kuch Shor aise hote hai, jo dunya ke Shor mein dab jate hain,lakin kuch bhi aise hote hain jinko lakh koshish karo wo khatm nahi hota, mein wahi Shor hon
Shoaib
لپٹ کر وقت کو کسی کاغذ کی طرح
اس کی کشتی بنا کر دریا میں
اس میں بادباں لگا دونگا
اور اس بادبان پہ ترا نام لکھ کر
لہروں چھوڑ آؤنگا
کیا میں تجھ کو بھول پاؤنگا
#شور#اردو
عبث وجود کا دکھ ، تنگئ حیات کا دکھ
کہ دل نے پالا ہوا ہے ہر ایک ذات کا دکھ
تلاشِ جنت و دوزخ میں رائیگاں ، انساں
زمیں پہ روز مناتا ہے کائنات کا دکھ
کئی جھمیلوں میں الجھی سی بدمزہ چائے
اُداس میز پہ دفتر کے کاغذات کا دکھ
تمام دن کی مصیبت تو بانٹ لی ہم نے
کبھی کہا ہی نہیں اپنی اپنی رات کا دکھ
گئے دنوں کا کوئی خواب دفن ہے شاید
کہ اب بھی آنکھ سے رِستا ہے باقیات کا دکھ
میں آل سے ہوں شہ کربلا کی سو مجھ کو
چناب سے بھی ملا ہے وہی فرات کا دکھ
نہ جانے مالکِ ''کُن'' ، کس طرح نبھاتا ہے
یہ دسترس کی سہولت ، یہ ممکنات کا دکھ
صائمہ آفتاب
پیر نصیر الدین نصیرؒ
دین سے دور، نہ مذہب سے الگ بیٹھا ہوں
تیری دہلیز پہ ہوں، سب سے الگ بیٹھا ہوں
ڈھنگ کی بات کہے کوئی، تو بولوں میں بھی
مطلبی ہوں، کسی مطلب سے الگ بیٹھا ہوں
بزمِ احباب میں حاصل نہ ہوا چین مجھے
مطمئن دل ہے بہت، جب سے الگ بیٹھا ہوں
غیر سے دور، مگر اُس کی نگاہوں کے قریں
محفلِ یار میں اس ڈھب سے الگ بیٹھا ہوں
یہی مسلک ہے مرا اور یہی میرا مقام
آج تک خواہشِ منصب سے الگ بیٹھا ہوں
عمر کرتا ہوں بسر گوشہ ء تنہائی میں
جب سے وہ روٹھ گئے، تب سے الگ بیٹھا ہوں
میرا انداز نصیر اہلِ جہاں سے ہے جدا
سب میں شامل ہوں، مگر سب سے الگ بیٹھا ہوں
"اگر تم ایک ہی لطیفے پر تین بار ہنس نہیں سکتے، تو پھر بار بار ایک ہی درد اور غم پر کیوں روتے ہو؟"
"زندگی میں کچھ بھی ہمیشہ کے لیے نہیں رہتا، حتیٰ کہ ہمارے مسائل بھی نہیں۔"
چارلی چیپلن
معروف روسی مصنف و ناول نگار “لیو ٹالسٹائی” نے ایک دن غلطی سے کسی کے پاؤں پر پاؤں رکھ دیا ۔
اُس شخص نے خوب گالیاں دیں،
جب وہ خاموش ہوا ،
تو ٹالسٹائی نے احتراما سر سے کیپ اتار کر معذرت کی اور کہا کہ میں ٹالسٹائی ہوں۔
وہ شخص شرمندہ ہوا اورکہا کہ
کاش آپ پہلے اپنا تعارف کرواتے۔
ٹالسٹائی نے کہا کہ
آپ اپنا تعارف کروانے میں بہت مصروف تھے اس لئے مجھے موقع ہی نہیں ملا۔۔۔۔۔۔