پنجاب میں کسانوں سے گندم خریداری کے وقت سے قریباً پچاس فیصد زیادہ قیمت ہو جانے کو سرکاری ترجمانی میں کھیر بنا کر پیش کرنا ایک انتہائی قیوٹ واردات ہے۔
اگر گندم واقعی فوڈ سیکورٹی لاء کے تحت پروکیور ہوتی ہے تو پچاس فیصد سے زائد منافع کس انسانیت کے تحت جائز ہے دفاع کے لیے ۔
اب تو نون لیگ کے اپنے رکن اسمبلی امجد علی جاوید بھی شرمندہ کر رہے کہ ایم اے ایم ایس سی کرنے والی بچیوں کو 8ہزار تنخواہ دے رہے یہ تو اس اسمبلی کے بنائے کم سے کم اجرت والے قانون کے بھی خلاف ہے
وزیرتعلیم کوئی شرم کوئی حیا ؟
آٹھ ہزار تنخواہ مذاق ہے
لمبا عرضہ سی پیک گیم چینجر بتاتے رہے اب بتاتا جا رہا ہے کہ سی پیک کے مہنگے قرضے چکانے کے لئے اب سعودیہ سے سستا قرضہ مانگ رہے ہیں سستا ادھار تیل مانگ رہے ہیں
اٹھارہ ارب ڈالر کے سی پیک قرضے تو بجلی گھر بنانے پر لگے تھے ان کو انقلاب بتاتے تھے اب پھنس چکے
گندم کی قیمت عام کسان کو بہتر نہی دینی ہے وہاں بھی ٹھیکداری نظام لے آئے خریداری کے لئے ٹھیکیدار کو قرضہ بھی دیا گودام بھی سرکار کے دیے اور سود کا ستر فیصد بھی حکومت نے دیا اب ہر مہینے بیس ارب کی سبسڈی بھی دے رہے مگر یہ سارا پیسہ کسان کو براہ راست دینے میں کیا ہرج تھا؟
یہ سب کر کے بھی آج آٹے کا بحران سر پر گندم مہنگے زرمبادلہ پر باہر سے منگوائیں گے اس سب تجربے کا کیا فائدہ ہوا ؟
آئیندہ جو بھی ووٹ مانگنے آئے تو آپ مریم نواز شریف کے بتائے اس طریقے پر لازمی عمل کریں
اسے بجلی کا بل دیکھاو
اسے گیس کا بل دیکھاو
پیٹرول کی پرچیاں دیکھاو
گھی کے کنستر چمچے سے بچانا
کہ جھوٹو یہ رہا تمھارا ووٹ 🙈🙈🙈
پہلے مہینہ بعد پیٹرول بڑھتا تھا پھر پندرہ دن ہوا اس کے بعد آٹھ دن بعد اور اب فرعون کی اولادوں نے روزانہ پیٹرول مہنگا کرنے کا اعلان کیا ہے
انکا خیال روز تھوڑا تھوڑا جھٹکا لگے گا تو تکلیف کم ہو گی عوام بولے گی نہی
ایک سو ستر روپے کی گیس پر 600روپے فکسڈ ٹیکس اور دو سو دیگر ٹیکس لگا کر ایک ہزار بل بنا دیا
دنیا کے کسی بھی اصول اور ضابطے میں اصل بل سے چار گنا ٹیکس نہی ہوتا یہ معاشی غنڈا گردی ہے
نون لیگ اس پر صرف لعنت کی مستحق ہے جبکہ راتب خور چاہتے اس کی تعریفیں کی جائیں
تنقید حکومت پر نہی انکی عوام دشمن پالیسی پر ہوتی ہے
جب نون لیگ نے عمران کی حکومت کے بعد اقتدار سنبھالا تو ہم سب نے کھل کر ان کا ساتھ دیا اس بات کو بھی تسلیم کیا کہ تباہ معیشت کے لیے سخت فیصلے لازم ہیں جب عدلیہ میں بیٹھے ججز نے حکومت کا ناطقہ بند کیا کھل کر ججوں پر تنقید کی حکومت کے ساتھ کھڑے ہوئے جب تک پی ٹی آئی ایک مسلہ بنی رہی تب بھی ان سے مقابلہ کیا حکومت کی ہر خارجہ کامیابی پر کھل کر ساتھ دیا انڈیا سے جنگ میں ساتھ کھڑے ہوئے افغانستان کے معاملے پر ہمیشہ سپورٹ کیا ہے
