سب سے بڑا دھوکہ اس شخص نے دیا
گوہر خان کو عمران خان نے کہا تھا 26 نومبر کا مقدمہ کرو اور اس کی پیروی کرنا، خان کے کہنے پر اس نے کیس کر دیا کیونکہ پارٹی چیئرمین ہی کر سکتا تھا لیکن اسکی کوئی 27 بار سماعت ہوئی مگر گوہر خان بیان دینے نہیں گیا جس پر عدالت نے یہ کیس ہی خارج کر دیا،
@ShafiJanPTI@ImranKhanPTI ہمارے لیے تو ن کے ساتھ یہ آج کل والا جنون بھی درد سر بن گیا ہے
حرامزادو پی ٹی آئی کی جان چھوڑ کر دجال عاصم پارٹی میں شامل ہو جاؤ
کچھ غلیظ کردار صحافی کل سے بھارت میں ہونے والے لاٹھی چارج کی ویڈیوز دیکھا دیکھا کر کہہ رہے ہیں کہ اسے کہتے ہیں ظلم !!
اوئے بے شرموں ظلم اسے کہتے ہیں کہ جب 26 نومبر کو نہتے شہریوں پر جدید ہتھیاروں کے منہ کھولے گئے تھے، انڈیا سے کوئی ایک ایسا منظر ہے تو دیکھا دو
It has now been around 1,100 days since my father, Imran Khan, was imprisoned, and my brother and I haven’t heard his voice since March. For months, we’ve been denied contact with him. We remain in the dark about his access to healthcare as his eyesight continues to deteriorate. He urgently needs medical attention, and with no family or legal access, we don’t even get any second hand information or reassurance.
I’ve found myself especially missing him recently. I want to speak to him about mundane things like my cricket, books I’ve been reading and what new movies are good. I understand the people of Pakistan want their chosen leader free, but I miss my father more than ever.
But this is not just about a father. It is about Pakistan, and its future. A rigged, authoritarian regime continues to crush political opposition, undermine democratic institutions, and deny millions of Pakistanis their right to freely choose their leaders, whilst terrorising those who speak their beliefs.
I once again plea to the international community to not look away. Silence in the face of injustice only enables it.
فلک جاوید خان صاحبہ سے عدالت کے باہر سوال کیا کہ آپ لوگوں کو اینٹی نیشنل کہا جاتا ہے کیا آپ نورین خان نیازی کے بیان کی مذمت کرتی ہیں
جس پہ فلک جاوید کا جواب
1971 میں جس نے پاکستان کو دولخت کیا انہی غداروں کو پاکستان کے پرچم میں لپیٹ کر دفنایا جاتا ہے میں نواز شریف کے اس بیان کی مذمت کرتی ہوں
مریم نواز نے اپنے جلسوں میں یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے کے نعرے لگوائے میں اس کی مذمت کرتی ہوں
فوج ہماری ہڈیوں میں سے گوشت نکال کر کھا گئی ہے خواجہ آصف کے اس بیان کی میں مذمت کرتی ہوں
کارگل کی جنگ میں ہماری فوج نے چھرا گھونپا میں اس بیان کی مذمت کرتی ہوں
میں ڈان لیکس اور میمو گیٹ کی بھی مذمت کرتی ہوں
اس نوجوان کو اپنا نام ساجد یاد ہے۔
ساجد کا کہنا ہے کہ میں چار یا پانچ سال کا تھا جب اپنے گھر کے باہر سے اغ*واء ہوا تھا۔
ساجد کا کہنا ہے ہم فلیٹ میں رہتے تھے۔میں ماں باپ کا اکلوتی اولاد تھا۔
امی نے مجھے سختی سے منع کیا تھا کہ بیٹا نیچے مت جانا کوئی اٹھاکر لےجائےگا۔میں چیز لینے کے لئے لفٹ کے ذریعے نیچے اترا کسی نے میرے سر پر ہاتھ رکھا اسکے بعد مجھے ہوش نا رہا۔ جب ہوش میں آیا تو ٹرین میں تھا۔
وہ شخص مجھے لاہور لایا۔لاہور میں ایک جگہ رکھا تھا وہ ن*شہ کرتا تھا مجھے بہت مارتا تھا،مقامی لوگوں نے میری حالت دیکھ کر مجھے اس شخص سے چھین لیا۔
