جب کیمرے چل رہے تھے تو اسے غازی کہا گیا… پھر اسے بھلا دیا گیا۔
یہ ہے تیمور خان۔ ایک پشتون نوجوان۔
پاکستان یو ایس ایلومنائی نیٹ ورک (PUAN) — کراچی چیپٹر کا ہمارا ساتھی بھائی۔
ایک یتیم۔ ایک بیٹا۔ ایک بھائی۔ ایک غازی۔
2023 میں کراچی پولیس آفس (KPO) حملے کے دوران، تیمور ڈٹ کر کھڑا رہا۔ اس نے دہشتگردوں کا مقابلہ کیا۔ اس پر گرنیڈ پھینکا گیا۔ اس کی ایک آنکھ چلی گئی۔ اور جب دھواں چھٹا، ڈاکٹروں نے پایا کہ اس گرنیڈ کے ٹکڑے اب بھی اس کے سر کے اندر موجود ہیں۔
وہ بچ گیا… کسی معجزے سے۔
اس وقت حکومت نے وعدے کیے۔ کیمروں کے سامنے۔ میڈیا کے سامنے۔ سیاستدان اور افسران اس کے اسپتال کے بستر کے پاس کھڑے ہو کر کہتے رہے کہ اس کی مدد کی جائے گی۔ اس کے اپنے محکمے نے بھی تقاریر کیں۔
لیکن جب سرخیاں ختم ہو گئیں؟ کچھ نہیں ہوا۔
نہ اس کے علاج میں کسی نے مدد کی۔ نہ وہ حکام جنہوں نے وعدے کیے۔ نہ وہ ادارے جن پر اس کا حق تھا۔ میں نے خود کوشش کی۔ میں نے اسے سیاستدانوں سے ملانے کی کوشش کی۔ میں نے ہر متعلقہ سرکاری افسر تک رسائی کی کوشش کی۔ لیکن کوئی بھی آگے نہ آیا۔
تیمور اکیلا لڑتا رہا۔ مسلسل درد میں۔ اپنے سر میں موجود گرنیڈ کے ٹکڑوں کا بوجھ اٹھائے، اور دل میں بے قدری کا بوجھ لیے۔ اسے ہر طرف سے منفی رویہ ملا، یہاں تک کہ اپنے محکمے سے بھی۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کے لیے کسی نے جدوجہد نہیں کی۔ کسی نے بھی نہیں۔
اور اب؟
اب یہ زخم اور یہ اذیت ایک اور بڑی آزمائش میں بدل چکی ہے۔
تیمور کینسر سے لڑ رہا ہے۔
سب کچھ برداشت کرنے کے بعد… گرنیڈ، آنکھ کا ضیاع، برسوں کا درد اور خاموشی اور ٹوٹے ہوئے وعدے… اب کینسر۔
وہ اسپتال کے بستر پر ہے۔ زندگی کی ڈور سے بمشکل جڑا ہوا۔ ایک نجی اسپتال میں آہستہ آہستہ کمزور ہوتا جا رہا ہے، کیونکہ وقت پر کسی نے اس کا ساتھ نہیں دیا۔
اور سب سے دل توڑ دینے والی بات یہ ہے:
اس کے پاس کوئی نہیں ہے۔
وہ یتیم ہے۔ اس کی ایک بوڑھی ماں ہے۔ ایک چھوٹا بھائی۔ بس یہی اس کا کل سرمایہ ہے۔ نہ باپ۔ نہ کوئی مضبوط سہارا۔ نہ کوئی محکمہ اس کے لیے کھڑا ہے۔ نہ کوئی سیاستدان اس کے اخراجات اٹھا رہا ہے۔ نہ کوئی افسر اس کی بات سن رہا ہے۔
وہ ایک پشتون ہے۔ ایک پاکیزہ روح جس نے اپنے جسم اور خون سے کراچی کا دفاع کیا۔ اور آج وہ اپنی ہی زندگی کے لیے لڑ رہا ہے، جبکہ اس کے پاس صرف ایک ضعیف ماں اور ایک کمسن بھائی ہیں جو اسے خاموشی سے مٹتے دیکھ رہے ہیں۔
مجھے نہیں معلوم اب کیا کہوں۔ مجھے نہیں معلوم کس کے پاس جاؤں۔ مجھے نہیں معلوم کون اس کی مدد کر سکتا ہے۔
لیکن میں ایک بات جانتا ہوں:
تیمور خان کو اس طرح نہیں مرنا چاہیے۔
نہیں… اس کے بعد نہیں کہ اس نے سب کچھ قربان کر دیا۔
اگر آپ صحافی ہیں، ایک باضمیر سیاستدان ہیں، ڈاکٹر ہیں، مخیر انسان ہیں یا صرف ایک انسان ہیں—تو اس پیغام کو پھیلائیں۔ ہر اس اتھارٹی کو ٹیگ کریں جس تک آپ کی رسائی ہے۔ سندھ حکومت کو ٹیگ کریں۔ وفاقی وزارتوں کو ٹیگ کریں۔ ان نیوز چینلز کو ٹیگ کریں جنہوں نے اس کی بہادری دکھائی اور پھر خاموش ہو گئے۔
