The 3 hour disappear
Once a week, completely vanish for 3 hours. No phone. No wifi. No people. Go sit somewhere alone. Walk. Think. Exist without performing for anyone. Most people have never spent 3 hours truly alone. This is where you start to hear yourself again.🌿
آپ ذرا تصور کریں کہ آپ ایک ترقی یافتہ ملک (آسٹریلیا) میں نیشنلٹی لے چکے ہیں، بچوں کے ساتھ پرسکون زندگی گزار رہے ہیں لیکن صرف وطن کی محبت کو دل میں زندہ رکھنے کے لیے بچوں کو کچھ دن پاکستان واپس لے جانا چاہتے ہیں تاکہ وہ بھی اپنا وطن اپنی مٹی دیکھ سکیں۔ ذرا تصور کریں کہ آپ کچھ دن پہلے حج کی سعادت بھی حاصل کر کے آئے ہیں۔ اور اب آسٹریلیا سے اپنے وطن آ کر اپنے بچوں کو پاکستان دکھانا چاہ رہے ہیں، انھیں بتانا چاہ رہے ہیں کہ یہ مٹی ان کی ہے۔
ذرا تصور کریں کہ آپ اپنے بچوں کو اپنے گھر ، اپنے دیس لائے ہوئے ہیں اور راستے میں آپ کو ڈاکو لوٹ لیتے ہیں۔ ان بچوں پہ ڈاکؤ تو کیا ڈر چھوڑیں گے کہ ان ڈاکوؤں کے لوٹنے کے بعد آپ کے اپنے وطن کے محافظ بھی پہنچ کر آپ پہ فائرنگ شروع کر دیتے ہیں۔ ایک گولی نہیں، گولیوں کی بوچھاڑ۔ آپ کو گولیاں لگ رہی ہیں، آپ کے بچوں کو گولیاں لگ رہی ہیں اور آپ کا جرم بس اتنا ہے کہ آپ اپنے وطن واپس آئے تھے، اپنے بچوں کو وطن واپس لائے تھے۔ پہلے ڈاکوؤں نے لوٹا اور اب پولیس والے گولیاں مار رہے ہیں۔ آپ کے سامنے آپ کی نو سال کی بچی گولیاں لگنے سے مر جاتی ہے، آپ کی پوری فیملی گولیوں سے چھلنی ہو جاتی ہے۔ اور یہ کوئی افسانہ نہیں، سچا واقعہ ہے ہمارے وطن میں پیش آنے والا، چکوال میں بلاوجہ گولیوں سے بھون دی جانے والی فیملی کا۔ ذرا تصور تو کریں کہ ان لوگوں پہ کیا گزری، ان پہ کتنا بڑا ظلم ہوا اور یہ ظلم اس ادارے نے کیا ، جس نے ان کی حفاظت کرنی تھی۔ ذرا تصور تو کریں، ہم پردیس میں بیٹھے ہوئے ایسی لاقانونیت کے بعد کس دل سے پاکستان آئیں گے۔ پاکستان جانے کا سوچ کر ہمارے دل پہ کیا گزرتی ہو گی۔ ذرا تصور تو کریں کہ اپنے دل سے اپنے وطن کی یاد کو نکالنے کی کوشش کرتے ہوئے ہم پہ کیا گزر رہی ہو گی۔ اس فیملی کی تکلیف محسوس کرتے ہوئے ہم سب کتنے دکھی ہوں گے، کتنے پریشان ہوں گے۔
Lahore, karachi and Islamabad need more parties like this. Wanna go to the masjid? Go to the masjid. Wanna go clubbing? Go clubbing. It's really that simple.
دفتر جاتے ہوئے روز یہ مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں کہ خستہ حال موٹر سائیکلوں پہ سوار پرانے کپڑے پہنے الجھے بالوں والے ابو لوگ اپنی بیٹیوں کو تعلیمی اداروں یا نوکری کی جگہوں پہ چھوڑ رہے ہوتے ہیں انکے پیروں میں معمولی سی چپلیں ہوتی ہیں لیکن آنکھوں میں خواب ہوتے ہیں کہ بیٹی کو طاقتور