ڈپٹی کمشنر سوات کی زیر سایہ محکمہ ریونیو کے دفتر میں زمینوں کے انتقالات میں سرکاری ملازمین رشوت لینے میں کچھ زیادہ ماہر نہیں۔ اس لیے نئے سب رجسٹرار نے زیادہ سے زیادہ رشوت وصول کرنے کے لیے اپنے ماموں (جو سرکاری ملازم نہیں) ساتھ لاکر دفتر میں بٹھایا ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے ویڈیو ملاحظہ ہو۔
Deputy Commissioner Swat
@chief secretary kpk
CM KPK
CM House KPK
وہ بھی کیا دن تھے جب خان صاحب احتجاج کے خلاف تھے۔ اصل بات یہی ہے کہ وہ اور اُن کے حامی نہ فوجی مداخلت کے خلاف ہیں، نہ عسکری عدالتوں کے، نہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے۔ وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ مداخلت ان کے حق میں ہو اور فوجی عدالتوں میں مقدمات مخالفین کے خلاف چلیں۔
وہ رحمت اللعالمین نہیں پڑھ سکا
اس نے خانہ کعبہ میں جلوس نکالنے اور روضہ رسول کی بے حرمتی کا حکم دیا۔ اس نے کئی بار انبیاء کرام کے بارے میں توہین آمیز گفتگو کی۔ اس نے ھر مخالف کی ماں بہن تو کیا کہ اموات تک کو بھی نہیں بخشا۔ اس نے سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں بار یوٹرن لیا۔ اس نے اپنی بیویوں اور اولاد تک کو چھوڑا۔ وہ سیکس اور جنسیت کی ایک علامت بن گیا۔ ٹیریان سے عالیہ ملک تک اس کے نام سے غلاظت کی طرح جڑے ہوئے ہیں۔ اپنے پارٹی رہنماؤں سے کارکنوں تک کی بے عزتی اور توہین آمیز سلوک کرتا رہا۔ ھر مخالف کو دھمکیاں دیتا رہا۔ تاریخ کا ناکام ترین حکمران بھی رہا۔ اس پر اس کی بیوی پر چوری اور کرپشن کے بد ترین الزامات بھی ہیں۔ خود لگژری لائف گزارتا اور غریبوں کا ہمدرد بنتا رہا۔ جھوٹ احسان فراموشی اور تکبر اس کی خمیر میں شامل ھے۔ ۔۔۔
لیکن اگر اب بھی کوئی ان حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے اسے آئیڈیل مان رہا ھے اور اسے اس ملک پر مسلط کرنا چاہتا ھے۔
تو اس شجص کا عقیدہ عقل اور حب الوطنی بھی ایسا ہی ھے جیسا اس کے لیڈر کا ھے !
سو ان کی تعداد سے زیادہ اہم بات یہ ھے کہ ان لوگوں کا معیار کیا ھے جن کا رہنما یہ شخص ھے؟
خبر ہے، جھوٹ ہے
تحریر/ٓآصف محمود
خبر تھی لاہور کے ایک نجی کالج میں ریپ ہواہے۔ احتجاج ہوا، املاک کو آگ لگادی گئی۔ ملک ہیجان اور اضطراب سے دوچار ہو گیا۔ بچیوں کی تعلیم کو لاحق سماجی خطرات مزید بڑھ گئے۔ بعد میں معلوم ہوا، سب جھوٹ ہوا، ایسا کچھ نہیں ہوا۔
خبر تھی ڈی چوک میں 278 لوگ مار دیے گئے۔ کسی عامی کی خبر نہیں تھی، سابق گورنر نے یہ خبر دی۔ بعد میں پارٹی کے چیئر مین نے کہا کہ تعداد تو بارہ ہے باقی مبالغہ اور جھوٹ ہے اور ایسے لوگوں سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔اس پر تازہ ارشاد ہوا کہ درجنوں میں سینکڑوں میں بھی آ جاتے ہیں۔
خبر تھی عمران خان صاحب اڈیالہ میں نہیں کہیں اور ہیں، اور ان کو کوئی ایسی چیز کھلائی جا رہی ہے جس سے اس کی ذہنی کیفیت متاثر ہو سکتی ہے۔ خبر سابق ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے جاری فرمائی۔ اگلے ہی دن ان صحافیوں نے اس کی تردید کر دی جو اڈیالہ جیل میں عمران خان سے مل آئے تھے۔
