یہ فوج ہی پاکستان اور پاکستانیوں کو انڈیا سے زیادہ اپنا دشمن سمجھتی ہے۔ ہمیں کچلنے کے لیے دہشت گرد بناتی ہے۔ پختونخوا حکومت گرانے کے لیے اپنے ہی لوگوں کو کیوں مار رہے ہو؟ تمہاری یہ ذہنیت کب بدلے گی؟ مجھے افسوس ہے، نہیں بدلے گی۔
تمہاری پالیسی پہلے دن سے یہ ہے کہ امریکا کی دلالی کرو اور ڈالر گھر لے جاؤ۔ 9/11 کے بعد امریکا ہماری معاونت کرتا تھا کہ افغانیوں کو پکڑ کر ان کے حوالے کرو ۔ آج وہ معاونت ہمیں افغانیوں سے بچانے کے لیے کر رہا ہے۔
میں نے مشرقی پاکستان میں تمہیں نہتے بنگالیوں کو شکار کے شوق میں مارتے دیکھا ہے۔ وہ وزیرستان ہو یا تربت، سانحہ APS کا مجرم ہو یا دہشت گرد، وہ تمہارے گھروں میں پناہ لے رہے ہوتے ہیں! اپنی دہشت گردی سے باز آ جاؤ۔
لگتا ہے کہ پاکستان پر مسلط کیا گیا سیٹ اپ ملک میں اور خصوصی طور پر خیبر پختونخواہ میں کوئی بڑا سانحہ کروانا چاہتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان کا نیشنل میڈیا اس ڈرٹی گیم میں اُن کا ساتھ دے رہا ہے۔
ہماری سی ٹی ڈی اور پولیس کو کمزور ثابت کرنے کی کوشش میں کس کو حملے کی دعوت دی جا رہی ہے؟ کیا APS جیسے سانحے کی تیاری کی جا رہی ہے؟ کیا اپنی جعلی حکومت کو بچانے کے لیے ملک میں کسی نئے سانحے کی پلاننگ ہو رہی ہے؟ کیا خیبرپختونخواہ کو ایک بار پھر لہو لہان کرنے کے لیے پیش کیا جا رہا ہے؟ کیا خیبرپختونخواہ کو تجربہ گاہ سمجھ کر PML N کوئی بڑی گیم کرنے والی ہے؟
ہماری پولیس اور سی ٹی ڈی ماشاءاللہ انتہائی باصلاحیت اور جدید اسلحے سے لیس ہے۔ وفاق کا ادارہ HIT صوبائی حکومت سے رقم وصول ہونے کے باجود جان بوجھ کر سامان کی فراہمی کو سست روی کا شکار کر رہا ہے۔
جو اسلحہ پولیس ڈیپارٹمنٹ کو دیا گیا ہے وہ مفت میں نہیں بلکہ پیسے دے کر وصول کیا گیا ہے۔ باقی سامان پیسے لینے کے باوجود نہیں دیا جا رہا۔
وفاق پر جعلی طریقے سے قابض ٹولہ ملک میں تباہی پھیلانا چاہ رہا ہے۔ پاکستان ہمارا ہے۔ پاکستانی ہمارے ہیں۔ کسی بھی قسم کا کوئی بھی ایڈونچر کرنے کی کوشش کی گئی تو آئین و قانون کے مطابق ایسا جواب دیں گے کہ پوری عمر سر نہیں اُٹھا پاؤ گے۔
”ہر پاکستانی کو حمود الرحمان کمیشن رپورٹ کا مطالعہ کرنا اور یہ جاننا چاہئیے کہ اصل غدار تھا کون؛ جنرل یحیٰ خان یا شیخ مجیب الرحمٰن“ - بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان
#غدار_کون_تھا
فیلڈ مارشل عاصم منیر کے وژن کے مطابق پاکستان دنیا بھر میں دہشت گردی سے متاثرہ ممالک میں پہلے نمبر پر آچکا ہے۔ اور کیوں نہ ہو کہ جس ملک کی سپاہ ہی دہشت گردوں کی سہولتکار ہوں، انہیں لا کر بسانے کی دلیلیں فراہم کرتی رہی ہوں اور تو اور ان کو ساتھ ملا کر سیاست دانوں کو اغوا کرتی ہوں۔ وہاں امن تو پھلنے پھولنے سے رہا۔
ذیل میں پاکستان میں دہشت گردی کی واپسی میں اس مافیہ کے کردار کی تاریخ کے متعلق اپنی کتاب ”دزدِ نیم شب کا رقیب“ کے متعلقہ اقتباسات جو پاکستان میں دہشت گردی کی واپسی کی ٹائم لائن ہے۔ پڑھیے اور سر دھنیے کہ کیسے آپ کو ایندھن بنانے کا سامان کیا گیا۔ اور آپ کے ٹیکس کے پیسوں سے ہی آپ کے قاتلوں کو حسبِ منشاء لایا لے جایا جاتا رہا۔ پڑھیے اور اپنی قسمت پر ماتم کیجیے کہ جن کے محافظ ان کا سودا کرآئیں اُن کا اپنی قسمت پر رونا ہی بنتا ہے۔
1/5
گورنر راج لگانے کی تمہاری اوقات نہیں، نہ تم ووٹ آف نو کانفیڈنس لا سکتے ہو۔ قوم تمہیں پہچانتی ہے، تمہاری حیثیت جانتی ہے۔ ڈر کے مارے جتنا مرضی زور لگا لو، پاکستان کا ایک ہی کانفیڈنس ہے، اور اُس کا نام عمران خان ہے!
عاصم منیر، تمہارے پاس ایک ہی راستہ ہے۔ براہِ راست مارشل لاء لگاؤ، اور وہ بھی تم 10 دن سے زیادہ نہیں چلا سکو گے۔ تمہارے اپنے تمہارے ساتھ وہ کرے گی جو تاریخ میں کبھی نہیں ہوا ہوگا۔