Iran's position is being misrepresented by U.S. media.
We are deeply grateful to Pakistan for its efforts and have never refused to go to Islamabad. What we care about are the terms of a conclusive and lasting END to the illegal war that is imposed on us.
پاکستان زنده باد
مجھے الفاظ نہیں مل رہے کہ میں اُن پُرامن احتجاجی مظاہروں پر ہونے والے وحشیانہ کریک ڈاؤن کی مذمت کر سکوں جو ملک بھر میں امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف غیرقانونی جارحیت کے خلاف منعقد کیے گئے۔ اس جارحیت کے نتیجے میں رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ خامنہ ای رحمتہ اللہ علیہ شہید ہوئے، جو صرف ایران کے سپریم لیڈر ہی نہیں بلکہ پاکستان سمیت دنیا بھر کے شیعہ مسلمانوں کے مرجعِ تقلید بھی تھے۔
کراچی میں 18 افراد شہید اور 40 سے زائد زخمی ہوئے۔ اسلام آباد میں چار افراد جان کی بازی ہار گئے اور درجنوں زخمی ہوئے۔ سکردو اور گلگت میں چھ، چھ افراد شہید ہوئے جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔ لاہور میں بھی کریک ڈاؤن کے دوران درجنوں افراد زخمی ہوئے۔
کراچی قونصلیٹ کے باہر نہتے مظاہرین پر امریکی میرین کور کے اہلکاروں کی فائرنگ کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی جاتی ہے۔ اسی طرح اسلام آباد، گلگت اور سکردو میں مقامی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے معصوم مظاہرین پر فائرنگ بھی قابلِ مذمت ہے۔
شہریوں کے خلاف براہِ راست گولیوں کا استعمال کسی بھی سکیورٹی نظریے کے تحت جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ سفارتی مقامات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکتا ہے، مگر تحفظ کا مطلب غیرمتناسب اور حد سے بڑھی ہوئی طاقت کا استعمال ہرگز نہیں۔ ایسے نہایت حساس اور جذباتی ماحول میں اگر ریاستی ادارے ضبطِ نفس، بردباری اور حکمتِ عملی کا مظاہرہ کرنے کے بجائے طاقت کا بے جا اور مہلک استعمال کریں تو اس کے نتیجے میں نہ صرف عوامی اشتعال میں شدت آتی ہے بلکہ امن و امان کی صورتحال مزید خراب ہو جاتی ہے، ریاستی اداروں پر عوام کا اعتماد متزلزل ہوتا ہے اور ریاست و شہریوں کے درمیان خلیج خطرناک حد تک وسیع ہو جاتی ہے۔
ریاست اختلافِ رائے کو اس انداز میں نہیں سنبھالتی۔ جب غم و سوگ فرقہ وارانہ حدود سے بالاتر ہو کر شیعہ اور سنی شہریوں کو یکجا کر دے، تو اس کا جواب گولیوں سے نہیں دیا جا سکتا،الا یہ کہ اس ظلم کا مرتکب صہیونی قوتوں کے ایجنڈے پر کام کر رہا ہو۔
پُرامن احتجاج ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ اس کے جواب میں حد سے زیادہ طاقت کا استعمال ضبط و تحمل کی ناکامی اور انسانی جان کی بے قدری کی عکاسی کرتا ہے۔ میں ان واقعات کی فوری، آزادانہ اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتا ہوں۔ مہلک طاقت کے استعمال کا حکم دینے اور اس پر عمل درآمد کرنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور انہیں قرار واقعی سزا دی جائے۔
حکومت کو یاد رکھنا چاہیے کہ ظلم و جبر عوامی غم کو خاموش نہیں کر سکتا، بلکہ یہ درد، اشتعال اور تقسیم کو مزید گہرا کرتا ہے۔