اگلی جنریشن بھی تیار ہوچکی ہے۔۔آج جب میں نے اپنا وی لاگ ختم کیا تو میرے بیٹے نے کہا کہ اس نے بھی اپنا وی لاگ کرنا ہے،،یہ اس کی پہلی کیمرے کے سامنے appearance ہے۔۔اسے کچھ نہیں بتایا جو اس کے دل ودماغ میں تھا اس نے بول دیا۔۔سب سے زیادہ خوشی یہ سن کر ہوئی کہ اس کی بھی رگ رگ میں پاکستان سے عشق ہے۔۔
لاہور ہائیکورٹ سعد رضوی اور انس رضوی کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر سماعت
عدالت نے سرکاری وکیل سے ترمیمی درخواست پر جواب طلب کرلیا
عدالت نے سماعت کل تک ملتوی کردی
عدالت کی درخواست گزار کے وکیل سے اظہار ناراضگی
گزشتہ سماعت پر آپ نے خود تاریخ لی اور باہر جاکر کچھ اور بتایا عدالت کے ریمارکس
آج آپ اپنی مرضی کی تاریخ بتاو کیا دوں,جسٹس جواد ظفر کا استفسار
درخواست گزار کے وکیل نے کاروائی کل تک ملتوی کرنے کی استدعا کی
عدالت نے درخواست گزار کے وکیل کی استدعا کو منظور کرلیا
جسٹس جواد ظفر نے درخواست پر سماعت کی
*لاہور ہائیکورٹ: رضوی برادران جبری گمشدگی کیس کی 50 دن کے تعطل کے بعد مقرر ہونے والی سماعت کو ایک دفعہ پھر ملتوی کردیا گیا*
جسٹس جواد ظفر رضوی برادران کی بازیابی کے لیے دائر درخواست کی سماعت کے دن رخصت پر تھے
اس سے قبل، جسٹس جواد ظفر رضوی نے کیس کی سماعت کو اپنی چھٹیوں کی بنیاد پر 50 دن کے لیے ملتوی کر چکے ہیں
سربراہ ٹی ایل پی حافظ سعد حسین رضوی اور حافظ انس حسین رضوی ایک سال سے زائد عرصے، 368 دنوں سے جبری گمشدگی کا شکار ہیں
رضوی برادران جبری گمشدگی کیس کی آئندہ سماعت اب 19 اکتوبر بروز پیر کے لیے مقرر کی گئی ہے
ٹی ایل پی قائدین کی بازیابی کے لیے دائر درخواست 6 دفعہ جج کی تبدیلی اور ایک سال گزر جانے کے باوجود مسلسل زیرِ التواء ہے
تحریکِ انصاف کے کارکن یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آخر کور کمیٹی کے اجلاسوں میں کیا فیصلے ہوتے ہیں؟ کون عمران خان کے ساتھ ڈٹ کر کھڑا ہے اور کون مشکل وقت میں خاموش تماشائی بنا ہوا ہے؟
میں نے جب بھی کوئی خبر دی، ایک سے زائد ذرائع سے تصدیق کے بعد دی۔ کور کمیٹی میں اچھے اور برے، ہر طرح کے لوگ موجود ہیں۔ مجھے بہت سی اندرونی معلومات ملتی رہتی ہیں، خاص طور پر باہمی اختلافات اور لڑائی جھگڑوں سے متعلق، لیکن میں ان میں سے بیشتر باتوں کو نظرانداز کر دیتا ہوں۔
اس کی دو بنیادی وجوہات ہیں۔ پہلی یہ کہ تحریکِ انصاف اس وقت ایک مشکل دور سے گزر رہی ہے۔ دوسری یہ کہ اس جماعت کے رہنما اور کارکن جس جبر، فسطائیت اور ظلم کا سامنا کر رہے ہیں، اسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ جمہوریت کی بقا اور پاکستان کے مستقبل کے لیے ان کی جدوجہد جاری ہے، اس لیے میں بہت سی باتوں پر دانستہ خاموشی اختیار کرتا ہوں۔
