ہے وہ ایران کو سنی مسلمانوں کا دشمن کہنے لگے ہیں!
حالیہ جنگ میں پاکستان نے پھر پور طریقے سے ایران (اور بالواسطہ پاسداران) کی مدد کرکے اپنے دیرینہ عرب دوستوں کو ناراض کر لیا ہے۔خود سعودی حکومت اس شش و پنج میں ہے پاکستان نے انکے ساتھ اپنے دفاعی معاہدے کی پاسداری کی ہے یا جنگ صرف اس وجہ سے روکی ہے کہیں معاہدے کی رو سے ایران سے لڑنا نہ پڑ جائے۔
نقوی صاحب کی حالیہ ملاقاتیں اس شبہ کو دور نہیں کر سکیں۔انکی حکومتوں سے قریب صحافیوں کی رپورٹیں ڈھکے چھپے الفاظوں یہی کچھ کہہ رہی ہیں۔
ایران کا سستا تیل و گیس۔۔۔صرف ایک ڈھکوسلہ ہے ایران ہمارا سچا ہمدرد کبھی نہیں رہا ہے بلکہ ایران۔۔ امریکہ سے زیادہ بے اعتبار ہے۔اس ماحول میں پاسداران اپنے قدم دوبارہ جما رہی ہے‘ قالیباف کا انٹرویو روکنا اس بات کی علامت ہے ۔۔۔ایران میں پاسداران کی حکومت ہے باقی سب کچھ نہیں!
آبنائے ہرمز تو کھلا رہے گا کیونکہ امریکی فوج سے لڑنے کی سکت نہیں البتہ خمینیت کا زہر اب تیزی سے پھیلایا جائیگا اور پاکستان میں بھی خمینی کے ہمدرد اپنا کام تیز کر رہے ہیں!
کل آسٹریلیا اور امریکہ کا فٹ بال میچ تھا اور کل ہی شام میں مشہور آسٹریلوی مجاہد اور عالم ڈاکٹر سامی العریدیؒ کو موصولہ اطلاعات کےمطابق شام میں امریکہ نے ڈرون حملوں میں شہید کردیا ہے۔ شیخ آسٹریلیوی تھے اور وہاں سے ہجرت کرکے اہل شام کی مدد کےلیے آئے تھے،اللہ انکی شہادت کو قبول کرے
حذیفہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو آپ نے فرمایا: ”میں نہیں جانتا کہ میں تمہارے درمیان کب تک رہوں گا، لہٰذا تم لوگ ان دونوں کی پیروی کرو جو میرے بعد ہوں گے اور آپ نے ابوبکر و عمر رضی الله عنہما کی جانب اشارہ کیا“۔ [سنن ترمذي]