اگر آپ آواز نہی اٹھائیں گے تو یقین کیجئے آپ کے جیب سے گے پیسوں سے حکمران یخ بستہ کمروں میں سوتے رہیں گے
آپ مہنگے بل دے کر بھی بغیر پنکھا چلائے رو رہے ہوں گے
#NoMoreSlabLooting
⚡ایک یہودی عورت موبائل سے ویڈیو بنا رہی تھی کہ ایک ایرانی میزائل اس کے بالکل سامنے والی بلڈنگ پر آ لگا🚀🔥
بنکروں میں رہ کر سورج کو دیکھنے کو ترسو گے والا ایرانی وزیر خارجہ بیان یاد آ گیا 🔥
ڈرون حملوں کا مقصد یہ تھا کہ ایک بڑے حملے سے پہلے پتہ چلایا جائے کہ ایئر ڈیفنس سسٹم کہاں سے آپریٹ ہو رہا ہے پاکستان کی حکمت عملی انتہائی کامیاب رہی پاکستان نے ان ڈرونز کو شارٹ رینج سسٹم سے ٹارگٹ کیا تاکہ ہمارے لانگ رینج میزائل سسٹم کی لوکیشن ٹریس نہ ہو سکے ! حامد میر ۔۔
پیارے ہم وطنو🇵🇰
ایک نگرانی کرنے والا ڈرون صرف 500 سے 5000 ڈالر میں آ سکتا ہے،
جبکہ اسے گرانے کے لیے استعمال ہونے والا انٹرسیپٹر میزائل کروڑوں روپے کا ہوتا ہے۔
اگر بھارت درجنوں یا سینکڑوں کی تعداد میں ڈرون پاکستان کی طرف بھیج رہا ہے، تو اس کے مقاصد بالکل واضح ہیں:
1. پاکستانی ایئر ڈیفنس سسٹمز کا پتا لگانا — کیونکہ جب انٹرسیپٹر میزائل فائر ہوتا ہے، تو اس جگہ کا مقام ظاہر ہو جاتا ہے جہاں سے اسے داغا گیا۔
2. ان سستے ڈرونز کو بطور فریب (decoy) استعمال کرنا تاکہ مہنگے اور محدود تعداد میں موجود میزائل ضائع ہو جائیں — اور جب اصل حملہ ہو، تو ہمارے پاس بچاؤ کے لیے میزائل نہ ہوں۔
3. زیادہ سے زیادہ افراتفری پھیلانا — تاکہ عوام سوال اٹھائیں کہ ہمارا دفاعی نظام کہاں ہے اور کیا کر رہا ہے۔
لہٰذا... عقل سے کام لو!
یہ مت سوچو کہ یہ ڈرون سرحد کے اتنے اندر تک کیسے پہنچ رہے ہیں۔ یاد رکھو: ایسے سستے ڈرونز کو کم ٹیکنالوجی والے ہتھیاروں سے گرایا جاتا ہے، جیسے اینٹی ایئرکرافٹ گنز، عام بندوقیں، اور (MANPADS اور ان سب کی رینج محدود ہوتی ہے۔ اس لیے اکثر فورسز کو مجبوری کے تحت ڈرون کو اتنا قریب آنے دینا پڑتا ہے کہ وہ ان ہتھیاروں کی رینج میں آ جائے، تب جا کر کارروائی کی جاتی ہے۔
مزید یہ کہ... اگر آپ کو دھماکوں کی آواز سنائی دے، تو گھبرائیں نہیں۔ ہر دھماکہ حملہ نہیں ہوتا — آج کے زیادہ تر دھماکے ڈرونز کو روکنے کی کارروائی کے دوران ہوئے۔
اور... اگر شدید فائرنگ کی آواز آئے تو اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ اینٹی ایئرکرافٹ گنز یا دوسرے ہتھیار استعمال کیے جا رہے ہیں تاکہ ڈرونز کو گرایا جا سکے۔
لہٰذا — افراتفری سے بچیں۔
اور — بالکل بھی ان واقعات کی تصاویر یا ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر نہ کریں، کیونکہ ایسا کرنا دشمن کی مدد کے مترادف ہو گا۔