ایک ویڈیو شیئر کی گئی بتایا گیا تحریک انصاف کے کارکنان پر اتنا تشدد ہوا کہ دیکھیے ڈاکٹرز بھی اس پر چیخ رہے ہیں۔ ویڈیو دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہو گئی۔ بعد میں معلوم ہوا ویڈیو تین سال پرانی تھی اور ڈاکٹر تحریک لبیک پر ہونے والے اس تشدد پر چیخ رہے تھے جو تحریک انصاف کی حکومت میں ہوا تھا۔
ہمارے پیارے لالہ عطا اللہ خان عیسی خیلوی کی ایک ویڈیو شیئر ہوئی اورا س سے تاثر دیا گیا کہ لالہ کو ایک بار پھر انقلاب آیا ہوا ہے اور لالہ کہہ رہا ہے نومبر کے احتجاج کے لیے نکلو، ایسا موقع پھر نہ آوے گا۔حیرت ہوئی کہ ہمارا لالہ ہمارا لالہ ابھی کچھ دن پہلے تو کچھ اور کہہ رہا تھا، اب کیا ایک بار پھر انقلابی بن چکا ہے؟ لالے کو کال ملائی مگر نمبر بند تھا۔ ویڈیو کسی عام آدمی نے شیئر نہیں کہ تھی یہ آئین کے آرٹیکل باسٹھ پر پوا اترنے والے میرے بھائی جمشید دستی نے شیئر کی تھی۔ بعد میں معلوم ہوا ویڈیو جعلی تھی۔ لالے نے ایسی کوئی تازہ ویڈیو جاری ہی نہیں کی تھی۔جاننے والے جانتے ہیں لالہ اس انقلاب سے فاصلے اختیار کر چکا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک ویڈیو پھیلائی گئی۔ وہ کہہ رہے کہ میرے پاکستانی امریکی دوستو اگر میں الیکشن جیت گیا تو میں عمران خان کو جیل سے رہا کروانے کی پوری کوشش کروں گا کیونکہ وہ میرے دوست ہیں۔ اس ویڈیو کو 24 لاکھ لوگوں نے دیکھا اور رجز پڑھے۔ بعد میں معلوم ہواویڈیو جعلی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی یہ ویڈیو سات سال پرانی ہے اور وہ عمران خان کے بارے میں نہیں بلکہ ایف بی آئی کے سابق سربراہ جیم کومی کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔
خبر دی گئی کہ جس بیکری کے ملازم نے سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسی سے بد تمیزی کی تھی، اس بیکری کو سیل کر دیا گیا ہے۔ خبر وائرل ہو گئی۔ ملک میں تماشا لگ۔ خبر ایک ٹی وی چینل کے رپورٹر نے شیئر کی تھی، پس ثابت ہوا کہ خبر درست ہے۔ بعد میں معلوم ہوا بد تمیزی کا واقعہ 25 ستمبر کا ہے جب کہ بیکری سیل ہونے کا واقعہ اس سے دو ہفتے پہلے یعنی 11 ستمبر کا ہے۔
خبر چلی کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے وہ عمران خان کے پاس جا کر معافی مانگیں گے۔ خبر چونکہ ایک نیوز چینل پر چلی اس لیے ثابت ہوا کہ سچ ہے۔ ساتھ ہی رجز پڑھنے شروع کر دیے گئے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ وزیر اعظم کے سارے خطاب میں ایسی کوئی بات نہ تھی۔ لیکن جھوٹی خبر لاکھوں لوگوں تک پہنچ چکی تھی۔
خبرچلی کہ کمار سانو بھی انقلابی ہو گئے اور عمران خان کی محبت میں بے اختیار ہو کر انہوں نے کپتان کے لیے گانا گا دیا۔ قوال اور ہمنوا میدان میں آ گئے کہ اب تو کمار سانو بھی بول اٹھا اب تو مان جاؤ وہ جیت چکا ہے۔ ایسا طوفان کھڑا ہوا کہ خوود کمار سانو کو تردید جاری کرنا پڑی کہ ویڈیو جعلی ہے، یہ ایک شرمناک حرکت ہے، یہ مصنوعی ذہانت کا غلط استعمال ہے اور انہوں نے ایسا کوئی گانا نہیں گیا۔ پریس ٹرسٹ آف انڈیا کو بھی باقاعدہ وضاحت جاری کرنا پڑی کہ یہ جھوٹ ہے۔
