سوراب کے علاقے گدر میں فورسز کے قافلے پر حملے کی اطلاعات۔
گُزشتہ روز شام پانچ بجے کے قریب مسلح افراد نے فورسز کے تین گاڑیوں کے قافلے کو اس وقت حملے کا نشانہ بنایا جب وہ گدر گریڈ اسٹیشن کے قریب سے گزر رہے تھے۔ حملے میں فورسز کو نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔
#بلوچستان
بریکنگ نیوز
چاغی کے علاقے یکمچ میں بلوچ آزادی پسندوں کی بڑی تعداد میں داخل ہونے کی اطلاعات،جن میں بلوچ خواتین جنگجوؤں کی بھی بڑی تعداد شامل ہے۔
مزید تفصیلات آنا باقی ہے۔۔
#بلوچستان
بریکنگ نیوز
چاغی کے علاقے یکمچ میں بلوچ آزادی پسندوں کی بڑی تعداد میں داخل ہونے کی اطلاعات،جن میں بلوچ خواتین جنگجوؤں کی بھی بڑی تعداد شامل ہے۔
مزید تفصیلات آنا باقی ہے۔۔
#بلوچستان
تربت: بلوچ آزادی پسندوں کا شاہراہوں پر کنٹرول، معاشی مفادات سے منسلک بڑی گاڑیوں پر حملوں میں اضافہ
گزشتہ روز تربت کے علاقے شاپک میں سامان لے جانے والے ٹرکوں پر فائرنگ کرکے انہیں ناکارہ بنا دیا گیا۔
اس سے قبل اس روٹ پر متعدد گاڑیوں کو نذرِ آتش کرکے تباہ کیا گیا تھا، جن کی ذمہ داری بی ایل ایف نے قبول کی تھی۔
#بلوچستان
BLF Claims 18 FC Personnel Killed in Mashkel Attack; Security Sources Say Six Militants Killed
BLF claims 18 FC personnel were killed in the October 1 Gorinder-Mashkel attack and acknowledged losing two fighters. Pakistani security sources give a competing account, saying six militants were killed during the fighting.
The competing casualty figures remain independently unverified.
More details……
https://t.co/lzfWuKC0c3
Telegram: https://t.co/Tg6I6cJacI
#Mashkel #Balochistan #BLF
بی ایل ایف کی اعلیٰ تربیت یافتہ بلوچ خواتین جنگجوؤں کو پاکستانی فوج کے کیمپ پر حملہ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
اس نوعیت کا حملہ بلوچ خواتین کی جانب سے اس سے قبل تربت میں بھی کیا گیا تھا، جو انتہائی قریب سے کیا گیا تھا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ بی ایل ایف کی جانب سے خواتین جنگجوؤں کو اعلیٰ فوجی تربیت دی گئی ہے، جو انتہائی تیزی سے فوجی قافلوں اور کیمپوں پر حملے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
#بلوچستان
بلوچستان لبریشن فرنٹ (BLF) نے ماشکیل میں پاکستانی فوج کے کیمپ پر حملے کی ذمہ داری قبول کرلی۔
تنظیم کے مطابق، اس کے عسکری یونٹس “کاڈ” اور “قربان یونٹ” نے مشترکہ کارروائی کے دوران پاکستانی فوج کے ایک کیمپ کو نشانہ بنایا، جس میں 18 اہلکار ہلاک
تفصیل:
ماشکیل میں کاڈ اور قربان یونٹ کا فرنٹیئر کور 58 ونگ کے کیمپ پر حملہ، 18 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی، دو سرمچاروں نے جامِ شہادت نوش کیا: میجر گہرام بلوچ
یکم اکتوبر 2026 کو بلوچستان لبریشن فرنٹ کے نو تشکیل شدہ خواتین یونٹ کریمہ آرمڈ اسالٹ ڈویژن (کاڈ) اور ہراول دستے قربان یونٹ کے سرمچاروں نے واشک کے علاقے ماشکیل گوریندر میں قائم فرنٹیئر کور (ایف سی) کے 58 ونگ کے اہم فوجی کیمپ کو کامیابی کے ساتھ مربوط حملے میں نشانہ بنایا۔
