🚨 BREAKING
Putin: "I want ordinary citizens of Western countries to hear me.
The truth is that the problems you are facing now are the result of years of actions by the ruling elites of your own countries."
جبری گمشدگی اور ماورائے عدالت قتل بلوچستان میں انسانی حقوق کی سب سے بڑی خلاف ورزیاں ہیں یہاں ڈھائے جانے والے مظالم کی ایک طویل فہرست ہے #بلوچستان کی دن بدن سنگین ہوتی صورت حال کو عالمی توجہ اور مدد کی ضرورت ہے
#BalochFightForHumanRights#Balochistan
How can you expect silence after disappearing someone? How can you criminalise those who ask where they are? People have the right to question, families have the right to know, and every citizen deserves protection under the law.
#SaveBalochPeople@zehrijournalist@UNGeneva
بلوچ کے خلاف ریاستی کریک ڈاؤن کو دنیا سے چھپانے کے لئے #بلوچستان میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس نا کے برابر کر دی گئی ہے اس طرح کے جابرانہ حالات میں تلخ حقیقت کو ظاہر کرنا صرف بلوچ شہریوں کے کندھوں پر نہیں آنا چاہیے۔ یہ ہر صحافی، ایڈیٹر، اور میڈیا آؤٹ لیٹ کے لیے چیلنج کا مقابلہ کرنے کا لمحہ ہے
#BalochFightForHumanRights
وڈھ، سارونہ اور شاہ نورانی سے نو نوجوانوں کی مبینہ جبری گمشدگی، لواحقین کا فوری بازیابی کا مطالبہ۔
بلوچ وائس فار جسٹس کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ضلع خضدار کے علاقوں وڈھ، سارونہ اور شاہ نورانی سے نو بلوچ نوجوانوں کو مبینہ طور پر ایک مقامی "امن فورس" کی جانب سے حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کر دیا گیا ہے۔
موصولہ معلومات کے مطابق جبری طور پر لاپتہ کیے گئے افراد کے نام یہ ہیں:
1. عبدالوہاب ولد محمد رحیم (قوم میراجی مینگل)
2. سکندر ولد محمد اسماعیل (دولت خانزئی مینگل)
3. نصیر احمد ولد عبدالغنی (قوم چھٹہ)
4. ظاہر احمد ولد محمد ہاشم (دولت خانزئی مینگل)
5. گل محمد دینارزئی مینگل
6. جاوید دینارزئی مینگل ولد گل محمد
7. محمد دینارزئی مینگل (گل محمد کے کزن)
8. سمیع اللہ ولد غلام نبی (گمشادزئی مینگل)
9. نظام ولد عبدالحکیم (پلزئی مینگل)
لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ ان کے مطابق علاقے میں گورگین مینگل کی نگرانی میں حکومتی تعاون سے قائم ایک مقامی "امن فورس" سرگرم ہے، جس پر نوجوانوں کو حراست میں لے کر لاپتہ کرنے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔
لواحقین کا مؤقف ہے کہ لاپتہ نوجوان کسی سیاسی جماعت یا تنظیم کے باقاعدہ رکن نہیں ہیں، تاہم انہیں بغیر کسی قانونی کارروائی کے حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر ان افراد کو کسی ریاستی یا غیر ریاستی ادارے کی تحویل میں رکھا گیا ہے تو ان کی حراست کو فوری طور پر ظاہر کیا جائے، اہلِ خانہ کو ان کے مقام اور خیریت سے آگاہ کیا جائے اور انہیں تمام بنیادی حقوق فراہم کیے جائیں۔ بلوچ وائس فار جسٹس نے اس واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ان مبینہ جبری گمشدگیوں کی شفاف، غیر جانبدار اور مؤثر تحقیقات کی جائیں، ذمہ دار عناصر کا تعین کیا جائے اور تمام لاپتہ افراد کی فوری اور بحفاظت بازیابی کو یقینی بنایا جائے۔
Sentencing Dr. Mahrang Baloch to life imprisonment for simply giving a speech completely erodes the credibility of civilian judicial institutions in Pakistan.
@World_Back1@Sarmachari1240@nadirbaluchs
The life imprisonment of Dr. Mahrang and other BYC leaders further demonstrates the Pakistani judiciary’s complicity in, and subservience to, the military and ISI, reinforcing the Baloch stance that the judiciary is dictated by these institutions.
