گنڈا پور کے بعد سہیل آفریدی بھی اچھا بچہ بننے کی طرف گامزن۔ اب انکی حکومت کو زیادہ خطرہ شائد نہ ہو مگر عوامی دباؤ اور بغیر کسی ڈیل کے خان کی رہائی کا امکان کافی معدوم ہو چکا۔
کوئٹہ میں ہونے والے سیکیورٹی فیلیر اور معصوم لوگوں کی جان جانے پر ان محبِ وطنوں کی طرف سے ابھی تک کوئ ٹویٹ کوئ سوال نہیں آیا ۔۔
جبکہ عمران خان یا سوشل میڈیا کے خلاف بات کرتے زرا دیر نہیں کرتے 👏👏
بارش ہو سردی ہو دھوپ ہو گرمی ہو نادیہ خٹک ہر وقت پہلے بشری بی بی کے ساتھ اب بہنوں کے ساتھ کھڑی رہتی ہے ۔۔
یہ جو برکی نامی گد ہے اسے معافی منگوائی جائے اور اس کو ہریسمنٹ کے کیس میں اندر ڈالا جائے۔۔
نادیہ خٹک سے ان مردوں کی فوج کو معافی مانگنی چاہئے، بالخصوص کالے کوٹ والے بھائی صاحب کو ، جو کیمرے میں آنے کیلئے اتاولے ہوئے جا رہے تھے، نادیہ خٹک تحریک انصاف کی ڈائی ہارڈ کارکن ہے، جو گرمی، سردی، دھوپ، بارش میں عمران خان کیلئے سڑکوں پر نکلتی ہے۔۔!!
آج اسٹیبلشمنٹ اور انکی نالائق حکومت نے دارلحکومت میں ایک بار پھر شہریوں کو سارا دن عذاب میں مبتلا رکھا۔ قابض ٹولہ پاگل پن کی بدترین حد کو پہنچ چکا ہے تمام جمہوری اور انسانی اقدار روند کر یہ جعلی رجیم ملک کو مکمل تباہی میں دھکیل رہا ہے۔
ایک بار پھر فسطائیت شروع پرامن کارکنان پر ربڑ بُلٹس کا بے دریغ استعمال متعدد کارکنان زخمی۔ ملک پر قابض مافیا کے منہ کو خون لگ چکا ہے یہ اپنے ہی شہریوں پر گولیاں چلا کر ملک میں استحکام لانے کی باتیں کرتے ہیں۔ کس کے ایجنڈے پر آج اپنے اداروں سے اپنے ہی بے گناہ شہریوں پر گولیاں چلائی جارہی ہیں؟ پاکستان کی تاریخ میں ایسا ظلم کبھی نہیں ہوا جو آج ہورہا ہے۔