جاگیردار بھٹو صاحب کی طرف سے اتفاق گروپ آف کمپنیز کے قومیائے جانے کے بعد جب میاں شریف نے ہجرت کر کے دبئی میں گلف سٹیل ملز لگائی اور اتنی چلائی کہ قطر کے امیر تک کو قرض دئیے، جس قرض کے عوض بعد ازاں جب قطر کے پاس رقوم آئیں تو ایون فیلڈز والے فلیٹ ایڈجسٹ ہوئے۔ تو ضیا الحق مرحوم نے انہیں ایک دفعہ دورہ امارات کے دوران پاکستان واپس آ کر کاروبار دوبارہ شروع کرنے کے عوض اتفاق فاونڈریز لوٹانے کی پیش کش کی تو وہ گلف سٹیل بند کر کے واپس لوٹ آئے۔ بعد ازاں یہی گلف سٹیل سعودیہ منتقل کی گئی اور وہاں نئے نام سے لگائی اور خاندانی تقسیم میں یہ میاں نواز شریف کے بچوں کے حصے میں آئی اور یوں حسین نواز اس کے منتظم ٹھہرے۔ پاکستان میں ایک عام سریا بنانے والی فاونڈری کا مالک نہین سنبھالا جاتا اور یہ مل اربن سکریپ سے سریہ بنانے کی سب سے بڑی مل ہے۔ حسین نواز اسی مل کی کمائی سے اپنے والد کی سیاست کا خرچ اور لاہور میں شریف میڈیکل سٹی کے اخراجات اٹھاتے ہیں۔
اس طرح کی ٹویٹ سے یوتھڑوں اور "للی کتا فورس" کے مالکان کو بہت آگ لگتی ہے اس لئے سوچا انہیں مزید آگ لگائی جائے۔ لو جی ہفتے بھر کا اہتمام ہو گیا۔
شروع ہو جاو اور ڈالرز بناو
🥳🥳🥳