#UnfairTrials#FaceLessTrials #DrMahrangBaloch
How many Mahrangs will you cast into the dark, Pakistan Army? Know that Mahrang is the light of truth shining within every Baloch soul scarred by your atrocities. She is an ideology of freedom that transcends your iron bars and barbed wire. This fire will only burn brighter with every generation you try to extinguish. You can lock the gates, but you cannot lock the wind. A Mahrang stands tall in every home, unbowed, unafraid, and ready. Go ahead and test our resolve-the Baloch spirit has already outlived your oppression.
بلوچ راج!
جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں، ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، شاہ جی سبغت اللہ، اور دیگر ساتھیوں کو ایک منظم ریاستی پالیسی کے تحت خاموش کروانے، بلوچ عوام کی آواز کو دبانے اور سیاسی جدوجہد کو کچلنے کے لیے عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ یہ فیصلہ صرف چند سیاسی کارکنوں کے خلاف نہیں بلکہ پوری بلوچ قوم کی سیاسی آواز، اجتماعی شعور اور پرامن مزاحمت کے خلاف ایک جابرانہ اقدام ہے۔
بلوچ قوم!
یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی ایک عوامی تنظیم ہے، جس کا بنیادی مقصد بلوچستان میں جاری بلوچ نسل کشی، ریاستی جبر، عسکری پالیسیوں، جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل، تشدد، خوف اور ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانا ہے۔ بی وائی سی نے دنیا کو یہ باور کرایا ہے کہ بلوچ قوم پاکستانی ریاست کی جبر پر مبنی اس نظام کی شکنجے میں ہے جہاں عوام کے بنیادی سیاسی، انسانی اور قومی حقوق مسلسل پامال کیے جا رہے ہیں۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی نے بندوق کے بجائے ماس موبلائزیشن، خوف کے بجائے شعور، خاموشی کے بجائے آواز، اور انتشار کے بجائے تنظیم کا راستہ اپنایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج اس کی سیاسی جدوجہد کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، کیونکہ جابر قوتیں ہمیشہ منظم عوامی شعور سے خوفزدہ رہتی ہیں۔
غیور بلوچ عوام!
جس طرح بلوچ یکجہتی کمیٹی کے ممبران نے عوامی نمائندگی کرتے ہوئے قوم کو یکجا کیا، پاکستانی ظلم و جبر کو بے نقاب کیا، اور یہ ثابت کیا کہ ظالم چاہے جتنا طاقتور کیوں نہ ہو، منظم سیاسی جدوجہد کے سامنے ہمیشہ کمزور پڑتا ہے، اسی طرح آج بھی اسی شعور، اسی حوصلے اور اسی یکجہتی کے ساتھ ریاستی جبر کو چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ یہ وقت خوف کا نہیں، قومی ذمہ داری نبھانے کا ہے۔یہ وقت تنہائی کا نہیں، اجتماعی یکجہتی کا ہے۔
ہمیں یہ واضح پیغام دینا ہوگا کہ بلوچستان میں سیاسی جدوجہد کرنے والوں کو تشدد، مقدمات، قید، ناانصافی اور عمر قید کی سزاؤں کے ذریعے خاموش نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستانی اداروں اور بااثر قوتوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ بلوچ عوام اپنی سیاسی قیادت، اپنے کارکنوں اور اپنے قومی حقوق کے لیے جمہوری میدان میں کھڑے رہیں گے۔
بلوچ راج!
آج وقت کا تقاضا بھی یہی ہے اور زندانوں میں قید ہمارے رہنماؤں کا حق بھی یہی ہے کہ ہم انہیں اس مشکل گھڑی میں تنہا نہ چھوڑیں۔ بلوچ ہونے کے ناتے طلبہ، اساتذہ، دانشور، لکھاری، کاروباری حضرات، مزدور، سرکاری ملازمین، ٹرانسپورٹرز، خواتین، نوجوان اور ہر عام و خاص فرد پر یہ سیاسی و قومی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، شاہ جی اور دیگر سیاسی کارکنوں کے خلاف اس غیر منصفانہ ریاستی فیصلے کے خلاف منظم انداز میں اٹھ کھڑے ہوں۔ ہمیں اپنے اپنے دائرے میں حکومتِ وقت اور جبر کے نظام کے خلاف پرامن سوشل بائیکاٹ کو ایک مؤثر سیاسی عمل بنانا ہوگا۔ اس ظلم اور ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانی ہوگی، لکھنا ہوگا، بولنا ہوگا، عوام کو آگاہ کرنا ہوگا، سفر و ٹرانسپورٹ کے بائیکاٹ میں حصہ لینا ہوگا، اور اپنے سیاسی رہنماؤں کے ساتھ کھڑے ہونے کا عملی ثبوت دینا ہوگا۔
باشعور عوام!
