یہ کس ملک کا آرمی چیف ہے جس اپنی پینٹ ٹھیک کرنے کیلئے بھی ایک آدمی رکھا ہوا...؟ 🤦🏼♀️
یہ بھی پاکستان کی طرح کسی مقروض ملک کا ہوگا ۔ قرض پر موج مستی پاکستان اور افریقی ممالک ہی کر سکتے ہیں
تاریخ کے انتہائی سفاکانہ مناظر میں سے ایک :
اسرائیلی فوج نے ایک نوجوان فلسطینی کی آنکھوں پر پٹی باندھی، اسے بھاگنے پر مجبور کیا اور پھر اس کے سر کے پچھلے حصے میں گولی مار دی۔
بریکنگ نیوز۔۔۔! 🚨🚨
عمران خان آج ایک علامت ہے حق پہ ڈٹے رہنے کی، عزم کی ساتھ ایمان کے ساتھ مزاحمت کرنے کی،
عمران خان بھی گوشت پوست کا بنا ہوا انسان ہے،
اسے بھی تکلیف ہوتی ہے، درد اسے بھی ہوتا ہے،
وہ یہ بھی جانتا ہے کہ جانا تو اس دنیا سے سب نے ہی ہے،
لیکن جب وہ جائے تو ایمان کی طاقت اور لوگوں کی دعائیں ساتھ لے کر جانا چاہتا ہے، اداکارہ حناء بعیت
سوڈان میں ایک ماں اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے معصوم بچوں کو بھوک سے مرتے ہوئے دیکھ رہی ہے۔
یا الله آج کے انسان کو کیا ہوگیا ہے. ان مظلوموں کی مدد کرنے والا کیا اس دنیا میں کوئی نہیں بچا ؟ ؟ ؟
کرہ ارض پر ہر انسان کا یہی مطالبہ ہے ان لوگوں سے جن میں رتی برابر انسانیت نہیں۔
بےشک اللّه نہ ظالموں کو دوست رکھتا ہے، نہ میرا اللّه ظالموں کا مددگار ہے۔
اس فلسطینی بچے کی بات غور سے سنیں جو اسرائیلی جیلوں سے رہائی کے بعد کہہ رہا ہے:
"مجھے لوہے کی پلیٹوں کے ذریعے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ میرے کپڑے اتار دیے گئے، مجھ پر مسلسل تشدد کیا گیا اور مجھے سونے سے محروم رکھا گیا۔"
پاکستان غریب ملک نہیں بلکہ یہاں کی اشرافیہ نے ملک کو کنگلا کر دیا ہے،
اس اشرافیہ سے جان چھڑائیں گے تو ہی ملک ترقی کر سکے گا۔
ورنہ دن بہ دن قرضوں کے بوجھ تلے دبتا جائے گا اور یہ چیز ملک کی بنیادیں ہلا رہی ہے۔
کیونکہ جب آپ دوسروں سے قرضے لیتے ہیں تو بدلے میں اپنی آزادی دیتے ہیں۔
خان صاحب کی بہنیں مسلسل خبردار کرتی رہیں کہ عمران خان صاحب کی طبیعت ناساز ہے، مگر کسی نے نہ سنا۔ اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کی سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ نے بھی خان صاحب کی شدید علالت کی تصدیق کر دی۔ معزز عدالت نے فوری طور پر انہیں شفا ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا، مگر حکومت نے عدالتی حکم تک کی پاسداری نہ کی۔
یہ صرف عمران خان کا معاملہ نہیں، یہ عدالت کی توقیر اور قانون کی بالادستی کا سوال ہے۔ میں اپنی وکلا برادری سے اپیل کرتا ہوں کہ اس سنگین عدالتی حکم عدولی پر بھرپور اور پرزور احتجاج کریں۔
فہیم خان
صدر پی ٹی آئی کراچی ڈویژن
عمران خان کی عمر 74 سال ہو چکی ہے، عمران خان نے خود کو فٹ رکھا ہوا ہے ورزش کے ذریعے،
عمران خان کا مقابلہ نواز شریف، شہباز شریف یا آصف زرداری سے نہیں ہے، عمران خان کا مقابلہ وقت سے ہے، وہ اس وقت قیدِ تنہائی میں ہے، مطیع اللہ جان
حوثی ڈرون کے فضائی حملے سے سعودی ٹینک کو نشانہ بنایا گیا اور وہ دھماکے سے تباہ ہو گیا۔
حوثیوں نے سعودی فوجی گاڑیوں، بشمول M1A2S ابرامز (Abrams) ٹینکوں، پر حالیہ کئی حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
گزشتہ ایک سال کے دوران ان کی صلاحیتوں میں واضح بہتری آئی ہے، جو ایران کی جانب سے فراہم کردہ مبینہ تکنیکی معاونت سے مطابقت رکھتی ہے۔
