آزاد جموں و کشمیر میں دو ہی نطریات ہیں ایک عوامی تحریک کے اتحادی عام عوام اور دوسرے اشرافیہ کے اتحادی عوام اس کے علاوہ کوئی بھی پاکستان مخالف سوچ نہیں ہے اور نہ ہی رکھتا ہے آگر کوئی بھی پروپیگنڈہ کرتا ہے تو اس پر لعنت میری اور آپ سب کی طرف سے
مُجھے رونا نہیں، آواز بھی بھاری نہیں کرنی
محبت کی کہانی میں اداکاری نہیں کرنی
ہوا کے خوف سے لپٹا ہوا ہوں خُشک ٹہنی سے
کہیں جانا نہیں، جانے کی تیاری نہیں کرنی
تحمل اے محبت! ہجر پتھریلا علاقہ ہے
تُجھے اِس راستے پر تیز رفتاری نہیں کرنی
ہمارا دِل ذرا اُکتا گیا تھا گھر میں رہ رہ کر
یونہی بازار آئے ہیں، خریداری نہیں کرنی
غزل کو کم نگاہوں کی پہنچ سے دُور رکھتا ہوں
مُجھے بنجر دماغوں میں شجرکاری نہیں کرنی
🌹 نام ہونٹوں پہ ترا آئے تو راحت سی ملے،
تو تسلی ہے، دلاسہ ہے، دعا ہے... کیا ہے۔🥀♥️
کچھ نام صرف نام نہیں ہوتے، وہ دل کا سکون ہوتے ہیں۔
جن کے ذکر سے دل کو راحت، روح کو تسلی اور لبوں پر بے اختیار دعا آ جائے، وہی لوگ زندگی کی سب سے قیمتی نعمت ہوتے ہیں۔
قرار چھین لیا بے قرار چھوڑ گئے
بہار لے گئے، یادِ بہار چھوڑ گئے
ہماری چشمِ حزیں کا خیال کچھ نہ کیا
وہ عمر بھر کے لئے اشکبار چھوڑ گئے
گھٹائیں چھائی ہیں، ساون ہے مینہ برستا ہے
وہ کس سمے میں ہمیں اشکبار چھوڑ گئے
نہ آیا رحم، مرے آنسوؤں کی منت پر
کیا قبول نہ پھولوں کا ہار چھوڑ گئے
ہر قربانی خون مانگے، یہ ضروری تو نہیں۔
کچھ قربانیاں صرف خاموشی سے دی جاتی ہیں۔۔
مسکراہٹ کے پیچھے چھپے آنسوؤں کی،
خوابوں کو تہہ کر کے صندوق میں رکھ دینے کی،
اور اپنا درد نگل کر سب کو دعا دے دینے کی۔
یہ بھی تو شہادتیں ہیں۔۔ بس ان کا کوئی مزار نہیں ہوتا۔
رشتوں کو اتنی سانس لینے کی جگہ ضرور دیں کہ ان کا دم نہ گھٹے، کیونکہ زبردستی باندھے ہوئے ہاتھ اکثر دل سے دور ہوتے ہیں۔
جو واقعی آپ کا ہے، اسے دنیا کا کوئی انسان آپ سے چھین نہیں سکتا۔ اور جو آپ کا نہیں، اسے آپ قید کر کے بھی اپنا نہیں بنا سکتے۔
دل میں اُترنا اور دل سے اُترنا
سب کُن فیکون کے معاملات ہیں
کبھی وہ دل میں ڈال کر آزماتا ہے کہ
پیاری چیزوں سے آزمائش کیسے لی جاتی ہے
اور کبھی دل سے اُتار کے آزماتا ہے کہ
دنیا کے ہر تعلق کو زوال ہے