نو سالہ ہانیہ کو پاکستان آنے کا بہت شوق تھا
لیکن اسے نہیں پتہ تھا کہ آسٹریلیا سے چکوال آتے ہوئے
فرشتہ اجل بھی "تیز ترین انصاف" پر مامور
سی سی ڈی اہلکاروں کے روپ میں اس کے تعاقب میں ہے
ہنستا بستا گھرانہ لمحوں میں ماتم کدہ بن گیا
ہانیہ ۔۔۔ ہم شرمندہ ہیں !!!
کیا بیرون ملک مقیم پاکستانی فیملیز
اب اپنے آبائی علاقوں میں آنا ہی چھوڑ دیں ؟؟؟
چکوال میں پیش آنے والے المناک واقعہ میں یہی سبق پوشیدہ ہے کہ تفتیشی و عدالتی نظام کو بہتر بنایا جائے تاکہ سی سی ڈی کی افادیت سامنے آ سکے ، فائرنگ کر کے معصوم فیملی کی گاڑی کو
چھلنی کرنے والے اہلکار کی معطلی اور گرفتاری سے معصوم بچی ہانیہ واپس نہیں آ سکتی۔
مزید تفصیلات کے مطابق چکوال کی ایک فیملی جو آسٹریلیا میں رہائش پذیر تھی کچھ عرصہ پہلے پاکستان آئی۔ یہاں سے پوری فیملی حج کرنے چلی گئی اور منگل کے روز سعودی عرب سے واپس پاکستان پہنچی۔
فیملی کے سربراہ عدیل احمد بدھ اور جمعرات کی درمیانی شام اپنے سسر کے گھر کھانے کی دعوت پہ گئے۔ ان کے ساتھ ان کی اہلیہ ڈاکٹر سدرہ ، نو سالہ بیٹی ہانیہ اور ایک بیٹا عفان بھی تھا۔ سسر کے گھر جاتے ہوئے یہ ڈکیتی کی واردات کا شکار ہو گئے۔ اسی دوران سی سی ڈی تھانہ کو واردات کی اطلاع مل چکی تھی۔ سی سی ڈی اہلکاروں نے انہیں ہی ڈاکو سمجھ کر گاڑی پہ اندھا دھند فائرنگ کر دی۔
جس کے نتیجے پوری گاڑی چھلنی ہو گئی۔ کار میں نو سالہ بچی ہانیہ موقع پر دم توڑ گئی۔ جبکہ باقی ہوری فیملی شدید زخمی ہو گئی ہے۔ یہ انتہائی افسوس ناک واقعہ ہے کہ پولیس نے کسی وارننگ یا گاڑی کے ٹائر برسٹ کرنے کے بجائے گاڑی کو ہی ٹارگٹ کر دیا۔
اس فیملی کا نقصان کون پورا کرے گا ؟
کیا پاکستان رہنے کے قابل ہے؟
کاش یہ فیملی آسٹریلیا سے واپس نہ آئی ہوتی؟
ہانیہ کے بے گناہ قتل پر کس کو لٹکایا جائے گا ؟
کیا یہ ہے ہمارا پر امن پنجاب ؟
اس اندوہناک واقعہ پر یہ سوال حق بجانب ہے کہ کیا سی سی ڈی کے اہلکار اس قدر نان پروفیشنل ، اناڑی اور بیوقوف ہیں کہ وہ کسی شریف فیملی اور ڈکیتوں میں فرق بھی نہیں کرسکتے؟ یا پھر سی سی ڈی کا تشکیل کردہ مخبری کا نظام ناکارہ ہے کہ اصل ڈاکو فرار ہوجاتے ہیں اور معصوم فیملی کی گاڑی گولیوں سے چھلنی کر دی جاتی ہے ؟
سی سی ڈی چکوال نے جس قتل کو چھپانے کی کوشش کی وہ بالآخر سامنے آ گیا
چکوال المیہ کا ڈراپ سین: 24 گھنٹے بعد پولیس کا اعترافِ غفلت، آسٹریلیا سے آیا خاندان اپنوں ہی کی گولیوں کا نشانہ بن گیا
ضلع چکوال میں گزشتہ روز پبلک مقام پر ہونے والے فائرنگ کے ہولناک واقعے کا بالاآخر وہ سچ سامنے آ ہی گیا جسے چھپانے کی روایتی کوششیں کی جا رہی تھیں۔ واقعے کے 24 گھنٹے بعد چکوال پولیس نے سی سی ڈی (CCD) اہلکار کی مجرمانہ غفلت اور فائرنگ کا اعتراف کر لیا ہے۔ پولیس ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ڈکیتی کی واردات کے دوران ہلاک ہونے والی نو سالہ معصوم حانیہ عدیل ڈاکوؤں کی نہیں، بلکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکار کی گولی کا شکار ہوئی تھی۔ منقول
#Chakwal #CCD #AustralianReturnNineyearPakistaniGirlkilled @AusHCPak@PakinAustralia
ہادی علی رفیق علی رہنما علی
یاور علی ممدّ علی آشنا علی
مرشد علی کفیل علی پیشوا علی
مقصد علی مراد علی مدعا علی
جو کچھ کہو سو اپنے تو ہاں مرتضےٰ علی
#خان_کی_مزاحمت_کے_1ہزار_دن