جس طرح جان نکلتی ہے بدن کی زد سے
زندگانی سے مری خود کو وہ یوں کھینچتا ہے
خود ہی ترتیب میں آجاتے ہیں عنصر سارے
وہ فقط ایک صدا ،کن فیکوں کھینچتا ہے
مجھ میں کچھ بھی نہیں رہتا ہے مرا شاہانہ
خود کو جب وہ مری ہستی سے بروں کھینچتا ہے
شاہانہ ناز
جب بھی ملتا ہے سنبھالا مجھے گرتے گرتے
آ کے یکدم کوئی اپنا ہی ستوں کھینچتا ہے
جیسے عفریت مسلط ہو مری رگ رگ پر
اس طرح ہجر رگوں س�� مرا خوں کھینچتا ہے
خود ہی مربوط ہوئے جاتے ہیں الفاظ سبھی
شعر کی اور مجھے ذوق دروں کھینچتا ہے
+👇👇
تیری جانب یہ مرا دل مجھے کیوں کھینچتا ہے
کیسے پاتال میں یہ کرب دروں کھینچتا ہے ؟
اک طرف کھینچتی رہتی ہے مجھے میری خرد
دوسری سمت مجھے میرا جنوں کھینچتا ہے
جب بھی میں عقل کی سننے کی سعی کرتی ہوں
مجھ کو ان مست نگاہوں کا فسوں کھینچتا ہے
+👇👇
ابھی تو چلتے چلتے دیکھ لیتے ھیں خراشوں کو
ابھی کچھ اور زنجیریں ھیں دیوانوں سے وابستہ
محبت خامشی ھے ،چیخ ھے اور نغمہ گر بھی ھے
یہ اک مضمون ھے کتنے ھی عنوانوں سے وابستہ
تم ھی ھو بدنصیب کارواں بے نام سی صائمٓ
نہ ایوانوں سے ��ابستہ ،نہ دربانوں سے وابستہ
ص س انصاری
ھماری بے قراری کو نہ چھیڑ و مطمئن لوگوں
کہ تقدیرِ سکوں ھے ھم پریشانوں سے وابستہ
کہیں مسلی ھوئی کلیاں کہیں روندے ھوئے غنچے
بہت سی داستانیں ھیں شبستانوں سے وابستہ
مورخ تیری رنگ آمیزیاں تو خوب ھیں لیکن
کہیں تاریخ ھوجائے نہ افسانوں سے وابستہ
+👇
نہیں ھوتیں کبھی ساحل کے ارمانوں سے وابستہ
ھماری کشتیاں رھتی ھیں طوفانوں سے وابستہ
ھمارا ھی جگر ھے یہ ھمارا ھی کلیجہ ھے
ھم اپنے زخم رکھتے ھیں نمکدانوں سے وابستہ
ہم یوں ھی پاسباں پرشک نہیں کرتے رھے اب تک
ہمارے دل کی تباھی ھے نگہبانوں سے وابست��
+👇
چاہتوں سے مجھے جن ہاتھوں نے تعمیر کیا
کیا غضب ہے، میں انھی ہاتھوں سے مسمار ہوئی
میں تو مفہومِ محبت سے شناسا بھی نہ تھی
لیکن اب اس سے ہوئی ھے تو لگاتار ہوئی
تجھ پہ موقوف تھا جیسا بھی بناتا مجھ کو
مہرباں! تیرے تغافل سے میں دیوار ہوئی
شہناز کوثر
تجھ سے منسوب ہوئی، تیری پرستار ہوئی
لے محبت! میں ہر اک چیز سے بیزار ہوئی
یہ سراسر ہے ترے دست ہنر کا اعجاز
یوں تراشا مرا پیکر کہ میں شہکار ہوئی
میں تھی اک خواب طرح دار کی سرشاری میں
پھول عارض پہ رکھا اس نے تو بیدار ہوئی
+👇
بعد تیرے کہاں سجھائی نیند
آج مشکل سے ہاتھ آئی نیند
روٹھ کر پھر چلی نہ جائے کہیں
پاس پچکار کے بٹھائی نیند
پھر خیالوں کا سلسلہ جاری
خواب آنکھوں میں بھر کے لائی نیند
نیند کو نیند ہی نہ آ جائے
جاگ کر آج ہے جگائی نیند
+👇👇
سب رنج و الم ،آہ و بکا دور تھے ہم سے
کیا موج میں تھے عشق کی سوغات سے پہلے
ہے یاد وہ لمحہ کہ جدا مجھ سے ہوئے تھے
آنکھوں میں تھی برسات سی برسات سے پہلے
اشکوں سے وضو کرکے میں سجدے میں پڑی ہوئی
ورنہ تھا بُرا حال مناجات سے پہلے
+👇👇
روشن سی فضائیں تھیں یہ ظلمات سے پہلے
اک حُسن تھا یاں دورِ خرابات سے پہلے
چاہت تھی اخوت تھی مساوات یہاں تھی
جنت کی سی دھرتی تھی فسادات سے پہلے
کچھ ایسا ہوا دل میں حسیں خواب سے مہکے
جب سوچا انہیں میں نے ملاقات سے پہلے
۔
+👇👇
@Muhamma12762724 وہ حجامت ایم جی گاڑی میں نہیں کرتا لیکن آنے جانے کیلیے گاڑی ضرور استعمال کرتا اور کرایے بےتحاشہ بڑھ چکے ہیں جن کا ڈائریکٹلی اثر اس کی آمدن پر پڑا ہے۔
باقی اشیائے خوردونوش اور دیگر تمام ضروریات کی اشیا بھی مہنگی ہوئی ہیں جوکہ
اس نے حجامت سے ہی پوری کرنی ہیں۔