لیکن بعض خبریں رپورٹ کرنا ضروری ہوتا ہے، تاکہ وہ تاریخ اور ریکارڈ کا حصہ بن سکیں اور وقت آنے پر یہ دیکھا جا سکے کہ کس نے، کب اور کیا کہا تھا، کس نے کیا مؤقف اختیار کیا اور مشکل وقت میں کون کہاں کھڑا تھا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ میرے بعض انتہائی قریبی لوگ بھی کور کمیٹی کے اجلاسوں میں میرے ٹوئٹس شیئر کرتے ہیں اور ان پر میرے خلاف گفتگو کرتے ہیں۔ حالانکہ یہی ٹوئٹس اور اسمبلی کی تقاریر کے وہ کلپس، جو میں شیئر کرتا ہوں، انہیں اس وقت بہت اچھے لگتے ہیں جب وہ ان کے مؤقف کے حق میں ہوں۔
مجھے بہت کچھ معلوم ہوتا ہے، بہت سی باتیں مجھ تک پہنچتی ہیں، لیکن بطور صحافی میں کسی خبر کو ذاتی انا یا تعلقات کا مسئلہ نہیں بناتا۔ میں جانتا ہوں کہ جب میری خبر کسی کے مفاد میں ہو تو میں اچھا صحافی ہوں، لیکن جب وہی خبر کسی کے مفاد کے خلاف چلی جائے تو میں برا بن جاتا ہوں۔ پھر کبھی مجھے غدار کہا جاتا ہے، کبھی کمپرومائزڈ اور کبھی کسی کے ایجنڈے پر کام کرنے والا قرار دیا جاتا ہے۔
یہی شکایت مجھ سے ریاست کو بھی ہے۔
میرا اصول سادہ ہے: صحافت کسی کی خوشنودی، ناراضی یا ذاتی تعلقات کی بنیاد پر نہیں ہونی چاہیے۔ خبر درست ہو تو اسے سامنے آنا چاہیے، چاہے وہ کسی کے حق میں ہو یا خلاف۔ میری ذمہ داری کسی کو خوش کرنا نہیں، بلکہ تصدیق شدہ معلومات کو صحافتی اصولوں کے مطابق عوام تک پہنچانا ہے۔
کیونکہ وقت گزر جاتا ہے، عہدے بدل جاتے ہیں، تعلقات بدل جاتے ہیں، لیکن ریکارڈ باقی رہتا ہے۔
2023 میں میری گاڑی چوری ہوئی، آج تک کوئی سراغ نہیں ملا۔ سیف سٹی کیمرے کام آئے، نہ پولیس نے مدد کی۔ بینک لیز گاڑی کو ایک رشتہ دار مانگ کر لے گیا اور آگے بیچ آیا۔ ایف آئی آر کے لیے درجنوں بار تھانے کے چکر لگائے، کوئی شنوائی نہ ہوئی۔ آخرکار ٹریکر کی مدد سے گاڑی خود سرگودھا سے اسلام آباد تک ٹریس کرکے پکڑوائی، مگر اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ مزید افسوسناک ہے۔ میری آنکھوں کے سامنے گاڑی سے سامان نکالا گیا، ملزم کا نام تک ریکارڈ میں درج نہ ہوا، ایف آئی آر ایسی درج کی گئی کہ ملکیت ہی متنازع بن گئی۔ پولیس بلاتی رہی، لیکن ملزم تھانے آنے سے گریز کرتے رہے۔ سپرداری کے لیے گیا تو بیسیوں فون کالز کے بعد لوگ آئے اور معاملہ مزید الجھا دیا گیا۔ اب 15 لاکھ روپے کی گاڑی واپس لینے کے لیے مجھے مزید کتنی رقم اور کتنے چکر لگانے پڑیں گے؟ آخر میں انصاف کے لیے کہاں جاؤں؟ اگر اسلام آباد میں شہری اپنی گاڑی خود ٹریس کرکے پکڑوائے، پھر بھی پولیس سے انصاف نہ ملے تو سیف سٹی، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا مقصد کیا ہے؟ @ICT_Police@dcislamabad
