عوامی نیشنل پارٹی کی رکن صوبائی اسمبلی نثار باز خان نے گزشتہ دنوں نوشہرہ کے گل پلازہ کلاتھ مارکیٹ کا دورہ کیا، جہاں حال ہی میں لگنے والی آگ کے باعث 300 لگ بھگ دکانیں مکمل طور پر جل کر خاکستر ہوگئیں۔ اس افسوسناک واقعے کے نتیجے میں تاجر برادری کو کروڑوں روپے کا مالی نقصان ہوچکا ہیں ۔
اس میں زیادہ تر دوکانداروں کی تعداد ضلع باجوڑ سے ہیں، جو پہلے سے مسلسل بدامنی سے متاثر علاقہ ہیں،اور لوگوں کی کاروبار اور معشیت تباہ ہوچکی ہیں،
رکن صوبائی اسمبلی نثار باز خان نے متاثرہ تاجروں کے نقصانات کے حوالے سے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا اور سیکرٹری امداد, بحالی و آباد کاری سے رابطہ کیا اور انہیں صورتحال سے آگاہ کیا۔ اس سلسلے میں انہوں نے باقاعدہ طور پر ایک خط بھی چیف منسٹر کو ارسال کیا، جس میں متاثرہ تاجروں کے نقصانات کے ازالے اور مناسب معاوضے ( سپیشل پیکج) کی فراہمی کا مطالبہ کیا گیا تاکہ متاثرہ کاروباری افراد کو درپیش مشکلات میں کمی لائی جا سکے۔اور غریب دوکانداروں کی امداد کی جاسکے۔۔۔!
الحمدللہ، بچی بازیاب ہوچکی ہے۔ اس جدوجہد میں آپ سب کی آواز، دعاؤں اور سوشل میڈیا کے مثبت اور ذمہ دارانہ استعمال نے انتہائی اہم کردار ادا کیا۔ ہر اُس فرد کا شکریہ جس نے اس معصوم بچی کیلئے آواز بلند کی اور انسانیت کا ساتھ دیا۔
اب یہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ مکمل، شفاف اور غیرجانبدار تحقیقات کریں کہ ایک معصوم بچی کس طرح سندھ تک پہنچی، اس پورے واقعے کے پیچھے کون لوگ تھے، اور کن عناصر نے اس جرم میں سہولت کاری یا معاونت کی۔
اس کیس میں جو بھی ملوث ہو، خواہ وہ کوئی بھی ہو، اسے قانون کے مطابق سخت سے سخت سزا ملنی چاہیے تاکہ آئندہ کسی معصوم بچے کو ایسے اذیت ناک حالات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
بچی معصوم تھی، اُس کیلئے کھڑا ہونا، آواز اٹھانا اور انصاف کا مطالبہ کرنا ہم سب کی اخلاقی، انسانی اور سماجی ذمہ داری تھی۔
ابھی ایک دل دہلا دینے والی ویڈیو نظر سے گزری، جس میں ایک بے بس ماں آہ و پکار کے ساتھ یہ فریاد کررہی تھی کہ اُس کی معصوم بیٹی کچے کے ڈاکوؤں کے قبضے میں ہے۔ ایک ماں کی بے بسی، اُس کی چیخیں اور اپنی بچی کیلئے تڑپ شاید کسی بھی انسان کے دل کو ہلا دینے کیلئے کافی ہیں۔
انشاء اللہ، ہم سے جتنا ممکن ہوسکا اس معصوم بچی کو اُس کی ماں سے ملانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں گے۔
سندھ حکومت اور بالخصوص بلاول بھٹو زرداری سے اپیل ہے کہ اس ماں کی فریاد سنی جائے اور فوری طور پر اس بچی کی بازیابی کیلئے عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔
اللہ تعالیٰ اس بچی کو جلد اور خیریت کے ساتھ اُس کی ماں سے ملائے۔ آمین۔@CMSindh@BBhuttoZardari
رات کی 12 بج چکے ہے، تقریباً 10 گھنٹے گزر گئے ہے، لیکن ھمارے ملک کی تمام الیکٹرانک میڈیا پر کسی بھی ٹاک شو میں اس معصوم بچے کیساتھ ہونے والے ظلم اور بربریت پر پروگرام نہیں دیکھا، نا کوئئ ٹاک شوز نا کوئی سپیشل رپورٹ۔
کیا ھمارا خون اتنا سستا ہیں؟
ہر بار پختونخوا پر ہونے والے ظلم اور بربریت پر نیشنل میڈیا میں خاموشی کیوں؟
پختونوں اور بلوچوں کیساتھ یہ دوہرا معیار اور امتیازی سلوک کیوں روا رکھا جارہاہے ؟
ریاستی اداروں کے پاس ان سوالات کا کوئی معقول جواب ہے ؟
ایک ریاست دو دستور نامنظور!!!!!!
