ڈان کی کالم نگار عارفہ نور اپنے 30 دسمبر کے کالم میں لکھتی ہیں کہ 2025 کے اختتام پر شور شرابے میں ایک اہم بیان نظر انداز ہو گیا جس میں اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل کے قومی کوآرڈینیٹر لیفٹیننٹ جنرل سرفراز احمد نے کہا کہ پاکستان کے پاس کوئی واضح گروتھ پلان نہیں اور مالیاتی صورتحال بگڑ چکی ہے، جہاں حکومت صرف ٹیکس بڑھانے تک محدود ہے جو سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ حکومت اور وزیراعظم معاشی استحکام کے دعوے کرتے رہے، مگر اسلام آباد کے سیاسی حلقوں میں این ایف سی میں ردوبدل، آئینی ترامیم اور معیشت پر سنجیدہ خدشات کی چہ مگوئیاں جاری رہیں جنہیں بلاول بھٹو زرداری کی تقریر نے بھی تقویت دی جس میں وفاقی مالی بوجھ بانٹنے کی پیشکش کی گئی۔ کالم کے مطابق اقتدار میں موجود طبقہ عام شہریوں کو ریلیف دینے کے دباؤ میں ہے کیونکہ آزاد اور منصفانہ انتخابات کے بغیر عوامی قبولیت حاصل کرنے کا یہی واحد راستہ رہ گیا ہے، اسی تناظر میں وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے اپوزیشن سے مذاکرات کی پیشکش کو بھی معیشت سے جوڑا جا رہا ہے۔ عارفہ نور لکھتی ہیں کہ حالیہ آئینی تبدیلیوں کے بعد طاقت چند ہاتھوں میں مرتکز ہو چکی ہے اور عدلیہ، میڈیا اور اپوزیشن کی مزاحمت کو قانون سازی اور طاقت کے ذریعے دبایا گیا، جس کے بعد اب حکمرانوں کے پاس عوامی فلاح فراہم نہ کرنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہا۔ آخر میں کالم اس تاثر کے ساتھ ختم ہوتا ہے کہ یا تو کابینہ میں معاشی ٹیم سے متعلق تبدیلیاں ہوں گی یا پورا سیٹ اپ قربانی کا بکرا بن سکتا ہے کیونکہ معیشت بالآخر اقتدار میں موجود کچھ چہروں سے جواب ضرور طلب کرے گی۔
https://t.co/GIhfoVbVnz
لاہور ۔ سرکلر روڈ کی دکانیں مسمار کر دی جائیں گی ۔ نوٹیفیکیشن جاری۔ رجسٹریاں کینسل۔ انتقالات معطل ۔
ہور کج حکم ساڈے لائق ۔ پنجاب حکومت
یاد رہے، بہت سی دکانوں کی الاٹمنٹ خواجہ احمد حسان کے میئر لاہور بننے کے وقت کی گئیں اور شہباز شریف کی وزارت اعلی نے اسکی توثیق کی، وزیراعلی نواز شریف کے دور وزیر اعلی بننے کے بعد لاہور کے تاریخی علاقوں شاہ عالمی مارکیٹ، گوالمنڈی، اکبری منڈی ، و دیگر کے ارد گرد بنی سرکلر روڈ نے تجارتی حب کی شکل اختیار کی اور انکی وزارت اعلیٰ کے دور میں دکانوں کو باضابطہ انتقالات کے اجازت نامے بھی دیئے گئے۔ 1988 میں نواز شریف اپنا الیکشن اسی حلقہ سے جیتے ۔ نواز شریف، پھر شہباز شریف، اسحاق ڈار، خواجہ سعد رفیق اور پھر دوران خواجہ احمد حسان کے دور میئر شپ لاہور ان نوازشات کا برملا اظہار بھی کرتے آئے ہیں اور متعدد بیانات ریکارڈ پر بھی ہیں۔ ن لیگ کی سیاست کا گڑھ سمجھا جانے والا علاقہ کم و بیش اسی سرکلر روڈ کے ارد گرد موجود ہے۔ متعدد سالوں میں یہ معاملہ سیٹل کر دیا گیا تھا، لیکن مریم نواز شریف کی حکومت جو کچھ تاجروں کے ساتھ کر رہی ہے، اور بالخصوص لاہور کے تاجروں کے ساتھ جو کچھ کر رہی ہے یقینا”ایک واری فیر “ کا نعرہ لگانے والوں کو سمجھ آ چکی ہو گی کہ بابا معروف شاہ نے کیوں کہا تھا کہ”سانوں معاف رلھو!“
لیکن اہم ترین سوال جسکا جواب شاید کبھی نہیں دیا جائے گا کہ جس والڈ سٹی لاہور کی بحالی اور میگا پراجیکٹس کے نام پر دکانداروں کے کاروبار تجاوزات قرار دیئے جا رہے ہیں انہیں تجاوزات بنایا کس نے؟ اور اگر یہ تجاوزات ہی ہیں اور عوام ناجائز قابض تو ناجائز قبضے کس کی پرچی پر کیوں ہوتے رہے؟
کیا انکے خلاف کاروائ ہو گی؟
کئ ایک پراپرٹیز کے قبضوں کے لیئے تو قتل تک کروائے گئے؟
بھٹو دور کے ایک قانون کے مطابق جو شخص چالیس سال تک کسی جگہ کاروبار کرتا رہے جگہ اسکی ملکیت ہو جاتی ہے، کا اطلاق ختم سمجھا جائے؟
پٹواریوں کے پاس درج انتقالات معطل کر کے جائز مالکان کو قبضہ مافیا گردان دیا گیا، زمینیں / کاروبار کئ ہاتھ آگے فروخت ہو چکے، جنہوں نے زر کثیر خرچ کر کے کاروبار بنایا انہیں راتوں رات زمین دوز کر دیا گیا اور کوئ معاوضہ تک ادا نہیں کیا گیا۔ اس ظلم کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا ظالم سزا پائے گا؟
26وی آئینی ترمیم میں ووٹ دینے کے ثمرات.
مبارک زیب گزشتہ سال باجوڑ سے ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوگئے۔مالی مشکلات کی وجہ سے الیکشن کے پوسٹرز تک کا خرچہ لوگوں نے اُٹھایا مگر ایک سال میں طرز زندگی ہی بدل گئی۔قبائلی امور کے مشیر بننے کی واحد صلاحیت 26 وی آئینی ترمیم میں ووٹ دینا تھا بس۔
Inzamam Ul Haq slams Indian Premier League 🇵🇰🇮🇳🤯
“Every board should stop sending their players in the IPL. It’s time to take a stand against IPL”
Can this actually happen? 🙏🏽