جب اسماعیل ہانیہ شہید نے کہا تھا کہ اگر پاکستان صرف اسرائیل کو دھمکی دے تو ہمارے بچے مرنے بند ہو جائیں گے، تو اس وقت پاکستان کے بزدل سیکولر لبرل کہتے تھے، اسرائیل جیسے طاقتور سے لڑو گے جس کے پیچھے امریکہ بھی ہے۔ اللہ نے ایران کے ہاتھوں دونوں طاقتوں کو ذلیل و رسوا کروا کے دکھا دیا۔ اوریا مقبول جان
@OryaMaqboolJan
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
Iran has had a very beautiful and glorious past. This is not a history of just 100 or 200 years, but one that goes back thousands of years. It is one of the oldest civilizations in the world. It is the responsibility of the entire world to view such a civilization with respect. Anyone who wishes to explore the world should definitely visit Iran — its hospitality touches the heart deeply. The world can only prosper through peace. Long live Iran.
شہید امام خامنہ ای رح کی وہ پیشگوئی جو انکی دیگر کئی پیشگوئیوں کیطرح سو فیصد درست ثابت ہوئی
ہمارے سپریم لیڈرِ شہید نے اپنی شہادت سے پہلے ہم سب کے ساتھ ایک اہم نشست کی تھی۔ انہوں نے نہایت پُراعتماد لہجے میں فرمایا تھا کہ آنے والی اس جنگ میں ہم میں سے بہت سے رہنما، حتیٰ کہ وہ خود بھی، شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز ہوں گے، لیکن آخرکار ایران دنیا بھر میں ایک مضبوط اور ناقابلِ نظرانداز طاقت کے طور پر تسلیم کیا جائے گا۔
انہوں نے ہمیں سمجھایا تھا کہ کوئی بھی عظیم کامیابی آسانی سے حاصل نہیں ہوتی، اس کے لیے بڑی قربانیاں دینا پڑتی ہیں۔ اس وقت ہم نے اس بات کو ہلکے میں لیا اور مسکرا دیے، مگر آج حالات کو دیکھ کر ہمیں ان کے ہر لفظ کی گہرائی اور حقیقت کا احساس ہو رہا ہے۔"
— ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی 🇮🇷
🫡نام عباس ہے بہادُر تو ہوگا🔥
🇺🇸 ٹرمپ 10:00 بجے –– "ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی میں لبنان شامل نہیں ہے، لبنان پر کوئی بھی حملہ جنگ بندی کی خلاف ورزی نہیں ہے"
🇮🇷 عباس عراغچی 10:30 –– 🔥 "اگر جنگ بندی میں لبنان شامل نہیں ہوتا ہے، تو ایران جنگ بندی کے حوالے سے امریکہ کے ساتھ مزید تمام بات چیت کا بائیکاٹ کر دے گا"
تعجب کی بات نہیں کہ اب عباس عراغچی کو دنیا بھر میں بہترین سفارت کار سمجھا جاتا ہے۔
@araghchi
حکومت بلوچستان ہمیں اجازت دیں تو پورے پاکستان میں 200 روپے پیٹرل کا لیٹر پہنچائیں گے اختر کاکڑ
مطلب ایک طرف حکومت خود جو پیٹرول سستا لیکر عوام کو مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں
دوسری طرف ایرانی پٹرول جو کم قیمت پر مل رہی اس سے ہر چیک پوسٹ پر بھتہ کی شکل میں فی لیٹر 200 بھتہ لیتے ہے
ایران کیسے سپر پاور سے ٹکرا گیا۔۔۔۔!!!