کوئی تو ہو جو تیمور خان کو بچا لے… اس سے پہلے کہ یہ آخری ڈور بھی ٹوٹ جائے۔
#SaveTehmoorKhan #GhaziNotForgotten #KPOAttack #KarachiHero #TehmoorKhan
(As received)
اتنی ساری اسٹیٹمینٹس اور ان میں ایک بھی زکر NOC جو آپکا فرض ھے ھمیں دینا اس پر مکمل خاموشی۔ کیا ریاست 10th May کو عورتوں کو مارچ کرنے دے گی؟ پی پی پی کے چیرمین سندھ پولیس کے شرمناک رویہ کو مدنضر رکھ کر عورتوں کے ھونے والے پروگرام کو نا عزت و سکون سے ھونے کا وعدہ کریں گے؟
Thank you, Senator @sherryrehman for submitting the Calling Attention Notice in the Senate regarding forced evictions in the Bari Imam area. The residents there have lived in the community for decades! A durable solution is essential. Rather than relying solely on financial support, Govt should explore options to construct new housing for these families and to safeguard their right to secure shelter.
Gender equality in journalism isn’t just about fairness — it’s about the integrity of the truth we report. A trade union that protects its women protects press freedom itself.
Javeria Siddique
Journalist from Pakistan 🇵🇰
IFJ Coordinator for Asia Pacific
@IFJGlobal@Paris
This is becoming a serious issue across Pakistan. Vloggers & Content Creators have no regard for people's privacy and I feel that the relevant authorities should make it illegal to do so with strict enforcement.
Can't say about other jurisdiction, but perhaps the Punjab Government can take the first step.
@Marriyum_A@alimdar82@AzmaBokhariPMLN
Time of the year when everyone is advised to stay in the shade and avoid heatwaves, yet trees and forests are demolished at the same time in the name of development.
کوئی ریگولیٹری اتھارٹی نہیں رہی ہمارے ملک میں ،
ایک دوست نے ابھی بتایا ہے کہ
پچھلے 24 گھنٹوں سے فیصل موورز نے اسلام آباد سے کراچی جانے والی سواریوں کو ذلیل کر رکھا ہے۔
15 اپریل کی رات 11 بج کر 20 منٹ پر 26 نمبر ٹرمینل سے فیصل موورز کی سلیپر بس کراچی کے لیے روانہ ہوئی، تقریبا رات 1 بج کر 30 کے آس پاس گاڑی سالٹ رینج پہنچی تو اچانک بند ہو گئی اور گاڑی میں شدید جلنے کی بدبو پھیل گئی اور دھواں آنے لگا جس پر بس موجود عورتوں، بچوں سمیت دیگر سواریوں کو شدید مشکل کا سامنا کرنا پڑا۔
اب وہ بس آگے چلنے سے قاصر تھی تو پھر اسلام آباد ٹرمینل سے دوسری بس منگوائی گئی اور وہ خالی بس ڈیڑھ گھنٹے کا سفر 4 گھنٹے میں طے کر کے سالٹ رینج پہنچی، تاہم وہاں سے آگے کا سفر اس بس پر شروع کیا۔
شام کے تقریبا 5 بجے فیصل موورز کی اس بس نے روھڑی انٹرچینج جیسے ہی کراس کیا تو وہ بھی اچانک بند ہو گئی اور رات کے 10 بج رہے ہیں اور پچھلے 5 گھنٹوں سے لوگ یہاں پر بچوں عورتوں کے ساتھ ذلیل اور خوار ہو رہے ہیں اور ابھی تک فیصل موورز کی انتظامیہ جن کو متعدد بار فون پر شکایات بھی درج کرائی جا چکی ہیں مگر یہ بیغیرت انتظامیہ ٹس سے مس نہیں ہو رہی اور نہ ہی یہاں پر موٹروے پولیس یا کوئی لوکل پولیس سواریوں کی مدد کر رہی ہے موٹوے پولیس والے آئے انھوں نے کہا کہ ہم کچھ نہیں کر سکتے یہ آپ کا اور فیصل موورز کا معاملہ ہے۔
