الجزیرہ کو ذمہ دارانہ صحافت کی طرف آنا ہی ہوگا پہلے ہی اسرائیل میں بھی ذلیل ہوئے ہیں، اگر میعاری صحافت کرنی ہی ہے تو صرف گرین الیکٹرک بس پر رپورٹ کرے وہ بھی صرف لاہور شہر کی حد تک نمائندے کو چڑھائیں کہ یہ ہربنس پورہ آگیا، یہ گجومتہ آگیا، یہ پیکھے وال موڑ آگیا آگے اچھرہ ہے۔
@PehnDiSiri عمران و باجوہ و فیض دور میں ن لیگ نے 99 فیصد ضمنی انتخاب جیتے تھے ۔ پنجابی میں کہتے ہیں وساہ کے مارنا ۔ اسٹیبلشمنٹ ن لیگ کو وساہ کے مارتی ہے ۔
@Muhamma10937921@HammadHassan30 اس کے دور میں کرنل پوری پارلیمنٹ چلاتا رہا ۔ فیض نے ہر بار قانون سازی و بجٹ پاس کے لئے بندے پورے کر کے دیئے ۔ اس نے باجوہ کو تا حیات بطور آرمی چیف ایکسٹینشن آفر کی ۔ اس نے سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کا کردار کم کرنے کی بجائے ہزار لاکھ گنا بڑھایا ۔ حماد صاحب کی فرمائش سن کر افسوس ہوا ۔
ملک محمد اقبال چنڑ صاحب کی وفات پر انتہائی دکھ ہوا۔ وہ ایک مخلص نمائندے تھے جنہوں نے ہمیشہ عوامی خدمت کو اپنا شعار بنایا۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا کرے۔ آمین۔
@HammadHassan30 کیوں عمران آسمان سے اترا ہوا فرشتہ ہے کیا؟ کیا اسی طرح کی خواہشات آپ نے تب بھی کی تھیں جب نواز شریف ، شہباز شریف ، مریم سمیت پوری ن لیگ جیل میں تھی؟ اپنا وار اپنے پاس رکھیں بلکہ اپنا وار اپنے منہ پہ کریں ۔ عمران اس نظام کا سب سے بڑا بینیفشری رہا ہے ۔ اسی کا پھیلایا گند ہے یہ سب ۔
پہلے بچے کہتے تھے ہم بڑے ہو کر فوجی ، وکیل ، ڈاکٹر ، انجینئر بنوں گا ۔ اب کہا کریں گے کہ ہم بڑے ہو کر محسن نقوی بنیں گے ۔ اور ویسے بھی کون پاگل ہوگا جو محسن نقوی نہیں بننا چاہے گا ۔
ماشاء اللہ ہمارے دوست محسن نقوی کا کتنا رعب اور دبدبہ ہے کہ وزیراعظم سے وزیراعلی پنجاب، پچاس ساٹھ وزیروں/مشیروں سے ڈی جی تک کوئی بھی بات نہیں کرنا چاہتا۔ خواجہ آصف نے علیم خان تک کو تو رگڑ دیا لیکن نقوی صاحب پر ان کے بھی پر جلتے ہیں۔ شالا کسی حاسد دی بدنظری نہ لگے۔