اب پاؤں کھڑاؤں دھول بھری
اور جسم پہ جوگ کا چولا ہے
سب سنگھی ساتھی بھید بھرے
کوی ماشہ ہے کوی تولہ ہے
اس تاک میں وہ اس دھاک میں یہ
ہر روز ٹھگوں کا ٹولا ہے
اب گھاٹ نہ گھر دیوار نہ در
اب پاس رہا ہے کیا بابا
بس تن کی گھٹڑی باقی ہے
ہم بستی چھوڑے جاتے ہیں
تو اپنا قرض چکا بابا
🍫کھالیں
یہ فالو بیک لے کے ان فالو کرنے والے حضرات
ہم جیسے معصوم لوگوں کو بھی نہں بخشتے یہ اٹییٹوڈ
کہں اور دکھاییں تو زیادہ بہتر ہو ہم تو چکنے گھڑے
ہیں کسی کی کوی بڑائ ہمیں مرعوب بھی نہں کر تی
(ایک عمومی مسیج مماثلت اتفاق ہو سکتا ہے)🖤
تمارا نام لکھنے کی اجازت چھن گئی جب سے
کوئ بھی لفظ لکھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
ہر اک مفلس کے ماتھے پر الم کی داستانیں ہیں
کوئ چہرہ بھی پڑھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
سمندر میں اترتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
تری آنکھوں کو پڑھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
چاے🫶☕️