کیسی کیسی غلیظ عورتیں ہم پر مسلط ہوگئیں شوبز انڈسٹری میں
بولنے سے پہلے سوچ لیا کرو یہ نا یوسف ہیں نا یعقوب یہ ایک ناجائز بچی کا باپ ھے پانچ بچوں کی ماں کو بھگا کر عدت میں نکاح کرنے والا غلیظ ترین انسان ھے
اسی طریقے سے اب معیشت کو آگے بڑھانے کے لیے بڑے پیمانے پر جو استحکام لانا ہے، اس سے عام آدمی کا کیا تعلق؟ عام آدمی کو تو غرض ہے روزگار سے، اچھے کام سے، زراعت اور صنعت کی ترقی سے اور اس بات سے کہ ہماری برآمدات کیسے بڑھیں گی۔ پھر ملازم پیشہ نوجوان، سرکاری ملازم یا پرائیویٹ سیکٹر سے وابستہ عام آدمی کو ہم کیا ریلیف دے سکتے ہیں؟ اور کارخانوں کو تیزی سے چلانے کے لیے کیا سہولت دی جا سکتی ہے؟ اس سب کے لیے ہمیں فنڈز اور وسائل چاہیے۔ اگر ہم نے ملک میں ترقی لانی ہے اور معیشت کو آگے بڑھانا ہے، تو ہمیں ایسے اقدامات کرنے ہوں گے جس سے برآمدات بڑھیں، کارخانے دوبارہ بحال ہوں اور ہماری معیشت بہتر ہو۔
کل رات میں نے خود آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر سے بڑی تفصیل سے بات کی، انہوں نے پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کی بہت تعریف کی۔ میں آخری بات یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہم نے جو پورا ایک ڈیڑھ مہینہ صوبوں کے ساتھ مشورہ کیا، اس سلسلے میں سب سے پہلے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز صاحبہ کا دل سے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں اور اپنے قائد میاں محمد نواز شریف صاحب کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اس کام میں پہلا قدم اٹھایا اور میں ان کا بہت مشکور ہوں۔
اس کے بعد میں صدر آصف علی زرداری صاحب، چیئرمین بلاول بھٹو صاحب، وزیراعلیٰ سندھ اور ان کی پوری ٹیم کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ اسی طرح میں خیبر پختونخوا کے ہمارے نوجوان وزیراعلیٰ صاحب کا بھی شکر گزار ہوں اور میر سرفراز بگٹی صاحب کا بھی دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ میں اس بات پر سب کا بہت ممنون ہوں کہ صوبوں اور وفاق کے اس باہمی تعاون اور مدد کے بغیر، اتنے بڑے چیلنجز کے باوجود ہم اس مقام پر کبھی نہ پہنچتے جہاں آج کھڑے ہیں۔ اب ہمیں آگے بڑی تیزی سے بڑھنا ہے، اللہ آپ سب کو ہمت دے۔
*وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں گفتگو*
Sent from WhatsApp
https://t.co/j5Xe9HmQI0
قومی اقتصادی کونسل (NEC) کا یہ فورم جس بجٹ کے سلسلے میں یہاں اکٹھا ہوا ہے، اس حوالے سے پچھلے کئی ہفتوں سے صوبوں کے ساتھ ہماری بھرپور مشاورت جاری تھی کہ مزید وسائل کہاں سے لائے جائیں۔ آج ہمارا سب سے بڑا چیلنج اپنے دفاع کو مضبوط بنانا ہے۔
دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں ہماری پوری قوم قربانیاں دے رہی ہے، خصوصاً صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے عوام، مائیں، بہنیں، بچے اور نوجوان اس کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کے ساتھ ساتھ ہماری قانون نافذ کرنے والے ادارے اور مسلح افواج (Armed Forces) کے جوان اور افسران بھی دن رات قربانیاں پیش کر رہے ہیں۔
میں سمجھتا ہوں کہ جب تک ہم یکجاں اور متحد ہو کر اس دہشت گردی کا مقابلہ نہیں کریں گے، اس ناسور کا خاتمہ ممکن نہیں ہو سکے گا۔ مجھے کامل یقین ہے کہ ان عظیم قربانیوں، باہمی اتحاد اور اتفاق کے نتیجے میں ہم اس کا مکمل صفایا کرنے میں ضرور کامیاب ہوں گے، انشاءاللہ۔
*وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں گفتگو*
Sent from WhatsApp
https://t.co/j5Xe9HmQI0
مثال کے طور پر، حالیہ عالمی بحران کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں جس طرح آسمان کو چھونے لگیں، وہ ایک بہت بڑا چیلنج تھا۔ اگر وفاق اور صوبے باہم متحد نہ ہوتے، تو اس انتہائی مشکل وقت سے نکلنا ممکن نہ ہوتا۔ اس سلسلے میں، میں پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے وزرائے اعلیٰ کا تہہِ دل سے مشکور ہوں کہ انہوں نے بھرپور تعاون کا مظاہرہ کیا۔
لیکن اس صوبائی معاونت سے بھی پہلے، وفاق اپنے انتہائی محدود وسائل کے باوجود 128 ارب روپے عوام کو ریلیف فراہم کرنے پر خرچ کر چکا تھا۔ بصورتِ دیگر، جو راشننگ اور پیٹرول پمپس پر لمبی لائنیں دیگر ممالک میں دیکھی گئیں، الحمدللہ پاکستان میں دور دور تک اس کا اثر بھی نظر نہیں آیا۔
اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ چاروں صوبوں اور وفاق کے مابین بہترین ہم آہنگی، باہمی افہام و تفہیم اور ایک ٹیم ورک موجود تھا۔ اسی مشترکہ حکمتِ عملی کا نتیجہ تھا کہ پیٹرول پمپس پر لائنیں نہیں لگیں اور ہم عوام کی توقعات پر پورا اترنے کے لیے اپنی حد تک ممکنہ کوششیں کر سکے۔
*وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں گفتگو*
Sent from WhatsApp
https://t.co/j5Xe9HmQI0
آج ہم قومی اقتصادی کونسل (NEC) کے اس فورم پر جمع ہیں۔ میں تمام صوبائی وزرائے اعلیٰ کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے اس پورے عرصے میں ہر مرحلے پر مشاورت اور معاونت فراہم کی۔ اسی طرح وفاق نے بھی پوری دلجمعی اور انتہائی سنجیدگی کے ساتھ ہر معاملے پر صوبوں سے مشاورت کی، اور ہم نے پاکستان کے بہترین مفاد میں قومی فیصلے کیے۔
یہی وجہ ہے کہ بڑے بڑے چیلنجز کا سامنا کرنے کے باوجود، آج میکرو لیول پر ہماری معیشت مستحکم (Stable) ہے۔ تاہم، اب اس میں ترقی (Growth) کی شمولیت ایک انتہائی اہم مرحلہ ہے۔ روزگار کے مواقع، پیداوار، برآمدات اور معاشی سرگرمیوں کو آگے بڑھانا آج ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
اس حوالے سے ہم سب نے مل کر کوشش کی کہ آئی ایم ایف (IMF) پروگرام پر عمل پیرا رہیں، حالانکہ اس دوران کئی مشکل مراحل بھی آئے۔ مثال کے طور پر، حالیہ عالمی بحران کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں، جو کہ ایک بہت بڑا چیلنج تھا۔ اگر وفاق اور صوبے باہم متحد نہ ہوتے، تو اس انتہائی مشکل وقت سے نکلنا ممکن نہ ہوتا۔
*وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں گفتگو*
Sent from WhatsApp
https://t.co/j5Xe9HmQI0
عالمی غیر سرکاری تنظیم باکو انیشی ایٹو گروپ نے سکھ فریڈم انٹرنیشنل کے حوالے سے دستاویزی فلم جاری کر دی
دستاویزی فلم میں جون 1984ء میں شری دربار صاحب میں بھارتی فوجیوں کی کارروائی، پنجاب بھر کے گوردواروں پر حملوں اور بعد ازاں سکھ مخالف فسادات کو سکھ تاریخ کے اہم واقعات کے طور پر پیش کیا گیا ہے
جون 1984ء میں بھارتی فوج نے شری دربار صاحب (گولڈن ٹیمپل) سمیت پنجاب کے 75 سے زائد گوردواروں میں کارروائیاں کیں
بھارتی حکومت نے اس کارروائی کو ”آپریشن بلیو اسٹار“ کا نام دیا جبکہ سکھر برادری اسے ”بیٹل آف امرتسر“ یا تیجا غلوخارا کے طور پر یاد کرتی ہے