ہمارا ابو اور بھائی نہیں ہے ہم دو بہنوں نے گھر بنایا وہ بھی CDA نے توڑ دیے
میری 25 ہزار اور دوسری بہن کی 20 ہزار سیلری ہے اب میں کہاں سے گھر بناوں؟
بری امام کے رہائشیوں کے ساتھ ظلم ہورہا ہے بغیر بتائیں گھر توڑ دیے گئے۔۔
غریب کا تو سب کچھ اس کا گھر ہی ہوتا ہے اب یہ بیچاری کہاں 💔
حوا کی بیٹی
روبینہ خالدہ تمہارا قصور نہیں ، تم کو تو پیدا ہی نہیں ہونا چاہیے تھا، آخر تم زندہ رہ کر ان بھیڑیوں کے درمیان کیسے سکون سے رہتی ، اب تک ابدی آرام میں ہو۔
آپ کو یاد ہوگا ، کچھ وقت پہلے بلوچستان میں ایک شادی شدہ جوڑے کو قتل کرکے انکی وڈیو بنائی گئی تھی، لیکن زیر نظر تصویر سندھ کے شہر گمبٹ کی ہے، جہاں روبینہ خالدہ چانڈیو پسند کی شادی کرتی ہے، اور جب کچھ دنوں بعد وہ اپنے گھر جاتی ہے تو رات کو اس کو گھر سے نکال کر سینکڑوں لوگوں کے درمیان اس کو قتل کرکے وڈیو بنائی جاتی ہے اور سوشل میڈیا پر شیئر کی جاتی ہے۔
سندھ میں لا قانونیت اپنے عروج پر، حکومت سندھ اپنے لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے میں مکمل ناکام ہوچکی ہے۔ پولیس صرف جھوٹی ایف آئی آر درج کرنے میں مصروف۔
copy
@BBhuttoZardari@MediaCellPPP@AAliZardari
Malik Riaz did the same things and his whole empire sunk, he parked money in UK and it got frozen, he invested money in Dubai and it sank there too.
Any profit made by making mothers cry like this will be very short term.
@MohsinnaqviC42
the poor in Islamabad are being forced out of their homes so the rich can build their playgrounds.
these houses are older than Pakistan btw… this govt has no shame or fear of god.
It was a great honour to share the stage with @IranAmbPak Raza Amiri Moghadam & @Mushahid in a seminar hosted by Institute of Regional Studies Islamabad. Iranian Ambassaor clearly said in his speech that they only have one preference for the vanue of peace talks. It is Pakistan.
اندرونِ سندھ میں کاروکاری کے نام پر عورتوں کے قتل، حتیٰ
کہ بغیر جنازہ دفن کرنے جیسے واقعات، اس معاشرتی ظلم کی انتہا
کو ظاہر کرتے ہیں۔
یہ مسئلہ کسی ایک علاقے یا قوم تک محدود
نہیں بلکہ پشتون، پنجابی، سرائیکی، بلوچ اور دیگر معاشروں میں
بھی مختلف شکلوں میں موجود ہے، جہاں غیرت، کنٹرول اور
پدر شاہی سوچ عورت کی جان سے زیادہ اہم سمجھی جاتی ہے۔
اصل مسئلہ مذہب کی غلط تشریح، منافقت اور وہ نفسیاتی و
سماجی بیماریاں ہیں جو کمزور اور ناکام ذہنیت کو تشدد کی طرف
لے جاتی ہیں۔
جب تک قانون کی بالادستی، تعلیم اور سماجی
شعور مضبوط نہیں ہوں گے، ایسے سانحات دہراتے رہیں گے۔
#TandoMasti
#JusticeForRubina