خبر شیئر ہوئی ایمبولینس میں کفن میں لپٹی لاشیں رکھی ہیں۔ بتایا گیا یہ ڈی چوک کے مقتولین ہیں۔ خبر لاکھوں میں شیئر ہوئی تو معلوم ہوا یہ غزہ کی تصویر ہے۔ وہی غزہ جس پر دو لفظ بولنے کی بھی انہیں توفیق نہیں ہوئی۔ ہاں البتہ و ہاں کے لاشوں پر ہاتھ صاف کرنے کی توفیق انہیں ارزاں نصیب ہوئی ہے۔
تحریک انصاف کے انسٹاگرام پر ایک خبر جاری ہوئی، کارکنان سڑکوں پر ہیں اور لکھا تھا: اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد۔ بعد میں معلوم ہوا تصویر جعلی تھی، اور مصنوعی ذہانت سے اس جعل سازی کو تیار کیا گیا تھا۔
ایک صحافی نے تصویر جاری کی جس میں ڈی چوک اور بلیو ایریا کی سڑک پر دور دور تک خون ہی خون تھا۔ یہ تصویر بھی جعلی تھی۔ جعل سازی مگر عیاں ہو گئی اور لوگوں نے سوال شروع کر دیے کہ بلیو ایریا کی سڑک کے بیچ میں سے تو میٹروٹریک گزرتا ہے وہ کہاں ہے؟
مکمل کالم
👇
جمعیت علماء اسلام کے اسلام آباد دھرنے میں 80 فیصد کےپی کے سے پشتونوں کو لے جایا گیا تھا ، نواز شریف اور مریم نواز کی رہائ کےلئے بھی پشتونخواہ سے پشتونوں کو لےجایا گیا تھا، اور پی ٹی آئی کے انقلاب کےلئے بھی 80 فیصد سے اوپر پشتونخواہ سے پشتونوں کو لے جا رہے ہیں ، 1/2
ایک بات واضح ہوگی پورے پاکستان سے عمران کے لئے صرف اور صرف سابقہ فاٹا کے قبائلی جوان اور افغان مہاجرین چند ہزار کی تعداد میں آئے، یہ پسماندہ، ناخواندہ جااہل ، عقل سے پیدل زومبی پالش کرتے ہیں کباڑ فروخت کرتے ہیں یا مکمل بیروزگار ہے ، انہیں چند روپے دیکر کچھ بھی حاصل کیا جاسکتا ہے
پہلی بات یہ کہ یہ عوام کا احتجاج نہی جسے بظاہر نیوٹرل بننے یوتھیا صحافی پھیلا رہے اگر عوام کا احتجاج ہوتا تو پنڈی اسلام آباد کی تیس لاکھ آبادی سے شروع ہوتا کے پی سے نا آتا
دوسری بات یہ کہ یہ ایک صوبائی حکومت کا وفاق کی حکومت دے مقابلہ تھا صوبائی حکومت نے اپنے سرکاری وسائل اسلحہ اور ہر چیز استعمال کی جبکہ وفاق والی حکومت نے ان کے سامنے نہتے اسلحہ بغیر اہلکار کھڑے کر دییے اور تھوک سے جہاز اڑانے کی کوشش کی
چیزوں کو درست تناظر میں بیان کرنے کی اشد ضرورت ہے
جی یو آئی والے اور اس کا لیڈر مولانا کہتے تھے کہ عمران یہودی ایجنٹ ہے ٹرمپ کیساتھ ملکر اسرائیل کو تسلیم کرنے کی سازش کی،عمران ایک بدبودار غلاظت کا ڈھیر ہے،آج یہ مولوی عمران کے ہمدرد بن گئے منافقت اتنی کہ ایک طرف الزام لگاتے ہیں ہمارا مینڈیٹ چوری ہوا ہے آج کہتے عمران کا چوری ہوا
تحریک انصاف کا صرف ایک ہی ایجنڈا ہے کہ ملک میں بدامنی پھیلائی اور اسے غیر مستحکم کیا جائے، اپنے مقاصد کے حصول کے لیے یہ جماعت کسی حد تک بھی جا سکتی ہے انسانی جان کا ضیاع تو معمولی بات ہے۔
حکومت اور ریاست اپنی رٹ قائم کرے اور اس بار ان سے ایسے نمٹے کہ انکی نسلیں یاد رکھیں۔مذاق بنا رکھا ہر چوتھے مہینے احتجاج دھرنا بدمعاشیاں خون خرابہ۔ کب تک انکا منہ دیکھا جائیگا۔ احتجاج لِِیڈ کرنے والی اور اسکے ساتھ آئے جتھے کی اعلی قسم کی چھترول بھی کی جائے ا