غریب کی ایک نشانی یہ بھی ھے کہ اپنی سہاگ رات میں بیگم سے پہلی بات کچھ ایسے کرتا ھے؛
ایک ماں ھے، ایک باپ ھے، تین بہنیں، چار بھائی، 3 بھابھیاں، 23 بھانجے بھانجیاں، بس انکا خیال رکھنا اور مجھے ان میں سے کسی سے بھی تمہاری شکایت نہ ملے۔
یوسفی صاحب نے فرمایا کہ آپ نے اس گجراتی سیٹھ کو گاندھی گارڈن کے گرد اپنی گاڑی میں سیر کرتے دیکھا ہوگا ۔ جو کہتا تھا کہ ڈاکٹر کے کہنے پر سیر کو آتا ہوں اور اس بیماری پر اتنا خرچہ کر چکا ہوں کہ اب اگر کسی اور بیماری میں مرنا پڑا تو خدئی قسم خودکشی کرلوں گا۔
مرحوم خصوصی
برصغیر کے بعض پسماندہ علاقوں میں اب تک یہ دستور چلا آرہا ہے کہ برادری کی تمام بوڑھیاں کسی کے ہاں غمی میں شریک ہوتی ہیں تو لمبا سے گھونگھٹ کاڑھ کے بیٹھ جاتی ہیں اور اپنے اپنے پیاروں کے نام لے کر بین کرتی دھاڑتی ہیں۔ سب اپنے اپنے مردوں کی خوبیاں بیان کرکے خشک آنسوؤں سے روتی ہیں۔ اگر کوئی ناواقف حال پہنچ جائے تو وہ ایک گھنٹے بین سن کر بھی یہ فیصلہ نہیں کر سکتا کہ اس مجلس ِآہ و بکاہ میں دو ڈھائی سو مردوں میں آج کا مرحومِ خصوصی کون ہے۔
آبِ گم سے اقتباس۔۔یوسفیات
ہم من حیث القوم اخلاقی لحاظ سے دیوالیہ ہو چکے ہیں !!!
سوشل میڈیا نے ظاہری چمک کو اتنا تابناک کر دیا ہے کت بغیر کسی اخلاقی اور معاشرتی حدود قیود میں ہر ایک پیسہ کمانے کے چکر میں گھن چکر بنا ہوا ہے!!!
ملاوٹ، دھوکا دہی،فراڈ اب تو برا سمجھا ہی نہیں جاتا!
انسان ہر ایسی کوئی نہ کوئی رات ضرور گزرتی ہے جوفرطِ جذبات کی وجہ سے پوری عمر پر حاوی ہوتی ہے۔
——————————-
تمضي على الانسان ليلة ..
وكـ أنها تحمل معها
عمراً بـ أكمله ..
من فرط مايشعر ..
میں نے ایک ہمسفر دوست کو کہا جتنی چھوٹی چھوٹی آبشاروں پر آپ لوگوں نے ٹکٹ لگا رکھا ہے اتنی آبشاروں کو ہم کولا کی بوتلیں اور تربوز ٹھنڈے کرنے کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔ان ویڈیوز میں ایک پاکستان کی دوسری روزن لائی سویٹزرلیند کی ہے۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سے عوام کو مہنگائی سے بہت حد تک ریلیف
ملے گا،چونکہ ٹرانسپورٹ سے لیکر روزمرہ اشیا کی قیمتوں میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے کی وجہ سے اضافہ کیا گیا تھا وہ اضافہ بھی اب ختم کیا جائے ناکہ جس چیز کی قیمت بڑھ گئی اس کو وھیں پر رھنے دیا جائے۔
UK گرومنگ کیس کی جڑیں پھرولیں تو نیچے ہمارے روایتی کلچر کی وہ گندی کھاد ہے جو بچپن سے ہماری نسل کی ذہن سازی میں استعمال ہوتی ہے۔ Minors میں Consent کا concept سرے سے موجود ہی نہیں۔ بچے کے ساتھ جنسی جرم ہونے پر شرمندگی اور بدنامی بھی اسہی کے سَر لاد دی جاتی ہے۔