Social media may spread its own versions of truth and falsehood, but we are grassroots political workers affiliated with a progressive national movement Awami National Party (#ANP) a party that has remained a symbol of hope and resistance through the darkest chapters of Pashtun history. There is no substitute for #ANP a political force that has neither compromised its principles for the sake of popularity nor bowed before the bloody theatre of extremism.
We believe in mutual respect and always keep the doors of dialogue open, but never at the expense of our ideological commitment, organisational discipline, or under the pressure of social media trials and trolling campaigns.
We believe that ANP national democratic politics can lead us toward true emancipation dignity and political consciousness. Intellectual clarity and ideological steadfastness must prevail.
@ANPMarkaz
متحدہ عرب امارات سے پاکستانی شہریوں کی بیدخلی، اے این پی نے سینیٹ میں تحریک التواء جمع کرا دی
تحریک التواء اے این پی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان کی جانب سے جمع کرائی گئی ہے
تحریک التواء میں اس اہم قومی، انسانی اور معاشی مسئلے پر فوری بحث کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے
#ANP | #AimalWaliKhan | #AwamiNationalParty
8 مئی کو راولپنڈی کے علاقے چکری روڈ میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں کاروباری لین دین کے مبینہ تنازعے پر جھگڑا ہوا۔ واقعے میں جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے سراج خان محسود اور زین نامی شخص کے درمیان تنازع شدت اختیار کر گیا، جس دوران فائرنگ اور تشدد کے نتیجے میں دونوں جانب سے ایک ایک شخص ہلاک ہوگیا۔ واقعے کے بعد پولیس نے سراج محسود کے گھر پر چھاپے مارے، جن میں ان کے گھر والوں کو گرفتار کیا گیا، اس افسوسناک واقعے نے انسانیت، قانون اور بنیادی انسانی حقوق پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ایک پشتون شہری کی میت، اس کی نوجوان بیوہ اور خاندان کی خواتین کو پولیس تحویل میں رکھنا، جبکہ گھر میں موجود دو ماہ کی معصوم بچی ماں کے دودھ کے لیے تڑپ رہی ہو،انتہائی تشویشناک اور قابلِ مذمت عمل ہے۔ اگر انصاف کے نام پر مظلوم خاندان کو ہی اذیت دی جائے تو یہ قانون کی روح کے خلاف ہے۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اس واقعے کی فوری، شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کی جائیں، میت اور زیرِ حراست خواتین کو فوری طور پر رہا کیا جائے، اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے۔ کسی بھی شہری کے ساتھ اس کی قومیت یا شناخت کی بنیاد پر امتیازی سلوک ناقابلِ قبول ہے۔ انسانی حقوق کے علمبردار اداروں، میڈیا اور سول سوسائٹی کو چاہیے کہ وہ اس معاملے پر خاموشی توڑیں اور انصاف و انسانی وقار کے لیے آواز بلند کریں۔
بارڈر کے اس پار حافظ اور اُس پار مولانا صاحب بیٹھے ہیں۔ ہم ان دونوں سے یہ سوال کرتے ہیں کہ شریعت اس بارے میں کیا حکم دیتی ہے؟ اگر جنگ ہو بھی جائے تو بچوں، خواتین اور بزرگوں کو نقصان نہیں پہنچایا جانا چاہیے۔ یہ قرآن کا واضح حکم ہے، لیکن یہاں صورتحال یہ ہے کہ طاقتور طبقے محفوظ ہیں جبکہ عام عوام بیچ میں مارے جا رہے ہیں، ایم پی اے نثار باز
@khannisar930
کنڑ اور باجوڑ جل رہا ہیں۔۔۔۔۔!!