🚨 میرے شوہر، صدر لاہور میاں اکرم عثمان کو 3 MPO کے تحت گرفتار ہوئے آج 30 دن مکمل ہو چکے ہیں، مگر افسوس کہ اب تک ان کی رہائی عمل میں نہیں لائی جا رہی۔ حد تو یہ ہے کہ فیملی اور وکلاء تک کو ان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی انکی اہلیہ مریم کلثوم اکرم کی جانب سے مسلسل تین دفعہ پٹیشن بھی دائر کی گئی مگر کوئی سنوائی نہیں ہوئی
آخر عمران خان کا ساتھ دینے اور اپنے نظریے پر ڈٹے رہنے کی سزا کب تک دی جاتی رہے گی؟ ایک طرف 30 دن سے قید، دوسری طرف اہلِ خانہ اور وکلاء سے ملاقات پر پابندی، یہ سب آخر کب تک؟
میاں اکرم عثمان کا قصور صرف اپنے قائد عمران خان کے ساتھ کھڑا ہونا ہے۔ قید و بند کی صعوبتیں ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتیں۔ ہم ان کی فوری رہائی اور فیملی و وکلاء سے ملاقات کا مطالبہ کرتے ہیں۔
@ImranKhanPTI@salmanAraja@BarristerGohar@akramusman_PTI
تحریکِ انصاف کے آج کے اجلاس کی سب سے اہم بات یہ تھی کہ 90 فیصد اراکین نے محمود خان اچکزئی پر عدم اعتماد کا اظہار کیا۔ اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ نئے قائدِ حزبِ اختلاف کے انتخاب کے لیے سیاسی کمیٹی اور کور کمیٹی کا اجلاس طلب کیا جائے۔
آج تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی میں ایک رکن نے نے تجویز دی کہ بیرسٹر سیف کو اڈیالہ جیل امور کانمائندہ مقرر کیا جائے تاکہ عمران خان کو جیل میں سہولیات اور دیگر معاملات میں آسانی ہوسکے،، رکن نے پولیٹیکل کمیٹی ختم کرنے اور فیصلوں کا اختیار پارلیمانی کمیٹی کو دینے کی تجویز دی اور کہا کہ جس کی حتمی توثیق عمران خان کی بنائی گئی کور کمیٹی سے کی جائے
کور کمیٹی کے اجلاس میں تحریک انصاف کے 2 جنرل سیکرٹری موضوع بحث رہے،،، مشترک بات یہ تھی کہ دونوں کو لانگ مارچ سے متعلق پلان سے متعلق کہیں بھی اعتماد میں نہیں لیاگیا،، بظاہر آج کی کور کمیٹی میٹنگ میں سارا ملبہ سہیل آفرہدی اور لڑکوں پر ڈال دیا ہے،
اس طرح کے ہزاروں لوگ ہیں جنہوں اپنا گھر اپنی چھت سکیم کا لون اپلائی کیا سال اوپر پوگیالیگن لوگوں کو لون نہیں مل رہا پنجاب حکومت کڑوروں کے اشتہارات چلوا رہی سب کو پیسے مل گئیے لیکن ایسا کچھ نہیں ہے
اگر ہم 26 نومبر 2025 کو ڈی چوک نہ جاتے اور سنگجانی رک جاتے تو عمران خان کی رہائی ہو جانی تھی۔ کیونکہ ان کی طرف سے پیغام آچکا تھا کہ آپ دو تین دن سنگجانی بیٹھیں ہم عمران خان کو چھوڑ دیں گے مگر بشری بی بی نے کہا کہ ہم نے ڈی چوک ہی جانا ہے۔ لطیف کھوسہ
بلی تھیلے سے باہر!