ایران ایک مہینہ پانچ دن سے عالم کفر سے جنگ لڑ رہا ہے اس کے اندرونی حالات کچھ یوں ہیں:
1- اس وقت تک 35 روزہ جنگ میں کسی ملک سے مالی مدد نہیں لی
2- کھانے پینے کی اشیاء کے لیے اپیل نہیں کی
3- ادویات کی اپیل نہیں کی
4- ملک کے اندر جنگ شروع ہوتے ہی روٹی ؛ پٹرول اور ڈیزل مفت کر دیا گیا ہے
5- ایک مہینے جنگ اور مسلسل پوری عالم کفر کی شب و روز بمباری کے باوجود ایک بھی ایرانی نے ملک سے ہجرت نہیں کی جبکہ دوسرے ملکوں میں مقیم ایرانی وطن کے دفاع کے لیے واپس آ رہے ہیں۔*
6- لاک ڈاؤن کی اصطلاح کسی ایرانی کو شاید معلوم ہی نہ ہو۔
7- بڑے بڑے تاجروں نے لکھ کر لگا دیا ہے کہ مال لے جاؤ اور جنگ کے بعد پیسے دے دینا۔
8- جنگ اور بمباری میں وزراء عوام کے درمیان روڈوں پر امریکی مخالف مظاہروں میں برابر شریک ہیں۔*
9- ایرانی صدر خود شاپنگ مالز پر جا کر ریٹ اور سہولیات چیک کر رہا ہے۔
یہ سب کیسے ممکن ہوا کہ 47 سالہ پابندیوں اور جنگوں میں جکڑے ملک کی عوام پر سکون ہے۔
کیونکہ:
1- نئے سپریم لیڈر نے ذاتی گھر تک نہیں خریدا نہ خرید سکے*
2- وزراء اور جرنیلوں کے بچوں پر بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے پابندی ہے۔
3- حکومتی اراکین اور انتظامیہ بیرون ملک اکاؤنٹ نہیں رکھ سکتے
4- کسی بھی وزیر یا جرنیل کا ملک سے باہر کوئی دوسرا گھر نہیں ہے۔
5- سپریم لیڈر محتاط اندازے کے مطابق روزانہ 18 گھنٹے کام کرتا ہے
6- کو ایجوکیشن کے نام پر بے غیرتی کے اڈے نہیں ہیں
7- امریکن یا یورپین سکول کالجز نہیں ہیں
8- تعلیم مفت ہے جس کی وجہ سے ہر دوسرا جوان انجینئر ؛ پی ایچ ڈی اور کم از کم ایم اے پاس ملے گا۔
9- رات کی تاریکی میں شب خون مار کر ریٹ نہیں بڑھائے جاتے بلکہ حکومت پہلے پارلیمنٹ میں بل پیش کرتی ہے پھر سپریم لیڈر نے فیصلہ کرنا ہوتا ہے اس لیے سال میں ایک آدھی مرتبہ دو تین پرسنٹ ریٹ بڑھ سکتا ہے وہ بھی ریٹ کے ساتھ سپریم لیڈر کے بجٹ سے عوام کو ریلیف دے دیا جاتا ہے
10- گھر میں روٹی پکانا منع ہے جس سے خواتین پڑھ لکھ سکتی ہیں یا اجتماعی پروگراموں میں آسانی سے شرکت کر سکتی ہیں۔
11- ڈیلیوری کیسز فری ہیں بلکہ بچے کی پیدائش پر کم از کم 20000 روپیہ والدہ کے اکاؤنٹ میں گفٹ بھی ٹرانسفر کیا جاتا ہے
12- علاج میں 70 فیصد حکومت ادا کرتی ہے 30 فیصد مریض
13- چوری ڈکیتی نہیں ہے
14- شاہی کلچر نام کی چیز ہے نہ پروٹوکول
15- بھکاری نہیں ملے گا
16- بے نمازی ہونا عیب سمجھا جاتا ہے
17- سورج غروب ہونے سے طلوع ہونے تک پولیس قاتل کے گھر میں بھی داخل نہیں ہو سکتی کیونکہ وہ وقت اس کی بیوی بچوں کا ہے
18- جیلیں خالی ہیں اور اگر کسی سے جرم ہو بھی گیا تو اسے جیل میں کام دیا جاتا ہے جس کی سیلری اس کے گھر بھیجی جاتی ہے تاکہ اس کی فیملی بجٹ ڈسٹرب ہونے کی وجہ سے غیر اخلاقی جرائم میں مبتلا نہ ہو۔
19- امام جمعہ کا مقام گورنر سے بالاتر ہوتا ہے تاکہ انتظامیہ من مانی نہ کر سکے ۔جمعہ کے خطبہ میں انتظامیہ کو وارننگ دے دی جاتی ہے۔