دستاویزی فلم میں شری دربار صاحب کو سکھ برادری کی اجتماعی، مذہبی اور سماجی زندگی کا مرکزی مقام قرار دیا گیا
یہ مقام سکھوں کے اجتماع، قیادت اور سماجی فلاح کے تصور ”سربت دا بھلا“ سے جڑا ہوا ہے
جون 1984ء کے واقعات کے چند ماہ بعد نومبر 1984ء میں بھارت میں سکھ مخالف فسادات رونما ہوئے جن میں ہزاروں سکھوں کو نشانہ بنایا گیا
@TararAttaullah پاکستان کی افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتیں قابلِ فخر ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف یہ کامیاب کارروائیاں امن و استحکام کے لیے ریاست کے غیر متزلزل عزم کو ظاہر کرتی ہیں۔ 🇵🇰
اوورسیز پاکستانیوں نے ایک بار پھر اعتماد کا ووٹ دے دیا۔ 4.25 ارب ڈالر کی تاریخی ترسیلاتِ زر وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں مضبوط ہوتے پاکستان کی روشن تصویر پیش کر رہی ہیں۔ 🇵🇰
پاکستان مسلم لیگ ن کے سوشل میڈیا ونگ کی قیادت ایک نہایت اہم ذمہ داری ہے۔ میری رائے میں عاطف رؤف اس منصب کے لیے بہترین انتخاب ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ اپنی ذمہ داریاں نہایت مؤثر انداز میں ادا کی ہیں اور ٹیم کو منظم رکھنے کی صلاحیت کا عملی مظاہرہ کیا ہے۔ اختلافی آراء اور تنقید کے باوجود ان کا رویہ مثبت اور تعمیری رہا ہے۔
اعلیٰ قیادت سے گزارش ہے کہ پارٹی کے سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس کو دوبارہ فعال کرنے کے لیے عاطف بھائی کو ایک بار پھر موقع دیا جائے۔ انہوں نے پورے پاکستان سے بے لوث اور باصلاحیت سوشل میڈیا انفلوئنسرز کو اکٹھا کر کے پارٹی کے لیے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔
@MaryamNSharif@Atifrauf79
سوشل میڈیا ہیڈ پاکستان مسلم لیگ ن کی یہ ذمہ داری یقیناً اہم ہے، اور میرے خیال میں @Atifrauf79 صاحب اس کے لیے موزوں انتخاب ہیں۔ انہوں نے ماضی میں اپنی ذمہ داریاں ہمیشہ بہتر انداز میں نبھائی ہیں اور ٹیم کو منظم طریقے سے چلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اختلافی آراء اور تنقید کے باوجود ان کا رویہ مثبت رہا ہے۔ اعلیٰ قیادت سے گزارش ہے کہ پارٹی سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس کو دوبارہ فعال کرنے کے لیے عاطف بھائی کو ایک بار پھر موقع دیا جائے۔ جنہوں نے پورے پاکستان سے سوشل میڈیا انفلوینثر اور بے لوث ہیرے اکٹھے کیے اور انکے ساتھ مل کر پارٹی کے لیے خدمات پیش کی
@MaryamNSharif
میں دونوں ممالک کی قیادت اور عوام کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کرنا چاہتا ہوں۔ ہم حال ہی میں چین کے دورے سے واپس آئے ہیں، جہاں پاک چین دوستی کے لیے ایک نئے عزم اور اس وژن کو حقیقت کا روپ دینے کا بھرپور جذبہ دیکھنے کو ملا۔
وزیراعظم شہباز شریف کے اس حالیہ دورہِ چین نے دونوں ممالک کی دوستی کو نئی بلندیوں پر پہنچا دیا ہے۔ میں ہمیشہ اپنے چینی دوستوں سے کہتا ہوں کہ یہ دوستی ہمیں نسل در نسل منتقل ہوئی ہے؛ یہ وہ قیمتی ورثہ ہے جو ہمیں اپنے بڑوں سے ملا ہے۔ جو کہانیاں ہم سنتے آئے ہیں اور جس ترقی کا سفر ہم نے مل کر طے کیا ہے، وہ واقعی بے مثال ہے۔
پاکستان اور چین نہ صرف ایک مشترکہ سرحد سے جڑے ہیں، بلکہ ہمارے پہاڑ، ہمارے دریا اور ہمارا وہ لازوال رشتہ بھی سانجھا ہے جسے آنے والے ہر دور میں یاد رکھا جائے گا۔