شاکر اعوان
@ShakirAwan88
دہشت گردی آئی نہیں دہشت گرد لائے گئے۔ عوامی حکومت کو ناجائز طور پر گرانے اور عوامی نمائندوں کے جبری اغواء کے بعد اصل عزائم سامنے آرہے ہیں۔
باڑہ میں ہونے والا سانحہ Mineral Massacre ہے۔
نارتھ امریکن بار کونسل اور بلیک اسٹون اسکول آف لاء کی جانب سے بیرسٹر ابوزر سلمان خان کو ’’سال کے بہترین انسانی حقوق کے وکیل‘‘ کے باوقار اعزاز سے نوازا گیا۔ یہ اعزاز انسانی حقوق کے تحفظ، قانون کی بالادستی اور انصاف کی فراہمی کے لیے ان کی گراں قدر خدمات اور مسلسل جدوجہد کا اعتراف ہے۔بیرسٹر ابوزر سلمان خان نے اپنے مرحوم دوست، معروف صحافی ارشد شریف کو بھی خراجِ عقیدت پیش کیا اور انہیں یاد کرتے ہوئے کہا کہ ارشد شریف ہمیشہ ان کی حوصلہ افزائی کرتے رہے اور ان کے لیے ایک مخلص دوست اور مشفق ساتھی کی حیثیت رکھتے تھے۔یہ اعزاز نہ صرف بیرسٹر ابوزر سلمان خان کی پیشہ ورانہ خدمات کا اعتراف ہے بلکہ انسانی حقوق کے تحفظ، آئین و قانون کی سربلندی اور مظلوموں کو انصاف کی فراہمی کے لیے ان کے عزم و استقلال کا مظہر بھی ہے۔ ان کی یہ کامیابی قانون کی حکمرانی اور انصاف کے حصول کے لیے جدوجہد کرنے والوں کے لیے باعثِ افتخار اور قابلِ تقلید مثال ہے۔
Some good news from the Lahore High Court. Justice Sardar Ali Dogar grilled the Deputy Commissioner Sialkot over the illegal MPO detention of @MubasharAwan804 . Unable to justify the order, the DC apologised, and informed the court he has withdrawm the detention order. Mubashir Maqsood Awan is set to be released immediately.
میاں علی اشفاق — کامیابی، قابلیت اور انصاف کی پہچان!
نارتھ امریکن بار کونسل کی جانب سے میاں علی اشفاق کو سال 2026 کے کامیاب ترین وکیل کے ایوارڈ سے نوازا گیا ہے، جو ان کی پیشہ ورانہ مہارت اور قانونی خدمات کا اعتراف ہے۔
میاں علی اشفاق گزشتہ کئی سالوں سے پوری پیشہ ورانہ صلاحیت کے ساتھ وکالت کے شعبے میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ اور انصاف کی فراہمی کے لیے ان کی جدوجہد قابلِ تحسین ہے۔
یہ اعزاز صرف ایک وکیل کی کامیابی نہیں، بلکہ قانون، انصاف اور انسانی حقوق کے لیے خدمات کا اعتراف ہے۔
میاں علی اشفاق کو اس نمایاں اعزاز پر دلی مبارک باد!
محمود خان اچکرائی کا اس لانگ مارچ کے دوران کردار سب سے زیادہ مشکوک رہا، مذاکرات میں وہ نہیں بیٹھے،لانگ میں میں وہ شریک نہیں ہوئے،کنٹینر پر چڑھنے سے انہوان نے انکار کیا،وجہ کیا کہ یہ حکومت،وزیر اعظم فارم 47 کے ہیں اور جب اسمبلی میں وزیر اعظم آئے تو راکٹ کی سپیڈ سے ہاتھ بڑھا کر سلام کیا،کانوں میں سرگوشیاں کرتے رہے،سید زیشان عزیز
https://t.co/yGLFnTidOE