سرمچاروں نے دشمن کے کیمپ کو مختلف اطراف سے مکمل گھیرے میں لے کر راکٹوں گرینیڈ لانچروں اور دیگر خودکار بھاری ہتھیاروں سے حملہ کر کے نشانہ بنایا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں دشمن فوج کے 18 اہلکار ہلاک ہو گئے جبکہ متعدد زخمی ہو گئے۔ اس کارروائی کے دوران حواس باختہ فوج کے کچھ اہلکار اپنا اسلحہ نیز کیمپ چھوڑ کر فرار ہو گئے۔ قابض فوج کی کمک کے لیے آنے والے قافلے کو بھی سرمچاروں کے حفاظتی دستوں نے نشانہ بنایا۔ جس کے نتیجے میں متعدد فوجی اہلکار ہلاک و زخمی ہوئے اور کمک کے لیے آنے والا قافلہ پسپا ہو کر پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گیا۔ بعد ازاں قابض فوج نے اپنے ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی لاشوں کو بذریعہ ہیلی کاپٹر پنجگور منتقل کر دیا۔ قابض فوج اپنے ہلاک اہلکاروں کی تعداد اور شناخت چھپا رہی ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ قابض فوج بلوچستان میں ایک شکست خوردہ جنگ لڑ رہی ہے۔
اس تاریخی اور پرعزم مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے دوران تنظیم کے دو بہادر سرمچار شہید ساجد عرف مہران ولد خالد ساکن بلیدہ اور شہید عبدالخالق عرف نوتک ولد سنجر ساکن پروم نے دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔ ان کا یہ عظیم ایثار اور لازوال قربانی بلوچستان کی آزادی کی تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھی جائے گی۔
کریمہ آرمڈ اسالٹ ڈویژن (کاڈ) کا اس اہم حملے میں مرکزی کردار اس بات کا ثبوت ہے کہ بلوچ قومی تحریک میں خواتین اب محض سیاسی یا نظریاتی حد تک محدود نہیں ہیں بلکہ وہ جابرانہ پالیسیوں اور ریاستی جبر کے خلاف میدان جنگ میں باقاعدہ فرنٹ لائن پر آ چکی ہیں۔ شہید بانک کریمہ بلوچ کے نام سے منسوب یہ ڈویژن بلوچ خواتین کے بے مثال عزم استقامت اور مزاحمتی جذبے کا روشن استعارہ ہے۔
بلوچستان میں قائم قابض فوج کے کیمپ بلوچ قومی وسائل کے بے دردی سے استحصال بلوچ نسل کشی اور چادر و چار دیواری کی پامالی کے بنیادی مراکز ہیں۔ ان تمام فوجی اڈوں کا مکمل خاتمہ اور بلوچستان کی سرزمین سے قابض فوج کا بلا مشروط انخلا، آزاد اور خودمختار بلوچستان ہی بلوچ قومی بقا کا واحد ضامن ہے۔ جب تک بلوچ سرزمین پر ایک بھی فوجی موجود ہے اور بلوچ قوم کے سیاسی و معاشی حقوق پر غصبی تسلط برقرار ہے ہماری مسلح جدوجہد اور مزاحمت مزید طاقت کے ساتھ جاری رہے گی۔
بلوچستان لبریشن فرنٹ اپنے شہدا کے فکر اور فلسفے پر گامزن رہتے ہوئے بلوچ قوم کو یقین دلاتی ہے کہ شہدا کا خون ہرگز رائیگاں نہیں جائے گا اور آزاد و خودمختار بلوچستان کے قیام تک یہ جنگ تمام تر محاذوں پر پوری قوت اور دفاعی حکمتِ عملی کے ساتھ لڑی جائے گی۔
بلوچستان لبریشن فرنٹ اس کامیاب اور تاریخی حملے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔
میجر گہرام بلوچ
ترجمان: بلوچستان لبریشن فرنٹ
3 اکتوبر 2026
Ref. No. BLF/October2026/000117