کسی فیملی نے اپنا بیٹا بنا لیا۔ پھر ان کے بعد مزید دو فیملیز نے رکھا۔ ابھی میں 23/24 سال کا ہوں۔میری شادی ہوچکی ہے۔ایک فیکٹری میں کام کرتا ہوں۔ امی ابو کی یاد نے مجھے کھوکھلا کردیا ہے۔ خدا کے لئے مجھے میرے گھر سے ملوائیں۔
ساجد کا کہنا ہے کہ مجھے لوگوں نے بتایا کہ تم جب شروع شروع میں آئے تھے بہت صاف شفاف اردو بولتے تھے۔ شاید میں کراچی سے ہوں۔
صاف اردو اور فلیٹ میں رہائش ممکن ہے کراچی سے ساجد اغو*اء ہوا ہو۔
لیکن یقینی طور پر نہیں کہا جاسکتا کہ کراچی کا ہی ہو۔ جسکی وجہ سے ہمیں صرف کراچی نہیں پاکستان بھر میں اس پوسٹ کو پھیلانا ہے تاکہ ملک کے جس کونے میں ساجد کے خاندان والے پوسٹ دیکھیں تو رابطہ کریں۔
بچپن کی جو تصویر ہے یہ لاہور آنے کے ایک ساتھ بعد کی ہے امید ہے گھر والے پہچان لیں گے۔
شئیر کریں اور ڈھیروں نیکیاں کمائیں۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
21 july 2026
#waliullahmaroof
بریکنگ نیوز 🚨
یورپی یونین نے پاکستان جی ایس پی پلس (GSP+) مانیٹرنگ رپورٹ میں پاکستانی حکومت پر چارج شیٹ جاری کر دی ہے۔
سیاسی حقوق کو بری طرح متاثر کیا جا رہا ہے، جس کی بڑی وجوہات ناجائز عدالتی کارروائیاں اور سابق وزیر اعظم کی حراست شامل ہے
#خان_کو_رہا_کرکے_مقابلہ_کرو
حضرت معقل بن یسار رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے، سیدُ المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے کسی رعایا کا حکمران بنایا ہو اور وہ خیر خواہی کے ساتھ ان کی نگہبانی کا فریضہ ادا نہ کرے تو وہ جنت کی خوشبو تک نہ پاسکے گا۔(بخاری، کتاب الاحکام، باب من استرعی رعیۃ فلم ینصح، ۴ / ۴۵۶، الحدیث: ۷۱۵۰)
کیا کہیں آپ کی نظر محمد عارف پر تو نہیں پڑی؟
ایک ماں کی آنکھیں آج بھی اپنے بیٹے کی راہ تک رہی ہیں…
یہ بچہ محمد عارف ہے، والد کا نام جلال خان ہے۔ عارف اپنے والدین کی آنکھوں کا تارا، گھر کی رونق اور سب کا لاڈلا تھا۔
27 مئی 2021 کو کراچی کے علاقے مشرف کالونی میں واقع اپنے زیرِ تعمیر گھر کے مزدوروں کو چائے دینے گیا۔ چائے دے کر خالی برتن گھر واپس رکھے اور ہمیشہ کی طرح کھیلنے کے لیے باہر نکل گیا۔
کسی نے نہیں سوچا تھا کہ یہ چند لمحوں کی جدائی برسوں کے انتظار میں بدل جائے گی…
وہ ننھا سا بچہ آج تک واپس گھر نہیں آیا۔
گمشدگی کے وقت محمد عارف کی عمر تقریباً 10 سال تھی۔ اب وقت گزر چکا ہے، مگر اس کے والدین کے لیے گھڑی جیسے وہیں رک گئی ہے جہاں ان کا بیٹا ان سے بچھڑا تھا۔
آج بھی اس کی ماں دروازے کی ہر آہٹ پر چونک اٹھتی ہے۔ ہر دستک پر دل دھڑکنے لگتا ہے کہ شاید میرا عارف آگیا ہو۔ کئی مرتبہ وہ گھر کا دروازہ کھلا چھوڑ دیتی ہے، صرف اس امید پر کہ اگر میرا بیٹا واپس آئے تو بند دروازہ دیکھ کر کہیں مایوس ہو کر واپس نہ چلا جائے۔
پانچ سال ہونے کو ہیں، مگر نہ ماں کی دعائیں ختم ہوئی ہیں، نہ باپ کی تلاش، نہ بہن بھائیوں کی امیدیں۔
خدارا! اس پوسٹ کو صرف پڑھ کر آگے نہ بڑھ جائیں۔
ممکن ہے آپ کا صرف ایک شیئر کسی ایسے شخص تک پہنچ جائے جو محمد عارف کو پہچانتا ہو۔ شاید یہی ایک شیئر ایک اجڑے ہوئے گھر میں دوبارہ خوشیاں لے آئے، ایک ماں کی دعائیں قبول ہو جائیں اور ایک باپ کا برسوں کا انتظار ختم ہو جائے۔
براہِ کرم اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔
کسی بھی اطلاع کے لیے صرف واٹس ایپ کریں:
+92 316 2529829
15 July 2026
#WaliullahMaroof #MissingChild #FindMuhammadArif #Karachi #BringArifHome