پچھلے دو سال سے میں رکن صوبائی اسمبلی کے حثیت سے صوبائی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی ماینز اینڈ منرل کا ممبر ہو، اور محکمہ معدنیات پختونخوا کا ریکارڈ ھمارے ساتھ کمیٹی میں ڈسکس کیا جاتا رہا، اور تقریباً یہ سب مندرجہ ذیل باتیں ھمارے ریکارڈ کا حصہ ہیں،
محکمہ معدنیات پختونخوا نے لارج اسکیل لائسنس 4 چار جاری کی ہیں، جس میں ایک لارج اسکیل لائسنس ایف ڈبلیو او کے پاس ہے، وزیرستان میں کاپر کی کان کنی ہورہی ہیں، 2016 میں یہ لاسینس ایف ڈی ایم اے کے پاس تھا جس کیساتھ ایف ڈبلیو او نے جائنٹ وینچر کرکے حاصل کیا ہے، 2017 میں پختونخوا ماینز اینڈ منرل ایکٹ بنا، اب ایک ہی لارج اسکیل لائسنس فنکشنل ہے اور وہ وزیرستان میں کاپر کی ہے ایف ڈبلیو او کے پاس ہے،
اس کا رقبہ 30 مربع کلومیٹر یعنی 7,410 ایکڑ ہے، جو 37 عام لیزوں کے برابر ہے۔ مقامی عوام کو صرف 50 سے 500 ایکڑ دیا جاتا ھے
محکمہ معدنیات کے ریکارڈ کے مطابق وہاں سے 2016 سے 2024 تک 987,000 ٹن کاپر نکالا گیا، جس میں پچھلے دو سال کا ریکارڈ شامل نہیں 2025,26 کا، اسکے باوجود ایف ڈبلیو او نے 10 لاکھ ٹن کاپر اوپن بولی کے ذریعے فروخت اور ایکسپورٹ کیا۔
اب اسکے پراسیسنگ کرکے 25٪ سے لیکر 30 فی صد کاپر تیار کرکے مارکیٹ میں بیچھتے ھیں، اج انٹرنیشنل مارکیٹ میں 25٪ کاپر کا ریٹ 9500 ڈالر جبکہ 30٪ کاپر کا ریٹ 11500 ڈالر فی ٹن ھے،
اب اس کاپر کی مالیت صحافی حامد میر کے بیان کردہ 7 لاکھ روپے فی ٹن نرخ کے حساب کے مطابق اس نکالی گئی کاپر کی مجموعی مالیت تقریباً 6.9 کھرب روپے بنتی ہے۔
اب پختونخوا کی محکمہ معدنیات ایکٹ 2017 کے معدنی قانون کے مطابق 5٪ رائلٹی کے حساب لگا کر تقریباً 34.5 ارب روپے بنتے ہیں، جبکہ محکمہ معدنیات کی ریکارڈ کے مطابق محکمہ معدنیات کو صرف 16.9 کروڑ روپے ادا کیے گئے۔
جب مجھ سمیت دیگر ممبران اسمبلی احمد کریم کنڈی، ایم پی اے عدنان خان سمیت دیگر سیکٹری معدنیات، ڈی جی معدنیات سے اس حوالے سوال اٹھائے کہ کیوں پورا حساب کتاب نہیں دیا جارہا ہیں، تو بچارے خاموش ہو جاتے اور اکثر کہتے ہیں کہ سر ھم کچھ نہیں کرسکتے۔ یہ سب باتیں کمیٹی ریکارڈ کا حصہ ہیں، اور ھمارے پاس ڈاکومنٹس کی شکل میں بھی موجود ہیں،
بشرط یہ کہ اگر اب اس گورنر راج اور ایمرجنسی کی مارشلائئ دور میں محمکہ معدنیات کی ریکارڈ میں ردوبدل نا کریں۔۔
اب آتے ہیں احتساب کے طرف، کہ سب سے پہلے کس کا؟ جب صوبے کی 4000 زیادہ چھوٹے لیز ہولڈرز کی مجموعی سالانہ آمدن تقریباً 14 ارب روپے تک پہنچ چکا ہیں، تو دوسری طرف صرف ل اس ایک لیز ( وزیرستان کاپر ) کی مبینہ رائلٹی 33 ارب روپے بنتی ہے اور ادائیگی صرف 16.9 کروڑ دیکر باقی رقم نہیں دیتے،تو ائیں سب سے پہلے اس کا شفاف آڈٹ اور احتساب تو کریں۔؟
