@pmlnfsd@RebelByThought پٹواری ہو اور پرھا لکھا ہو ممکن ہی نہیں
اس نے فیس بک پوسٹ کا سکرین شاٹ لگایا ہے ڈنگر اور آپ نے ایکس کا۔ فیس بک پر جا کے دیکھو پٹواری دادا
یہ چچا 150 پر ٹیکسی نہیں چلا پا رہے تھے ؛ کوئی بتا سکتا ہے آج 414 پر ٹیکسی چلا رہے ہیں یا بیچ کر کھا گئے؟ اتنے بے شرم حکمران ہیں یہ کہ اپنی شیروانی کے چکر میں پوری قوم کو ننگا کر دیا ہے.
پھر پیٹرول پندرہ روپے مہنگا۔ یہ حکومت ایک سنگ دل ترین حکومت ہے۔ پتھر کا دل ہے ان کا۔ ان کو انرجی مینیجمنٹ کا الف نہیں پتہ۔ نہ کبھی پیٹرول کے زخائر بڑھانے کی کوشش کی نہ ریزروز مینجمنٹ کا کوئ لائحہ عمل بنایا۔
بینالاقوامی تیل کی قیمت پچھلے مہینے کے لحاظ سے بائیس فیصد کم ہوئی ہے تو ہمارے یہاں کیوں بڑھ رہی ہے۔ اور ہمارا تو تیل کا کوئ جہاز ایران نے روکا تک نہیں ہے۔
اور اس بُرے وقت میں تیل پر جو ٹیکس ہے وہ عارضی طور پر چند مہینوں کے لئیے کم کیوں نہیں کردیتے ؟
گیارہ ارب کے جہاز کے تیل کے لئیے پیسے ہیں مگر عوام کے لئیے کچھ نہیں۔
افسوس صد افسوس۔
فلوٹیلا پر ڈرونز کی پروازیں شروع، دعا کیجئے، آواز اٹھائیے،
ظلم اور ظالم کیخلاف کھڑے ہوجایئے۔
مظلوم فلسطینیوں کو آزادی، حریت دینے میں اپنا کردار ادا کیجئے۔
بیوی کو کندھے پر اٹھانے پر اخلاقیات کے دورے، کاش ستر سال سے بغیر قانونی عمل کے لوگوں کو اٹھانے، مینڈٹ چوری، لوٹا بننے، ووٹ کی توہین، بھوکی عوام کے پیسے سے حکمرانوں کی عیاشیوں، آئین شکنی پر بھی ایسے ہی اخلاقیات کے دورے پڑتے، تو شائد آج صورتحال بہتر ہوتی۔ مردوں کی اس اخلاقی فورس کی اخلاقیات عورت کے ہی گرد گھومتی رہی ہیں۔ عورت نے کیسے زندگی گزارنی ہے، کیا پہننا ہے، کیا کھانا ہے، بولنا ہے، اس کا معیار مردوں کی اس اخلاقی فورس نے ہمیشہ بڑی ذمہ داری سے طے کیا ہے۔