5 رکنی بنچ ہو یا فُل کورٹ،ہمیں اس سےکچھ فرق نہیں پڑتا کیونکہ ہم صرف یہ جانناچاہتےہیں کہ انتخابات آئین میں فراہم کردہ مدت (90روز)کےدوران ہورہے ہیں یا نہیں!میں نےاپنی 2اسمبلیاں تحلیل کرنےسےقبل اپنے چوٹی کے آئینی ماہرین سے مشاورت کی اور ان سب کی متفقہ رائےتھی کہ انتخاب کے
پاکستان کی اساس پر حملہ آور ہے جو آئین و قانون کی حکمرانی پر استوار ہے۔ انتخابات سے اس حد تک خوفزدہ اور اپنےسزایافتہ مجرم قائدین کو بچانےکیلئےاس قدر بے چین ہیں کہ دستور و قانون کی حکمرانی کی آخری علامت تک کو مٹانے پر آمادہ ہیں۔
90روز میں انعقاد کےحوالے سےمتعلقہ آئینی شق کو پھلانگنا ممکن نہیں۔مجرموں کی امپورٹڈسرکار، اسکے سرپرست اور ایک نہایت متنازعہ ا��یکشن کمیشن اب آئین کا کھلا مذاق اڑانےپر اتر آئےہیں۔دستور کے مختلف حصوں/شقوں کو خود کیلئے قابلِ عمل جبکہ دیگر کو ناقابلِ نفاذ قرار دیکر یہ گروہ دراصل