ہمیں چاہیے کہ خواہ ہم کسی بھی طبقہ فکر، ادارے، پیشے یا علاقے سے تعلق رکھتے ہوں، دلیری، جرات اور شعور کا مظاہرہ کریں اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں کی غیر منصفانہ قید و سزا کے خلاف منظم ہو کر کھڑے ہوں۔
* اگر ہم لکھ سکتے ہیں تو اس جبر کے خلاف لکھیں۔
* اگر ہم بول سکتے ہیں تو عوامی سطح پر آواز بلند کریں۔
* اگر ہم کاروباری افراد ہیں تو تنظیم کی کال پر شٹر ڈاؤن ہڑتال کو کامیاب بنائیں۔
* اگر ہم ٹرانسپورٹرز ہیں تو پرامن بائیکاٹ میں اپنا کردار ادا کریں۔
* اگر ہم سرکاری ملازمین ہیں تو ہڑتال کی حمایت میں جمہوری اور پرامن طریقے سے اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں۔
* اگر ہم طلبہ ہیں تو تعلیمی اداروں میں سیاسی شعور، مکالمہ اور یکجہتی کو مضبوط کریں۔
* اگر ہم لکھاری، دانشور یا صحافی ہیں تو اس ناانصافی کو تاریخ، سماج اور دنیا کے سامنے بے نقاب کریں۔
عوامی تحریک کی اصل طاقت عوام ہیں، اور جب عوام منظم ہو جائیں تو کوئی طاقت انہیں روک نہیں سکتی۔ یہ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے سیاسی رہنماؤں کو جیلوں میں تنہا نہ چھوڑیں، بلکہ ہر سطح پر ان کے ساتھ اپنی یکجہتی کو عملی شکل دیں۔ ہمیں ردعمل کے بجائے منظم سیاسی عمل اختیار کرنا ہوگا۔ ہمیں منتشر آوازوں کے بجائے اجتماعی آواز بننا ہوگا۔ ہمیں وقتی احتجاج کے بجائے مسلسل عوامی جدوجہد کو مضبوط کرنا ہوگا۔ یہی وہ راستہ ہے جو جبر کو بے نقاب کرتا ہے، ناانصافی کو للکارتا ہے، اور عوام کو اپنی طاقت کا احساس دلاتا ہے۔
PAKISTAN: Today marks 150 days of unlawful imprisonment of human rights lawyers Imaan Mazari and Hadi Ali Chattha, simply for their social media posts.
Five months on, despite repeated attempts by their legal counsel, their appeal has not been heard yet. The delay in the appeal hearing is in stark contrast to the haste during their trial, which had several procedural irregularities as they were denied substantial time to cross-examine key witnesses against them.
📢 Call for their immediate and unconditional release.
✊ Take action NOW: https://t.co/GSIPYBLnLz
#ReleaseImaannadHadi
𝗣𝗥𝗘𝗦𝗦 𝗖𝗢𝗡𝗙𝗘𝗥𝗘𝗡𝗖𝗘 | 𝗟𝗲𝗴𝗮𝗹 𝗧𝗲𝗮𝗺 𝗼𝗳 𝗗𝗲𝘁𝗮𝗶𝗻𝗲𝗱 𝗕𝗬𝗖 𝗟𝗲𝗮𝗱𝗲𝗿𝘀
Today the legal team of Dr. Mahrang Baloch and other detained BYC leaders held a press conference in which raised serious concerns regarding the ongoing legal proceedings, including the shift from open court hearings to jail trials and then faceless proceedings, prolonged detention, concerns regarding judicial impartiality, and restrictions on public access to the judicial process.
The legal team state that the detained BYC leaders are currently holding a sit-in protest inside the jail premises against faceless trials. They maintain that their cases should be heard in open court in accordance with constitutional guarantees, principles of transparency, and the right to a fair trial.
During this press conference, the legal team emphasized the constitutional right to a fair and public trial, called for the restoration of open court proceedings, and urged authorities to uphold transparency, due process, and judicial accountability.
#EndUnfairTrialOfBYCLeaders