Another cruel reality of our society exposed in judicial commission proceedings today. #MirRaza's @bykeapk driver Ihsanullah who from day one cooperated with family & investigation was evicted by police & Bykea vehicle taken back & fired for getting involved in a police case P1/2
just passed by chaar minaar and there were people still protesting about Mir Raza and this made me realise how fucked up the judicial system of Pakistan is, common people can never get justice, however kudos to his parents and supporters who r fighting w this messed up system
Sindh Police arrested a member of the victim's family after they uploaded the CCTV video showing the girl being beaten with a dumbbell while Sindh policemen were there. Shame on these bastards.
Just five days ago, ministers were presenting PIMS as if it were the world’s no 1 hospital. Today, the same ministers are running from media, trying to hide negligence, incompetence, health & safety failures, & lack of facilities at PIMS. Just in five days. What a change!
4 سال بعد اللہ نے بیٹا دیا، آگ لگی تو انتظامیہ کا کوئی بندہ نظر نہیں آیا، نرسری کے تالے توڑنے کےلئے کوئی بندہ نہیں تھا، اندر میرا بیٹا تھا، تالہ توڑ کر اندر گیا، آگ نے اُٹھا کر مجھے باہر پھینکا، میں نے اپنے ہاتھوں سے چار سے پانچ جلے ہوئے بچے باہر نکالے، ایک باپ کا دُکھ۔!!💔
This guy shouldn’t even be called an animal, animals make more sense than he does. Beating a man with a baseball bat in front of his young daughter, who sees her father as her hero, is beyond disgusting. Men driving these “Dallay” seem to forget how humans are supposed to behave.
حکومت سندھ کی اقربا پروری کی ایک اور مثال ۔ قائم علی شاہ کی بیٹی ریٹائر منٹ سے قبل ہی تین سال کے لئے پروفیسر مقرر، تین اسسٹنٹ پروفیسرز کی سینیارٹی متاثر ۔ میرٹ کی دھجیاں اڑادی گئیں۔
شرم ان کو مگر نہیں آتی
The owner of Wafflix, an IBA alumnus, was kidnapped and killed today at Gulistan-e-Jauhar. Karachi is literally a hellhole for the youth. This is so heartbreaking!!!
It was such a peaceful movement, feel so sad that it had to take a violent turn. My heart goes out to the students and their families who were hurt. Paper leak is a very serious issue, and I am glad to know n see that the kids of our country have come together for a better educational system, and their parents supported them.
I truly appreciate the stand they have taken, showing dedication, sincerity, and keenness to study hard n make their future and a greater, educated India. This andolan, this protest, is the right way to go abt it, n the students have done this peacefully. So courageous and brave. Driven and motivated towards education, this generation will make India proud.
This issue is between the students and the educational system, it should not be hijacked politically, the credit should only go to the students of our country, and I am sure the government will also give them all the support n make it a stronger educational system. It’s a win-win situation. Hoping n praying for a positive decision. God bless all of you who wanna be educated.
Education should be the next trend and fashion, and should get trendier n more fashionable yr by yr, itna k bahar se log come to India to study and India becomes an educational hub.
In my estimate, DHA Karachi’s real estate alone is worth roughly what the entire PSX is.
Pakistan’s real estate boom was never about value creation. It was untaxed money looking for a place to hide.
The result: most Pakistanis can no longer afford to buy property in their own country.
حنیف کریانہ اسٹور کو شہری انتظامیہ نے بھاری مشینری سے منہدم کرکے جائے وقوعہ اور تمام کرائم سین کو صاف کردیا ہے!