اب حکومت کے راستے سے ہر رکاوٹ ہٹ چکی ہے اسٹیبلشمنٹ کی ان کو فل سپورٹ ہے تو ان سے امید تھی یہ عوام کے لیے سہولت پیدا کریں گے مگر الٹا یہاں بجلی گیس پیٹرول میں عوام پر سارا بوجھ ڈال کر فوائد الیٹ کی طرف منتقل کیے حکومت پر تنقید ان کے عوام دشمن فیصلوں کئ وجہ سے ہے کبھی یہ نہی لکھا کہ یہ حکومت چلی جائے ہمیشہ ان کی مدت مکمل ہونے کی بات کی مگر عوام دشمن اقدامات پر کھل کر تنقید ہوتی رہی گی کیونکہ حکومت اس محاذ پر ناکام ہے اور اس کی وجہ سے عوام میں نفرت اور بے چینی پھیل رہی ہے
محسن نقوی صاحب سے بطور وزیر داخلہ ابصار عالم نے بہت اہم سوال کیے ہیں کہ کرکٹ کا ستیاناس ہو چکا بلوچستان کا تباہ ہے خیبر پختون خواہ میں آگ لگی ہے اور اب آزاد کشمیر کا حال دیکھ لیں اس سب کے بعد ان سے کچھ پوچھا کیوں نہیں جاتا؟
شہباز صاحب انکو کیوں رکھا؟
مبارک ہو چاچو کی حکومت نے دل پر پتھر رکھ کر ملک بھر میں ہائی وے پر ٹول بڑھا دیا ہے اراکین اسمبلی کا تو مفت ہو چکا عام بندوں کے لئے اب عام سڑک کا ہر ٹول 100 روپے ہیں پشاور اسلام آباد کا اب سات سو روپے ہے
آپ کو مزہ تو آ رہا ہو گا ان پتھروں کا ؟
یہ قابل شرم بات ہے، کوئی قابل تعریف نہیں ہے، غریب ترین عوام سے غیرقانونی اور غیرآئینی فکسڈ چارجز اور دیگر ٹیکسز کی مد میں بھتہ وصول کر کے عیاشی کرنے کے عمل کو قابل تعریف سمجھ رہے ہیں؟؟
قیامت کتنے بجے آنی ہے؟؟
اسحاق ڈار صاحب جب وزیر خزانہ تھے تو کچھ مہنگا کرنے سے دو تین دن پہلے کوئی قرانی ایات ٹویٹ کر دیتے تھے عوام اس پر کچھ کہہ تو سکتی نہیں تھی مگر اندازہ ہو جاتا تھا کہ پٹرول ڈیزل بجلی وغیرہ وغیرہ مہنگا ہونے جا رہا ہے، یہ اج وزیر توانائی اویس لغاری نے تو سیدھا سیدھا اپنی پرفارمنس فخریہ طور پر پیش کر دی ہے ۔ انکی ٹوئیٹ کے نیچے عوام لتر لے کر بیٹھے ۔replies پڑھ لیں .
عوام کی جیب کاٹ کر کمائے منافع پر لعنت بنتی ہے تعریف نہی آپ کے آنے کے بعد بجلی کے بل دو گنا سے زیادہ بڑھ چکے سلیب کا چھ مہینے سزا کا ظالمانہ قدم ہوا اور اب یہ فکسڈ ٹیکس ہے بجلی استعمال کرو نا کرو بل اس حساب سے ہی آئے گا یہ سب ظلم وہ بھی پنجاب پر باقی تو کوئی صوبہ اور کشمیر بل دینے پر تیار نہی ہے
شرم تم کو مگر نہی آتی
کائنات کا سب سے بڑا ظلم کسی کا روزگار تباہ کرنا ہے آپ کے بچے تو لاکھوں ڈالر کے کاروبار اور فراڈ کر رہے جبکہ غریب کی ریڑھی بھی آپ سے برداشت نہی ہے اور پھر یہ اراکین اسمبلی اپنے لیے مفت کی مراعات بھی مانگ لیتے ہیں
غریب کو مزدوری بھی نہی کرتے دیتے ہیں
سستا پیٹرول خرید کر مہنگا ترین بیچ رہے ہیں سستی گیس مہنگی بیچ رہے بجلی کے بل میں فکسڈ ٹیکس ہے ایک یونٹ اوپر جانے پر چھ مہینے کی سزا ہے یہ سب عوام کی جیب سے لے کر اراکین اسمبلی کو تاحیات مفت بجلی کے بل پاس کر رہے ہیں
لعنتیں کردار