اسلام آباد کی سیاسی اشرافیہ اور کابل کے ملاؤں کو احساس تک نہیں۔
عام عوام دونوں سائیڈ کے توپہ خانہ اور گولہ بارود کی زد میں ہیں۔
عوامی نیشنل پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی نثار باز خان کا اسمبلی اجلاس میں خطاب
🟥 پچھلے بیس پچیس سال سے دہشت گردی اپنے عروج پر ہے، لیکن اس کا کوئی مؤثر حل آج تک نہیں نکالا جا سکا۔
🟥 رمضان المبارک کے مہینے سے ملک میں دہشت گردی کی نئی لہر شروع ہو گئی ہے، اور آئے روز نئے واقعات ہو رہے ہیں، مگر نہ صوبائی حکومت اور نہ ہی مرکزی حکومت کی جانب سے اس پر کوئی سنجیدہ توجہ دی جا رہی ہے۔
🟥 کل ایک ہی دن میں باجوڑ سے لے کر وزیرستان تک مختلف مقامات پر دہشت گردی کے واقعات پیش آئے۔
🟥 ملٹنسی تو موجود ہے، لیکن پاکستان اور افغانستان کے درمیان جو ایک غیر اعلانیہ جنگ جاری ہے، اس کے اہداف اور مقاصد آج تک واضح نہیں کیے گئے، اور نہ ہی ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کو اس معاملے میں اعتماد میں لیا گیا ہے۔
🟥 ڈیورنڈ لائن کے دونوں اطراف عام عوام شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ اس لکیر کے دونوں جانب ایک ہی قوم آباد ہے، مسلمان، پشتون اور افغان جن کی زبان، ثقافت اور تاریخ ایک ہے۔
🟥 اس کے باوجود ان واقعات پر ہر طرف خاموشی چھائی ہوئی ہے۔ جو لوگ شہید ہو رہے ہیں، ان میں اکثریت بچوں، خواتین اور بزرگوں کی ہے۔
🟥 بارڈر کے اس پار حفیظ صاحب اور اُس پار مولانا صاحب بیٹھے ہیں۔ ہم ان دونوں سے یہ سوال کرتے ہیں کہ شریعت اس بارے میں کیا حکم دیتی ہے؟ اگر جنگ ہو بھی جائے تو بچوں، خواتین اور بزرگوں کو نقصان نہیں پہنچایا جانا چاہیے۔ یہ قرآن کا واضح حکم ہے، لیکن یہاں صورتحال یہ ہے کہ طاقتور طبقے محفوظ ہیں، جبکہ عام عوام بیچ میں مارے جا رہے ہیں۔
🟥 یہ تو پاکستان کے اپنے لوگ ہیں۔ فیض حمید نے چائے کے کپ کے ساتھ کہا تھا کہ “یہ ہمارے لوگ ہیں”، تو پھر اپنے ہی لوگوں کے ساتھ یہ صورتحال کیوں پیدا ہو گئی؟
🟥 پینتالیس سال سے قائم دوستانہ تعلقات اس طرح کیسے خراب ہو گئے، اور اس کی قیمت بچے، خواتین اور بزرگ کیوں ادا کر رہے ہیں؟
🟥 آج افسوس ہوتا ہے کہ کاش مولانا خانزیب شہید اور مفتی منیر شاکر شہید زندہ ہوتے تو اس قوم کو اس جنگ کے بارے میں قرآن و سنت کی روشنی میں وعظ و نصیحت کرتے۔
🟥 بدقسمتی سے ہم ایسی سرزمین پر زندگی گزار رہے ہیں جہاں نہ امن ہے اور نہ سکون۔ دہشت گردی، آئے روز ٹارگٹ کلنگ، دھماکے اور اغوا برائے تاوان معمول بن چکے ہیں۔ یہاں خوشی اور تفریح ناپید ہیں۔
🟥 پی ایس ایل کے میچز ہر جگہ ہو رہے ہیں، لیکن پشاور میں نہیں۔ یہاں نہ انٹرٹینمنٹ ہے، نہ ثقافتی سرگرمیاں اور نہ ہی کھیلوں کے مواقع۔
🟥وزیر اعلیٰ صاحب سے مطالبہ ہے کہ وہ وفاقی حکومت کے ساتھ اس مسئلے کو سنجیدگی سے اٹھائیں اور فوری اور مؤثر اقدامات یقینی بنائیں۔
#ANP | #ANPPakhtunKhwa | #NisarBaazKhan
عوامی نیشنل پارٹی کے رکن پختونخوا اسمبلی نثار باز کا صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں، ضلع باجوڑ میں بجلی اور موبائل نیٹ ورک بارے اظہار خیال:
🔴 واپڈا اور پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی دونوں وفاق کے ماتحت ہیں
