Imran Khan has been kept in solitary confinement for six months under brutal conditions, while Bushra Bibi is being held the same way. Their freedom is being deliberately blocked by the Chief Justice of the Islamabad High Court, who refuses to fix their bail hearings.
Imran Khan has made it clear that the judiciary is no longer independent, it is acting like a tool of the government. Judges assigned to his cases are not delivering justice; they are ensuring hearings never happen. The reality is simple: the moment this case is heard, its weak and baseless nature will be exposed, and bail will become unavoidable. That is exactly why it is being stalled. Imran Khan and Bushra Bibi continued imprisonment is due to Judge Dogar, who is openly facilitating a government that came to power by stealing Imran Khan’s mandate.
Through Salman Safdar, Imran Khan has sent a message, his wife is being pushed to the edge by prolonged isolation. He has said he can endure this ظلم himself, but she is being broken to force him into submission. The pressure is deliberate, calculated, and inhumane. He said clearly “no deal, no surrender! It is liberty or death.”
ایمرجنسی الرٹ 🚨
بہنیں بار بار قوم کو وارننگ دے رہی ہے کہ یہ لوگ آپ کے لیڈر عمران خان کو قتل کر دینگے، پہلے جب کوئی ایسی خبر آتی تھی تو سوشل میڈیا زمین آسمان ایک کر دیتا تھا
لیکن بدقسمتی سے اس وقت مکمل خاموشی ہیں
My father, Imran Khan, has now spent over 900 days in a death cell with no family visits and no access to his personal doctors. Credible reports confirm he has been diagnosed with central retinal vein occlusion, a dangerous blockage that can lead to permanent vision loss if not treated through urgent medical intervention in a proper hospital.
Yet authorities continue to block his treatment and deny him the doctors he trusts. I am even denied the right to speak to him. This is not governance. This is authoritarian cruelty.
I call on every defender of human rights to act before it is too late. The world must see that in Pakistan today, democracy is hollow and basic human rights are being crushed.
”بہت پریشانی ہے بہت تشویش ہے یہ لوگ ہمارے ساتھ بہت ظلم کررہے ہیں حالانکہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ آپ کی ملاقات کروائی جائے گی لیکن افسوس یہاں عدالتوں کی کوئی نہیں سن رہا۔ عید کے بعد پارٹی اور وزیراعلی سہیل آفریدی نے تحریک شروع کرنے کا کہا ہے انشااللہ اس کا نتیجہ نکلے گا۔ پانچویں عید ہے جو ہم بھائی کے بغیر گزار رہے ہیں عیدیں تو ہوتی رہتی ہیں اصل مسئلہ عمران خان کی صحت کا ہے“۔ @Noreen_KhanPK
#ImranKhanMedicallyHostage
"خیبرپختونخوا کے علاقوں میں ڈرون حملے اور معصوم جانوں کا ضیاع انتہائی افسوسناک ہے۔ میں نے پاکستان میں امریکی ڈرون حملوں کے خلاف دنیا بھر میں احتجاج اور مارچ کیے اس معاملے پر میرا موقف دنیا کے سامنے ہے۔ بے گناہوں کا جب بھی قتل ہوتا ہے اس سے دہشتگردی بڑھتی ہے۔ ڈرون حملوں کے ذمہ داروں کے خلاف خیبرپختونخوا کی حکومت ایف آئی آرز درج کروائے" @ImranKhanPTI
#OnlyKhanSaidAbsolutelyNot
جب آپ نے ایک بار یہ بات کی تو یہ معمول کی بات اور آپ کا حق تھا۔ہر روز اس طرح کی بات کرنے کا مطلب ہے کہ آپ کسی کے حکم پر یہ بات کرتے ہیں۔آپ کی کل توانائی ایک قیدی سے اس استفسار پر ہے۔آپ کو اسٹیبلشمنٹ کا ٹاوٹ اور چابی والا بندر کہنا بالکل جائز ہے۔
جب عمران خان کی واضح ہدایات موجود ہوں تو وہی پالیسی ہے اس پر عملدرآمد سب پر لازم ہے۔ عمران خان کے ہدایات کی موجودگی میں کسی کے بیان کی کیا ضرورت باقی رہ جاتی ہے؟ اور جب خان کی ہدایات سے روگردانی ہوسکتی ہے تو میری کیا حیثیت؟
صوبائی قیادت سے لے کر مرکزی قیادت تک، جب جب، جس کو جو ذمہ داری سونپی گئی، وہ جس بھی گروپ کا حصہ تصور ہوتا تھا، ہر ایک کو مکمل خلوص اور دیانتداری سے سپورٹ کیا۔ منزلز بل، بجٹ سے لے کر، احتجاجی تحریک تک ہر موضوع، لیڈر، بی بی اور دیگر اسیران کے لیے آواز اٹھانے، پارٹی، حکومت سمیت ہر متعلقہ مسئلے پر اپنی رائے، لائحہ عمل، احتجاجی تحریک کے لیے پوائنٹ ٹو پوائنٹ پلان اور اپنی ہر طرح سے سپورٹ کی بھی یقین دہانی کرائی۔ ہر ایک کے پاس اپنے فیصلوں کی توجیحات ہیں۔ آپ کریں سوال ان سے، آپ کا حق بنتا ہے۔ میری بسات میں جو ہے، جتنا ہے، جتنا تھا اس کی تفصیل بارہا بیان کرچکا ہوں۔
اور جن کی یہ سوچ ہے کہ میں کسی گھناؤنی امید پہ چھپا بیٹھا ہوں؛ ٹاؤٹ صحافیوں کے بیانات گواہی ہیں کہ ان کے مالکوں کو کیا درکار ہے؛ میرے کاندھے پہ بوجھ صرف میرے سر کا نہیں ہے۔
اس وقت پاکستانی قوم کے 90 فیصد کے قریب لوگ عمران خان کے ساتھ ہیں، ایسی صورتحال میں کوئی عمران خان کو سیاست سے مائنس کرنے کا سوچ بھی کیسے سکتا ہے؟
#MinusKhanAbsolutelyNot