جبکہ ابھی کیس کی تفتیش مکمل نہیں ہوئی
یہ کونسے قانون اور قاعدے کے تحت کیا گیا ہے ؟
اس کیس کے وقوعہ کے پہلے دن یہ بیان سامنے آیا کہ اس واردات میں دو ملزمان ملوث ہیں جو دکان میں موجود تھے
اس کے بعد منتہا کے ماموں کا بیان آیا کہ بچی کی گمشدگی کے بعد جب انہوں نے بچی کی تلاش شروع کی اور حنیف کریانہ اسٹور سے زرا فاصلے پر خان کراکری اسٹور کے CCTV کیمرہ کی کلپ کھلوا کر دیکھی تو بچی 11 بج کر 3 منٹ پر دکان کے اندر داخل ہوتی نظر آئی
انہوں نے 11 بج کر 33 منٹ تک کی وڈیو دیکھی مگر بچی دکان سے نکلتی نظر نہیں آئی
اس کے بعد انہوں نے دوسرے کارنر پر واقع اک دکان کی CCTV فوٹیج دیکھی کہ شاید بچی پچھلی طرف سے نکل گئی ہو مگر ایسا کچھ نہیں ہوا تھا
جب یہ اھل علاقہ کے چند افراد کے ساتھ دکان کے اندر گئے تو دکاندار کاؤنٹر پر موجود تھا
اس کے علاوہ دکان میں چار ملازمین اسٹور میں اور اوپری منزل پر موجود گودام میں موجود تھے
جب بچی کے ماموں نے ان سے پوچھا کہ بچی دکان میں داخل ہوتی نظر آئی ہے مگر باہر نکلتے نظر نہیں آئی
تو ان پانچوں نے بتایا کہ بچی آئی تھی مگر سودا لے کر چلی گئ
ماموں نے اس دکان کی نگرانی نہیں چھوڑی اور پولیس کے آنے تک دکان پر مستقل نظر رکھی
جب پولیس تلاشی لینے دکان کے اندر داخل ہوئی تو SHO نے بھی پوچھ گچھ کی
مگر ان لوگوں نے وہی بیان دیا کہ بچی سودا لے کر چلی گئ تھی۔ اس دوران SHO نے اک بندے کے جوتے پر کچھ خون کے نشانات دیکھ کر جب پولیس کے روایتی طریقے سے تفتیش کی تو سب پتہ چل گیا
بچی کی لاش دکان کے اک کونے میں کچرے اور کارٹن کے نیچے سے برامد کرلی گئ
یہاں اس شخص کا نام نہیں بتایا گیا جس کے جوتے پر خون کے قطرات دیکھ کر SHO نے تفتیش کی
دوسری بات یہ کہ اگر وقوعہ کے وقت یہ پانچوں دکان میں موجود تھے تو اصولا تو بچی کو کاونٹر پر بیٹھے حنیف کو پیسے دے کر سودا لے جانا تھا
دکاندار کی موجودگی میں بچی اوپر کیسے پہنچ گئ؟
اگر ارسلان اصل مجرم ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ دکاندار اور دیگر تین افراد کی دکان میں موجودگی کے باوجود بچی کو اوپر لے گیا اور سب کچھ کیا
مگر باقی سب گونگے بہرے بنے رہے؟
اگر یہ سب اس جرم میں ملوث نہیں ہیں تو پھر بچی کے دکان سے سودا لے کر چلے جانے کا بیان کیوں دیا؟
یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ دکاندار کی چند روز پہلے بچی کے والد سے کسی بات پر بحث و تکرار ہوئ تھی جس پر دکاندار نے بچی کے والد کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی تھیں؟
تو پھر پولیس نے کس بنیاد پر صرف ارسلان کو مجرم ٹھہرا کر اس کو پار لگادیا؟
جبکہ بتایا جارہا ہے کہ ارسلان گزشتہ تین سال سے دکان پر ملازم تھا مگر اس کی طرف سے ماضی میں ایسی کوئ شکایت نہیں ملی جبکہ یقینا اگر بچی ریگولرلی ان کی دکان پر آتی تھی تو پہلے بھی درجنوں بار آچکی ہوگی
کہیں ایسا تو نہیں کہ اصل مجرم کوئ اور ہو مگر دکاندار نے بھاری معاوضے کا لالچ دے کر ارسلان کو الزام اہنے سر لینے کا کہا ہو اور بعد از گرفتاری ضمانت وغیرہ کا بھی وعدہ کیا ہو؟ مگر کوئ بھی ذی شعور اس قدر گھناؤنے اور شیطانی جرم کا الزام اپنے سر نہیں لے سکتا۔
باقی چار ملزمان کی نہ تو تصاویر شئر کی جارہی ہیں اور نہ ان سے متعلق کوئ دیگر تفصیل جاری کی جارہی ہے
جبکہ حالات و واقعات کے مطابق تو یہ بھی جرم میں برابر کے شریک ہیں DNA اور فارنسک کی رپورٹ آنے سے پہلے کیسے پولیس نے ارسلان کو پکا مجرم قرار دے کر پار لگا دیا؟
پولیس کا کسی ایک شخص کو مرکزی ملزم قرار دینا عام طور پر اس وقت ہوتا ہے جب اس کے خلاف ابتدائی شواہد، اعترافی بیان، برآمدگی، فارنزک شواہد یا دیگر قرائن موجود ہوں۔ تاہم عوامی سطح پر سامنے آنے والی معلومات اکثر مکمل نہیں ہوتیں۔ DNA اور فارنزک رپورٹس کی اہمیت بہت زیادہ ہے
مزید مشکوک کرنے والی تازہ ترین خبر یہ ہے کہ شہر کی انتظامیہ نے کرین اور دیگر مشینوں کے ذریعے حنیف کریانہ اسٹور کو منہدم Demolish کردیا ہے یعنی کیس کی مکمل تفتیش ختم ہونے سے پہلے ہی جائے وقوعہ اور تمام اہم ترین ثبوت مکمل طور پر ختم کردئے گئے ہیں
یہ اقدام پولیس اور انتظامیہ کی نیت اور کارکردگی پر انتہائ سنجیدہ نوعیت کے سوالات اٹھاتا ہے
یہ کس قانون یا اصول کے تحت کیا گیا ؟
Case from Peshawar where a girl went missing later raped and murdered, dead body thrown
We've now recorded 3 cases within 3 days from 3 different provinces of Pakistan like there's a competition going on
The government should impose a state of emergency and do something about it