🔴 موبائل فون نیٹ ورک کے حوالے سے ضلع باجوڑ اور مومند میں صورتحال ایک جیسی ہے
🔴 دونوں اضلاع میں عوام ہم سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ موبائل نیٹ ورک بحال کیا جائے
🔴 دوسری جانب وہاں بجلی بھی نہیں، اس کے باوجود کہ بجلی ہمارا صوبہ پیدا کرتا ہے
🔴 ہمارا صوبہ اپنی ضرورت سے زيادہ اور سستی بجلی پیدا کرتا ہے مگر اس کے باوجود ہم اس سے محروم ہیں
🔴 جس طرح وفاق صوبے کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کررہی ہے، یہاں کی صوبائی حکومت بھی اپوزيشن کے ساتھ برتاؤ کررہی ہے
🔴 اگر صوبائی حکومت ہمارے ساتھ اس طرح کا برتاؤ چھوڑ دے تو شاید وفاق بھی اپنے رویئے پر غور کرے
ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبائی حکومت بجلی اور نیٹ ورک کے مسائل بارے وفاق سے بات کرے اور ان مسائل کو حل کرنے کیلئے اقدامات کرے
#ANP | #AwamiNationalParty | #NisarBaaz
عوامی نیشنل پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی نثار باز خان کا اسمبلی اجلاس میں خطاب
🟥 باجوڑ میں پیش آنے والا واقعہ نہایت حساس نوعیت کا حامل ہے اور ایک بڑا سانحہ رونما ہوا ہے۔
🟥 اگر اس ریاست میں واقعی میڈیا آزاد ہے اور اسے ریاست کا چوتھا ستون قرار دیا جاتا ہے تو لازم ہے کہ باجوڑ کے اس واقعے کو اس کے اصل تناظر میں سامنے لایا جائے۔
🟥 وہاں شہید ہونے والا معصوم بچہ نہ فلسطین اور نہ ہی غزہ میں شہید ہوا، بلکہ وہ باجوڑ میں سیکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپ کے دوران جان کی بازی ہار گیا۔
🟥 اسی ظلم کے خلاف باجوڑ میں عوام نے احتجاج کیا کہ آخر ہمارے بچے یہاں کیوں شہید ہو رہے ہیں؟
🟥 26 جولائی کو آپریشن کا اعلان کیا گیا تھا کہ چھ ماہ کے اندر باجوڑ کو دہشت گردوں سے پاک کر دیا جائے گا، مگر اب تقریباً ایک سال گزرنے کو ہے اور باجوڑ میں دہشت گردی بدستور عروج پر ہے۔
🟥 عوام نے دہشت گردی کے خلاف اور امن و امان کے قیام کے لیے اپنے گھر بار چھوڑے، شدید مشکلات برداشت کیں، مگر نہ انہیں تحفظ فراہم کیا گیا اور نہ ہی امن قائم کیا جا سکا۔
🟥 جس دن یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا، اسی دن لوگوں کے گھروں کے تقدس کا بھی خیال نہیں رکھا گیا اور ان کے سامنے لوٹ مار کے واقعات پیش آئے۔
🟥 ہمارا مطالبہ ہے کہ اس معصوم بچے کی شہادت پر ایک جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ وہ کیوں اور کیسے شہید ہوا، اور اس واقعے میں ملوث عناصر کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔
🟥 جب ہم بار بار یہ کہتے ہیں کہ ہم پر دہشت گردی مسلط کی گئی ہے تو دوسرے صوبوں کے سیاستدان اور عوام اس کی تردید کرتے ہیں، حالانکہ ہم گزشتہ چالیس برسوں سے جنگ کی آگ میں جل رہے ہیں۔
🟥 اگر پاکستان، امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے یا جنگ بندی میں ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے تو یہ ایک مثبت قدم ہے، مگر اپنے گھر کے حالات پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔
🟥 گزشتہ بیس برسوں سے قبائلی علاقے دہشت گردی کی لپیٹ میں ہیں، مگر اس کا کوئی مؤثر حل سامنے نہیں آیا۔ نہ کوئی واضح پالیسی ہے اور نہ ہی امن و امان کے قیام کے لیے سنجیدہ اقدامات نظر آتے ہیں۔
