شاید کسی دن
کسی موڑ پر
کوئی آنکھ بغیر سوال کے
اس کی تھکن پڑھ لے
یا شاید یہ بھی نصیب نہ ہو
فی الحال خاموشی ہی اس کی رفیق ہے
اور سانسیں
جو اب بھی اسے زمین سے باندھے ہوئے ہیں۔
یہاں کچھ بھی مکمل نہیں
مگر ابھی کچھ بھی ختم نہیں ہوا
یہ بھی ایک کہانی ہے
جس کا نہ کوئی فیصلہ ہے، نہ انجام
ایک مسافر ہے جو خود ہی اپنا راستہ ہے
کبھی تیز قدموں سے
کبھی تھکے ہوئے سائے کی طرح
اور ہر موڑ پر
اپنے بکھرے ہوئے حصے سمیٹتا جاتا ہے
شاید کل وہ پھر اٹھے
پھر دوڑ پڑے
زندگی کے پیچھے…
یا بس مسکرا کر خاموشی اوڑھ لے
خیالِ خواب ہو کر رہ گیا ہوں
میں کس کی ذہن میں سوچا ہوا ہوں
مجھے اب کیا بہاروں کا دلاسہ
میں اُس کے درد سے مہکا ہوا ہوں
قبر میں نیند سی آنے لگی ہے
ہزاروں سال کا جاگا ہوا ہوں
Yes, there were heavy moments when i got scared but faith stood taller than fears. Because I knew He is Ar-Rahman, and He would carry me through.
HasbunAllahu wa ni’mal wakeel.
(Allah is sufficient for us, and He is the best disposer of affairs)
I too must go to the colony of Ranjha
Would that someone could accompany me!
I fell at their feet, I made many pleas
But in the end, I must travel all alone.
The river is deep, and the raft is old
And lions stand guard at the river crossing.
لَم یَاتِ نَظِیْرُکَ فِیْ نَظَرٍمثلِ تو نہ شُد پیدا جانا
جگ راج کو تاج تورے سرسو ہے تجھ کو شہ دَوسَرا جانا
اَلْبَحْرعَلَا وَالْمَوْجُ طَغٰی مَن بیکس وطوفاں ہوشرُبا
منجدھار میں ہوں بگڑی ہے ہوا موری نیَّا پار لگا جانا