ہاں میں مانتا ہوں کہ پی ٹی آئی کی ناقص حکمرانی کے ساتھ ھمارا اختلاف تھا اور رہے گا، کیونکہ اسکے دور حکومت میں اقربا پروری، کرپشن سب کچھ ہو رہا تھا، ھم بھی اسکے ساتھ اختلاف رکھتے ہیں،
لیکن ریکارڈ کو دروست رکھنے کیلے یہ لمبی تحریر لکھنا پڑھ رہا ہیں، تاکہ پنجاب کی سول ملٹری اشرافیہ نے جس طرح پچھلے دو دنوں سے عوام کو گمراہ کرنے کی مذموم کوشش شروع کر رکھے ہیں، اسکے آڑ میں پختونخوا کی موجودہ تمام چھوٹے لیز ہولڈرز کی لایسینز مشکوک کرکے ختم کرنے کی سازش ہورہی تاکہ اسے ختم کرکے کمپنی سرکار اپنے لیے لارج اسکیل لائسنس کا اجراء کرکے ھمارے وسائل پر قبضہ جمانے کی کوشش ہورہی ہیں،
اب آتے موجود چھوٹے لائسنس کی اجراء کے بارے میں بات کرکے ہیں،
محمکہ معدنیات پختونخوا نے آن لائن پورٹل 2017 میں رسالپور میں سیکیورٹی ادارے نے محکمہ معدنیات کو تربیت دے کر شفاف آن لائن پورٹل نظام تیار کروایا، جس سے شہری گھر بیٹھے لائسنس کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔
2024 میں مائن اونرز ایسوسی ایشن نے میڈیا اور اداروں کو بتایا کہ فیسیں اور کاغذات مکمل ہونے کے باوجود 7000 درخواستوں پر لائسنس جاری نہیں ہوئے۔
اس ایشو کو کمپنی سرکار کی حکم پر نیب نے نوٹس لیا، اور اکتوبر 2024 میں نیب نے مشترکہ پریوینشن کمیٹی کے ذریعے جانچ پڑتال کی اور زیرِ التوا لائسنسوں کا معاملہ فوری حل کرنے پر زور دیا۔
نیب اعلامیے کے بعد محکمہ معدنیات کی اس وقت کی ڈائریکٹر جنید خان نے درخواستوں کی پراسیسنگ شروع کی اور قانونی تقاضے پورے کرنے والوں کو لائسنس جاری کیے۔ اور کمیٹی میں باقاعدہ رپورٹ پیش کیا،
ان 4000 سے زیادہ لیز ہولڈرز میں مختلف سیاسی جماعتوں کے افراد، ریٹائرڈ فوجی افسران اور پاکستان بھر کے شہری شامل ہیں۔ اور یہ سب ریکارڈ کا حصہ ہیں،
اس حوالے سے ھمارا موقف بڑا واضح ہیں کہ ان لیزوں میں بے ضابطگیاں اور بی قاعدگیاں ہوئیں ہیں تو ان کی تحقیقات ضرور ہونا چاہیے، اور ـــــــ 1/2
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے اقدام کے خلاف 20 اکتوبر کو پشاور ہائیکورٹ میں سماعت ہوگی۔تحریک انصاف کو چاہیے کہ وہ سماعت کی براہِ راست کوریج کے لیے بھی ایک متفرق درخواست دائر کرے، تاکہ پوری قوم دیکھ سکے کہ وفاقی حکومت عدالت میں دہشت گردی کو بنیاد بنا کر گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے حق میں کیا دلائل دیتی ہے، اور یہ اقدام کیوں اور کن وجوہات کی بنا پر ضروری قرار دیا گیا۔
ڈاکٹر یاسمین 1255 دن
بشری بی بی 905 دن
صنم جاوید 875 دن
عالیہ حمزہ 666 دن
مہارنگ بلوچ 574 دن
بیبو بلوچ 574 دن
گلزادی بلوچ 552 دن
رائے فردوس 401 دن
فلک جاوید 389 دن
ایمان مزاری 282 دن
علیمہ خان 50 دن
نورین خان 49 دن
عظمی خان 49 دن
ارم زہرہ 4 دن
نو مئی کے بعد یہ خواتین ساری گرفتاریاں ڈال کر اتنے دن جیل گزار چکیں