محمد مرسی مصر کے مقبول ترین عوامی رہنماؤں میں سے ایک تھے۔ وہ وہی رہنما تھے جنہوں نے دنیا کے سامنے اپنے نبی کریم ﷺ کی حرمت و عزت کا واضح مؤقف پیش کیا اور کہا کہ جو ہمارے نبی ﷺ کی عزت و احترام نہیں کرے گا، ہم بھی اس کا احترام نہیں کریں گے۔
اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد انہیں ایک فوجی حکومت نے بدنام زمانہ جیلوں میں قید رکھا، طویل عرصے تک قیدِ تنہائی کا سامنا کرنا پڑا اور ان کی صحت مسلسل خراب ہوتی رہی۔ وہ شوگر، ہائی بلڈ پریشر اور گردوں کے عارضے میں مبتلا تھے، لیکن ان کے اہلِ خانہ اور انسانی حقوق کے اداروں کی جانب سے بارہا طبی سہولیات کے حوالے سے خدشات سامنے آتے رہے۔
شہادت والے دن انہیں ایک مقدمے کی سماعت کے لیے عدالت میں لایا گیا۔ انہیں شیشے کے ایک بند پنجرے میں رکھا گیا۔ شدید کمزوری کے باوجود انہوں نے جج کے سامنے کھڑے ہو کر تقریباً 20 منٹ تک اپنا آخری بیان ریکارڈ کروایا۔
بیان ختم کرنے کے فوراً بعد وہ بے ہوش ہو کر گر پڑے۔ وہ اسی پنجرے کے اندر بے سدھ پڑے رہے اور بالآخر ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی خالقِ حقیقی سے جا ملے۔
ان کی موت کے بعد بھی ان کی مقبولیت سے خوف کا اندازہ اس بات سے لگایا گیا کہ ان کے جنازے میں عام عوام کو شرکت کی اجازت نہیں دی گئی اور انہیں رات کے اندھیرے میں سخت سیکیورٹی کے حصار میں سپردِ خاک کیا گیا۔
آج سوال مصر سے زیادہ پاکستان سے ہے۔
کیا پاکستانی قوم بھی کسی ایسے المیے کا انتظار کر رہی ہے؟
کیا ہم اس وقت جاگیں گے جب بہت دیر ہو چکی ہوگی؟
کیا ہم تب آواز اٹھائیں گے جب ہمارا محبوب قائد ہمارے درمیان موجود نہیں ہوگا؟
کیا ہم تب سڑکوں پر نکلیں گے جب صرف پچھتاوا باقی رہ جائے گا؟
عمران خان آج بھی ہمارے درمیان ہیں۔ وہ قید میں ہیں، مشکلات میں ہیں، لیکن اپنی قوم کے حق، آئین کی بالادستی اور حقیقی آزادی کے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے۔
فرق صرف اتنا ہے کہ محمد مرسی کے ساتھ جو ہوا، وہ تاریخ بن چکا ہے؛ عمران خان کے معاملے میں تاریخ ابھی ہمارے سامنے لکھی جا رہی ہے۔
پاکستانیو! بے حس مت بنو۔ خاموشی کو اپنی تقدیر مت بناؤ۔ اپنے حق کے لیے، اپنے آئین کے لیے، اپنے ووٹ کے احترام کے لیے اور عمران خان کی زندگی، صحت اور آزادی کے لیے پُرامن اور آئینی جدوجہد میں اپنا کردار ادا کرو۔
یہ وقت گھروں میں بیٹھ کر تماشائی بننے کا نہیں۔
یہ وقت سوشل میڈیا پر صرف غصہ نکالنے کا نہیں۔
یہ وقت ایک دوسرے کا حوصلہ بننے، آئین و قانون کے دائرے میں متحد ہونے اور اپنے جمہوری حق کے لیے آواز بلند کرنے کا ہے۔
یاد رکھو، لیڈر اکیلا قوم کو نہیں بچاتا، قوم اپنے لیڈر کے ساتھ کھڑی ہو کر اپنی تقدیر بدلتی ہے۔
اگر آج ہم خاموش رہے تو آنے والی نسلیں ہم سے سوال کریں گی کہ جب وقت تمہارے سامنے کھڑا تھا، جب تمہارے قائد کو تمہاری آواز کی ضرورت تھی، جب تمہارے آئین اور ووٹ کی حرمت کو تمہاری جدوجہد درکار تھی، تب تم کہاں تھے؟
اب فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔
خاموش تماشائی بننا ہے یا تاریخ کا حصہ بننا ہے؟
عمران خان صرف ایک شخص کا نام نہیں، یہ کروڑوں پاکستانیوں کے ووٹ، امید اور حقیقی آزادی کی آواز ہے۔
اپنے گھروں سے نکلو، پُرامن اور آئینی جدوجہد کی تیاری کرو، اپنی آواز بلند کرو کیونکہ قومیں اپنے حقوق مانگنے سے نہیں، اپنے حقوق کے لیے ڈٹ کر کھڑے ہونے سے تاریخ بناتی ہیں
#عمران_خان_کو_بچاؤ
#ReleaseImranKhan
#حقیقی_آزادی