پاکستان میں شجرکاری کے لیے دو موزوں موسم ہوتے ہیں:بہار کا موسم فروری، مارچ یہ سب سے اچھا وقت ہے۔ اس موسم میں لگائے گئے پودے گرمیوں سے پہلے اپنی جڑیں مضب��ط کر لیتے ہیں۔اسلام آباد سمیت شمالی علاقوں میں بارشوں کی وجہ سے مون سون یہ دوسرا بہترین وقت ہے۔ پانی کی فراوانی کی وجہ سے پودے جلدی بڑھتے ہیں۔سخت گرمی اور سخت سردی میں نئے پودے لگانے سے گریز کریں، کیونکہ ان میں پودوں کے مرنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
#Palestine🇵🇸: Three years on, Gazan journalists need your solidarity.
🔴 Evacuate journalists in need of medical care
🔴 Justice for crimes against journalists
🔴 Allow journalis independent access into Gaza
🔴 Emergency support for Media Solidarity Centres
#WDDW: Today is World Day for Decent Work! ✊🏿
⚡Media workers across the world must recognise their right to decent work. Journalists are workers, and decent work is a fundamental right, not a privilege.
Organise and and join your #union to secure dignity at work!
I stand in solidarity with my senior colleague Farzana Ali. She left her hometown Dera Ismail Khan for journalism and continued reporting even under threats and in the most challenging times. After 20 years and one month with a local news channel, her association has ended. As per media reports, it is unfortunate that it ended under pressure and censorship rather than amicably.
We stand with you, Farzana.
Javeria Siddique IFJ Gender Council
#journalismisnotacrime
@farzanaalispark@IFJGlobal@RSF_inter@IWMF@CPJAsia
فرزانہ جیسی بے باک صحافی نے کبھی کسی سیاسی جماعت کی لائن نہیں لی؛ صرف حقائق سامنے لانے اور مثبت رپورٹنگ کے باعث انہیں اپنے عہدے سے الگ ہونا پڑا۔ ایسے وقت میں جب پاکستان صحافیوں کے لیے پہلے ہی مشکل ملک بن چکا ہے، فرزانہ جیسی آوازوں کو خاموش کرنا دراصل سچ کو کمزور کرنا ہے۔
فرزانہ صاحبہ کو بھی بے روزگار کر دیا گیا، سوال یہ ہے کہ آخر اختلافِ رائے کی قیمت کب تک روزگار سے چکائی جاتی رہے گی؟
ایک اور گھر کا چولہا بجھ گیا، ایک اور خاندان کے معاشی مسائل بڑھ گئے۔ اگر کسی صحافی یا میڈیا ورکر سے اختلاف ہے تو اس کا جواب دلیل، قانون اور ادارہ جاتی طریقہ کار سے ہونا چاہیے، روزگار چھین کر نہیں۔
فرزانہ صاحبہ کے معاملے نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ صحافت میں آزادیِ اظہار اور ملازمت کے تحفظ کی ضمانت آخر کہاں ہے؟
آج فرزانہ صاحبہ ہیں، کل کوئی اور صحافی یا میڈیا ورکر ہو سکتا ہے۔ مسئلہ صرف ایک فرد کا نہیں، صحافیوں کے روزگار اور آزادیِ اظہار کے مستقبل کا ہے۔
📢 JOIN US tomorrow in #Brussels for a protest to honour Maltese journalist Daphne Caruana Galizia, who was assassinated for exposing corruption in 2017. #JusticeForDaphne
📌 Residence Palace (Rue de la Loi, 155)
📅 16 September 2026
⏰ 11:30
بھارتی ریاست اترپردیش میں بی جے پی حکومت نے ایک اور مسجد کو شہید کردیا جو 1911 میں تعمیر ہوا تھا اب تک درجنوں مساجد مودی کی حکومت شہید کرچکے ہیں جبکہ مسلمان بالکل بے بس ہیں
یومِ دفاع پر PFUJ کا عزم دوٹوک ہے: پاکستان کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں، خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں، سرحدوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں اور قومی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں۔ قلم پاکستان کے خلاف نہیں، پاکستان کے لیے اٹھے گا۔
PFUJ آزادیِ صحافت اور صحافیوں کے آئینی حقوق کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، سیاسی جماعتیں اقتدار میں آتی اور اپوزیشن میں جاتی ہیں، مگر پاکستان ریاستِ پاکستان سب کی مشترکہ امانت ہے۔ قومی سلامتی پر سیاسی مفاد سے بالاتر اتفاقِ رائے ضروری ہے۔
اختلافِ رائے جمہوریت کا بنیادی حق ہے، مگر پاکستان کو کمزور کرنا، تشدد و انتشار کو ہوا دینا یا کسی ثابت شدہ حقیقت کے بغیر ریاستی اداروں کے خلاف نفرت پھیلانا قومی مفاد کے منافی ہے۔ صحافت کا کام سوال اٹھانا، احتساب کرنا اور حقائق عوام تک پہنچانا ہے—پروپیگنڈا کرنا نہیں۔
پاکستان کا دفاع صرف سرحدوں پر نہیں ہوتا؛ قومی اتحاد، سیاسی استحکام، معاشی خودانحصاری، مضبوط جمہوریت اور ذمہ دار صحافت بھی ریاستی دفاع کا حصہ ہیں۔ افواجِ پاکستان سرحدوں کی محافظ ہیں، پارلیمنٹ قومی فیصلوں کا مرکز اور عوام ریاست کی اصل طاقت ہیں۔
یومِ دفاع پاکستان صرف ایک تاریخی دن نہیں، بلکہ قومی عزم کی یاد دہانی ہے۔ پاکستان کی سلامتی، خودمختاری اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس شہدائے پاکستان کو سلام اور غازیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے۔
پاکستان محفوظ تو ہم سب محفوظ۔
Serious concerns over press freedom in Pakistan. In Brussels, I raised the issue of PECA amendments with senior IFJ officials and European journalists. I hope the government will reconsider measures threatening press freedom.
https://t.co/whGhLpS1Qa
آج حکومتِ پاکستان یومِ استحصالِ کشمیر منا ��ہی ہے، مگر پنجاب حکومت نے اسے یومِ استحصالِ صحافت بنا دیا۔ رپورٹر ناطق ریحان پر پولیس کا مبینہ وحشیانہ تشدد آزادیٔ صحافت پر حملہ ہے۔#PFUJ اسکی مذمت کرتی ہے اب خدشہ ہے کہ اس کے عہدیداران بھی انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔
IFJ کی جانب سے پاکستان میں میڈیا ورکرز کے حقوق اور آزادیٔ صحافت کے لیے آواز اٹھانا خوش آئند ہے۔ PFUJ کے صدر رانا محمد عظیم اور سیکرٹری جنرل شکیل احمد نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ جبری برطرفیوں، بقایا تنخواہوں اور صحافیوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں کا فوری نوٹس لیا جائے۔
#India🇮🇳: Good news! Irfan Mehraj, a journalist who has been imprisoned since March 2023, was released on bail on 22 July. However, his trial is ongoing. The criminalisation and judicial harassment of journalists must stop. @ifjasiapacific
https://t.co/OGoYoWtGr6