🟥 دہشت گردی کے واقعات تسلسل کے ساتھ جاری ہیں۔ 28 جولائی 2025 سے اب تک 38 سویلین شہید ہو چکے ہیں جبکہ 33 بچے، خواتین اور مرد زخمی ہوئے ہیں۔
🟥 یہ صرف سویلینز کی تعداد ہے؛ جن کے خلاف آپریشن کیا جا رہا ہے، ان میں سے کتنے مارے گئے اور دہشت گردی کا خاتمہ کیوں نہیں ہو رہا، اس بارے میں کوئی وضاحت نہیں دی جاتی۔
🟥 ان تمام واقعات کو ’’کولیٹرل ڈیمیج‘‘ کا نام دیا جاتا ہے، مگر یہ کیسا کولیٹرل ڈیمیج ہے جس میں بار بار عام شہری ہی نشانہ بنتے ہیں؟
🟥 ایک طرف ظلم جاری ہے اور دوسری جانب آئی ڈی پیز کو ریلیف پیکیج بھی فراہم نہیں کیا جا رہا۔ آٹھ سو خاندانوں کو اس سے محروم رکھا گیا ہے، جبکہ 65 شہداء کے لواحقین کو بھی کوئی پیکیج نہیں دیا گیا۔
🟥 ایک طرف ہمارا خون بہایا جا رہا ہے اور دوسری طرف جب ہم دہشت گردی کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں تو ریاستی ادارے حرکت میں آ جاتے ہیں؛ کسی کا نام اے سی ایل میں ڈال دیا جاتا ہے اور کسی پر ایف آئی آر درج کر دی جاتی ہے۔
#ANP | #AwamiNationalParty | #NisarBaazKhan
میڈیا اگر آزاد ہے تو اس معصوم بچے کو دکھائے گا
یہ بچہ غزہ میں شہید نہیں ہوا بلکہ باجوڑ میں سکیورٹی فورسز اور دہشتگردوں کی لڑائی میں شہید ہوا ہے
نثار باز رکن خیبر پختونخوا اسمبلی عوامی نیشنل پارٹی
آبنائے ہرمز کھل گئی، دنیا میں تیل کی سپلائی بحال ہو گئی۔ اچھی بات ہے۔
مگر سوال یہ ہے
کہ افغانستان کے ساتھ ہمارے 16 بڑے تجارتی راستے کب کھلیں گے؟ وہ راستے جن پر لاکھوں خاندانوں کا روزگار ہے، وہ کب بحال ہوں گے ؟
ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کرکے دنیا کو ایک بہت بڑی جنگ اور تباہی سے بچا لیا۔ بہت اچھی بات ہے۔
مگر سوال یہ ہے
کہ اس ریاست کے اندر پختونخوا میں امن کب آئے گا؟ وہ پختونخوا جو پچھلے 25 سال سے بارود، جنازوں اور کرفیو کے سائے میں جی رہا ہے؟
دنیا کا سوچا، بہت خوب۔ اب ذرا اپنے گھر کا بھی سوچ لیں۔پختونخوا کے مظلوم عوام کب تک خوف کے سائے میں جیتے رہینگے ؟؟
@ نثار باز
عوامی نیشنل پارٹی کے رکنِ صوبائی اسمبلی نثار باز خان نے سعودی عرب میں مقیم پاکستانی مزدوروں کو درپیش مسائل کے حوالے سے اسمبلی میں ایک قرارداد پیش کی، جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔ قرارداد میں صوبائی حکومت کے ذریعے وفاقی حکومت سے سفارش کی گئی ہے کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی مزدوروں کے مسائل کے حل کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
@khannisar930
اج ایم پی اے نثار باز خان کا بڑا اقدام، چیف سیکرٹری اور سیکرٹری داخلہ کے خلاف تحریک استحقاق صوبائی اسمبلی میں پیش کیا
صوبائی اسمبلی کا تقدس پامال نہیں ہونے دیں گے، نثار باز خان کا دوٹوک مؤقف
چیف سیکرٹری اور سیکرٹری داخلہ پرویلج کمیٹی میں طلب
بیوروکریسی کو کھلا چیلنج، طویل عرصے بعد کسی رکن کا سخت اقدام، صوبائی چیف سیکرٹری اور سیکرٹری داخلہ کو پرویلج کمیٹی میں طلب
ایوان میں بیوروکریسی کے کردار پر سوالات، معاملہ پرویلج کمیٹی کو بھیج دیا گیا
نثار باز خان کی کارروائی، سیاسی حلقوں میں ہلچل
#mpanisarbaaz #ANP @khannisar930