بلوچستان کے ضلع حب کی سب تحصیل دُریجی کے علاقے دیوانہ شاہ میں مسلح افراد کا پولیس اہلکاروں پر حملہ
حملے کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار زخمی ہوگیا، جبکہ مسلح افراد سرکاری اسلحہ اور موٹر سائیکلیں بھی اپنے ساتھ لے گئے۔
#بلوچستان
تربت: ناصر آباد میں مسلح افراد نے مین شاہراہ پر ٹریلر گاڑیوں کو نشانہ بنایا۔ ایک گاڑی کو نذرِ آتش کر دیا گیا، جبکہ دوسری کے ٹائر برسٹ کر دیے گئے۔
#بلوچستان
نیوز اپ ڈیٹ
ماشکیل کے علاقے گوریند میں فوجی کیمپ پر حملے کے بعد ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی لاشیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے پنجگور منتقل کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ حملے کے بعد کیمپ تاحال خالی ہے، جبکہ متعدد فوجی اہلکاروں کے لاپتہ ہونے کی بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
تاہم، فوج کی جانب سے تاحال اپنے اہلکاروں کی ہلاکت کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔ سوشل میڈیا پر ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی تصاویر بھی گردش کر رہی ہیں۔
اس حملے میں مرد اور خواتین حملہ آواروں کے شامل ہونے کی اطلاع آئی تھی تاہم کسی بھی آزادی پسند تنظیم نے حملہ کی ذمہ داری قبول نہیں کیا۔ اس سے قبل بلوچستان لبریشن فرنٹ کے خواتین ونگ کریمہ آرمڈ اسالٹ ڈویژن کے سرمچاروں نے متعدد کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کرچکی ہے۔
بی ایل ایف کی جانب سے کاڈ کے اعلان کے بعد بلوچ خواتین جنگجوؤں کے مختلف علاقوں میں حملوں کا سلسلہ جاری
گزشتہ ہفتے تربت، قلات اور خضدار میں چار حملوں میں نو فوجی اہلکاروں کی ہلاکت کی ذمہ داری بلوچستان لبریشن فرنٹ نے قبول کی تھی۔
گزشتہ روز ایک سنگین حملے میں پاکستانی فوج کے کم از کم آٹھ اہلکار ہلاک ہوئے۔ ذرائع کے مطابق، یہ حملہ بھی بلوچ خواتین جنگجوؤں نے کیا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ بلوچ خواتین کی ایک بڑی تعداد بی ایل ایف کے کاڈ میں شامل ہے، جبکہ انہیں انتہائی خطرناک تربیت دی گئی ہے۔ یہ خواتین جنگجو فوجی کیمپوں اور قافلوں پر حملے کے وقت انتہائی تیز رفتاری سے کارروائی سرانجام دیتی ہیں۔
بلوچ خواتین کی ایک اور بڑی کارروائی، ماشکیل میں بلوچ خواتین جنگجوؤں نے گزشتہ روز پاکستانی فوج کی ایک چوکی کو شدید حملے میں نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں آٹھ اہلکار ہلاک ہوئے۔
#بلوچستان
بریکنگ ابڈیٹ
ماشکیل میں بلوچ خواتین جنگجوؤں نے گذشتہ روز پاکستانی فوج کے پوسٹ کو شدید نوعیت حملے میں نشانہ بنایا۔ جس میں آٹھ اہلکار ہلاک ہوئے ۔
#بلوچستان
بریکنگ نیوز
ماشکیل میں پاکستان فوج کے گوریندر پوسٹ (58 ونگ) پر مسلح افراد کا شدید حملہ، آٹھ اہلکار، نائک واحد، نائک مہتاب، نائک نوبت علی، حوالدار ناصر، لانس نائک مشتاق، لانس نائک انعام، سپاہی مزمل، سپاہی دانیال ہلاک ہوگئے جبکہ ایک اہلکار زخمی ہوا ہے۔
تاہم مزید تفصیلات آنا باقی ہیں۔
#بلوچستان