میں اس موقع پر صدر شی جن پنگ کی بصیرت انگیز قیادت میں شروع کیے گئے 'گلوبل گورننس انیشیٹو' (Global Governance Initiative) کے لیے ہمارے پختہ عزم کا اعادہ کرنا چاہتا ہوں۔ اس اقدام نے بہت ہی کم عرصے میں دنیا بھر میں شاندار نتائج دکھانا شروع کر دیے ہیں، جس کا مقصد نہ صرف عالمی سطح پر ترقی پذیر ممالک (Global South) کی نمائندگی کو بڑھانا ہے، بلکہ وہاں کے عوام کے معیارِ زندگی اور روزگار کو بھی بہتر بنانا ہے۔
یہاں معزز احسن اقبال صاحب بھی تشریف فرما ہیں جو سی پیک (CPEC) کے ایک عظیم رہنما اور وکیل رہے ہیں۔ جب ہم سی پیک کی بات کرتے ہیں، تو اس منصوبے نے گزشتہ برسوں کے دوران دونوں ممالک کے عوام کو ایک دوسرے کے بہت قریب لا کھڑا کیا ہے۔
*وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاءاللہ تارڑ کا پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کی تعمیر اور 75 سالہ پاک چین دوستی کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب*
میں ہمیشہ یہ کہتا ہوں کہ میں خود بھی اس عوامی رابطے اور تبادلے کی ایک زندہ مثال ہوں جو آئی ڈی سی پی سی (IDCPC) کے ساتھ رہا ہے۔ کئی دہائیاں پہلے، حکومتِ پنجاب میں ایک نوجوان افسر کی حیثیت سے، مجھے یہ اعزاز حاصل ہوا کہ میں چین جانے والے متعدد وفود کا حصہ رہا۔ اس دوران ہماری سیاسی جماعت اور آئی ڈی سی پی سی کے درمیان بہت سے معلوماتی تبادلے ہوئے۔ آج میں آپ کے سامنے اس بات کی گواہی کے طور پر کھڑا ہوں کہ یہ رابطے اور تبادلے انتہائی سودمند، تعمیری اور ہمارے ملک کے عوام کے بہتر مستقبل کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
معزز مہمانِ گرامی! آخر میں، میں اپنی وزارت، اپنے وزیراعظم اور اپنی حکومت کی جانب سے اس عزم کا اعادہ کرنا چاہتا ہوں کہ ہم پاک چین دوستی پر پختہ یقین رکھتے ہیں۔ ہم سی پیک (CPEC) کو مزید آگے بڑھانے اور 'گلوبل گورننس انیشیٹو' کو فروغ دینے کے لیے پوری طرح کاربند ہیں۔ اس منصوبے پر عملدرآمد کے ہر مرحلے میں آپ ہمیشہ ہمیں اپنے سے ایک قدم آگے ہی پائیں گے۔
پاک چین دوستی زندہ باد!
*وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاءاللہ تارڑ کا پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کی تعمیر اور 75 سالہ پاک چین دوستی کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب*
صدر شی جن پنگ کے اسلام آباد کے اس تاریخی دورے کو بھلا کون بھول سکتا ہے، جس نے دونوں ملکوں کے عوام کے لیے ترقی اور خوشحالی کے ایک نئے سفر کا آغاز کیا تھا۔
وزیرِ اطلاعات و نشریات کی حیثیت سے میرا یہ پختہ یقین ہے کہ ثقافتی وفود کا تبادلہ، عوامی سطح پر رابطے اور میڈیا کے شعبے میں تعاون اس شراکت داری اور باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
گزشتہ 75 برسوں نے ایک بات واضح طور پر ثابت کر دی ہے کہ یہ دوستی ہر موسم اور ہر امتحان پر پوری اتری ہے۔ ہم نے وقت کے مختلف ادوار اور دہائیاں دیکھی ہیں، لیکن ہر گزرتے سال کے ساتھ اس دوستی کی طاقت اور رفتار میں مزید اضافہ ہی ہوا ہے۔
*وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاءاللہ تارڑ کا پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کی تعمیر اور 75 سالہ پاک چین دوستی کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب*
معزز پروفیسر احسن اقبال صاحب (وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و خصوصی اقدامات)، عزت مآب جیانگ زیڈونگ (پاکستان میں چین کے سفیر)، معزز سفارت کارو، اور معزز خواتین و حضرات!