20- وزراء اور صوبائی و ضلعی انتظامیہ کے افسران نماز جمعہ کی پہلی صف میں سب سے پہلے موجود ہوتے ہیں۔
21- چھوٹے بڑے خاندان کا تصور نہیں ہے سادات اور غیر سادات میں پوری قوم تقسیم ہوتی ہے
22- معلم سر کا تاج ہوتا ہے اسے تھانے یا کچہری میں نہیں بلوایا جا سکتا کیونکہ معلم اور استاد ایسا کام ہی نہیں کرتا۔
23- نوکر رکھنے کا رواج نہیں ہے
24- ذہنی طور پر ہر شخص مطمئن اور ہشاش بشاش دکھائی دیتا ہے
یہ ہے ولایت فقیہ کا ملک جسے ایرانی کہتے ہیں کہ یہ ملک بارہویں امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کا پیش خیمہ ہے۔
اور ہم نے یہ حکومت انسانیت کے نجات دھندہ ھستی کے سپرد کرنی ہے یہ ہمارے پاس امانت ہے اور اس امانت کی حفاظت کے لیے سب کچھ قربان کر سکتے ہیں اور کر رہے ہیں۔
ان کے اس جذبے اور قربانی اور پھر سچے ایمان کی وجہ سے اس وقت عالم اسلام اور یہاں تک کہ غیر مسلم بھی ان کی تائید کر رہے ہیں۔
اگر ایسی حکومت سپر پاور بن جائے تو دنیا کے غم ختم ہو جائیں گے۔
درحقیقت یہ وہی عدل و انصاف پر مبنی عالمی حکومت ہے جس کا پوری دنیا کو صدیوں سے انتظار ہے۔
ہر آنے والا دن مسلمانوں کے لیے ترقی کا سورج کے کر نکلے گا۔
اور پوری دنیا پر مسلمان اور اسلام غالب ا جائے گا۔
کچھ صبر ؛ برداشت اور متحد ہو جانے کی ضرورت ہے۔
گناہ کرنا چھوڑ دیں
اپنے آپ کو اس عالمی حکومت کے لیے تیار کر لیں جس کا راستہ کوئی نہیں روک سکتا۔
معاشرے میں بھائی چارے کی فضا پیدا کریں۔
منقول
فلسطین کے ایجوکیٹیڈ بچوں نے بڑی محنت سے بےحس مسلمانوں کیلئے NOT-HANKS
کے نام سے ایکAPP بنائی ھے کہ شاید ھم خریدوفروخت کرتے وقت
اس APP کی مدد سے #کوڈبار
کو سکین کر کے یہ معلوم کر سکتے ہیں کہ یہ پروڈکٹ
اسرائیلی ھے
ھمارے مسلمان فلسطینی بھائیوں بچوں کیلئےظلم کا باعث تو نہیں بن رہی
ایرانی وزیر خارجہ کا تاریخی جواب۔۔۔۔۔دہشتگرد اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے قتل کی دھمکیاں ملنے کے بعد ایرانی وزیر خارجہ نے کہا:
“تمہاری دھمکیاں ہمارے قدموں تلے ہیں۔ اگر ہمیں موت کا خوف ہوتا تو ہم اس جنگ میں داخل نہ ہوتے، اور نہ ہی اپنے بہترین لوگوں کو شہادت کے لیے پیش کرتے۔
اپنے وطن کا دفاع کرتے ہوئے موت ہمارے لیے اعزاز ہے…
ہم آزاد پیدا ہوئے ہیں، اور آزاد ہی مریں گے۔”
ایران زندہ باد
عالم اسلام زندہ باد
مرگ بر امریکہ
مرگ بر اسرائیل
🇮🇷🤝🏻🇵🇰
ایرانیوں کی جانب سے پاکستانی قومی ترانہ فارسی لہجے میں پیش کرنا صرف ایک فنکارانہ انداز نہیں بلکہ دو قوموں کے درمیان موجود گہری محبت اور احترام کا خوبصورت اظہار ہے۔ یہ لمحہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان اور ایران کا رشتہ محض ہمسائیگی تک محدود نہیں بلکہ ثقافت، جذبات اور دلوں کی قربت سے جڑا ہوا ہے۔
#Iran #Pakistan
@Mahnoor_Haider2@Abbasbugti52@FK_Achakzai@KattaNews5@fahmidahyousfi@sadafzbaloch@BehrozB71815595