صبح بخیر۔
یہ نہ صرف میرے اور میری حکومت کے لیے بلکہ پوری پاکستانی قوم کے لیے انتہائی فخر کا مقام ہے کہ آج ہم پاکستان اور چین کے درمیان قائم ایک ایسے اٹوٹ بندھن کے 75 سال منا رہے ہیں، جسے بحیثیت قوم ہم سب اپنے دل و جان سے عزیز رکھتے ہیں۔ یہی وہ لازوال رشتہ ہے جو ہمیں آپس میں جوڑے ہوئے ہے۔
دنیا کے بہت سے ممالک کے درمیان برادرانہ، دوستانہ، قریبی یا خوشگوار تعلقات ہوتے ہیں، لیکن ہمیں یہ منفرد اعزاز حاصل ہے کہ ہمارا رشتہ 'آئرن برادرز' (Iron Brothers) کا ہے اور یہ ایک ایسی لازوال دوستی ہے جو پوری دنیا میں صرف پاکستان اور چین کے حصے میں آئی ہے۔
*وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاءاللہ تارڑ کا پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کی تعمیر اور 75 سالہ پاک چین دوستی کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب*
سی پیک (CPEC) گزشتہ سالوں میں دونوں ممالک کے عوام کے مابین قربت اور ہم آہنگی کو فروغ دینے کا ایک اہم ذریعہ ثابت ہوا ہے۔ ہم اس دوستی پر کامل یقین رکھتے ہیں، پاک چین دوستی زندہ باد!
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری کے حوالے سے جائزہ اجلاس
خسارے کا شکار ریاستی ملکیتی اداروں کی نجکاری ہماری ترجیح ہے : وزیراعظم
وزیراعظم کی بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کے عمل کی رفتار تیز کرنے کی ہدایت
نجکاری کے تمام عمل کو انتہائی شفاف طریقے سے مکمل کیا جائے : وزیراعظم
ڈسکوز کی نجکاری کے بعد، مضبوط ریگولیٹری فریم ورک بنایا جائے : وزیراعظم کی ہدایت
اجلاس کو ڈسکوز کی نجکاری کے حوالےسے سے پیشرفت پر بریفنگ
پہلے فیز میں اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی، گوجرانوالا الیکٹرک پاور کمپنی اور فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کی نجکاری کی جائے گی : بریفنگ
ان تین ڈسکوز کی نجکاری کے حوالےسے ایکسپریشن آف انٹرسٹ ملکی و بین الاقوامی اخبارات میں دیا جا چکا ہے : بریفنگ
کابینہ کی نجکاری کمیٹی نے ان تین ڈسکوز کی نجکاری کے حوالےسے ٹرانزیکشن اسٹرکچر کی منظوری دے دی ہے : بریفنگ
سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لئے روڈ شو اس ماہ سے منعقد کئے جا رہے ہیں : بریفنگ
سعودی عرب ، ترکیہ اور چین کے سرمایہ کاروں کے لئے بین الا
@AttaTararoffice@TararAttaullah گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ سے ملاقات کی جس میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں بہتر گورننس کے لیے صوبائی اور وفاقی سطح کے درمیان رابطوں کو مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی۔
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی اور وفاقی وزیر اطلاعات عطاءاللہ تارڑ کے درمیان ملاقات
ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال
ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی و انتظامی صورتحال پر بھی گفتگو ہوئی
ملاقات میں وزیراعظم کے میڈیا کوآرڈینیٹر بدر شہباز وڑائچ بھی موجود تھے
1/2
Those elements who act on the agenda of enemy forces and conspire against their homeland are criminals against the trust of the nation and the interests of the country. Such characters should face the strictest accountability according to the law so that everyone knows that there is no room for betrayal, chaos and hostility towards the homeland. Those who stand against the interests of Pakistan always face disgrace and public hatred in history.