سوات میں میرے آبائی علاقے سے علیمہ خان صاحبہ کا بیان سُنا، سب سے پہلے تو میں اس بات پر اپنے لوگوں کا بہت شکرگزار ہوں جنہوں نے ایک رات کےشارٹ نوٹس پر میرے لیڈر کی بہن کا شاندار استقبال کیا۔ خان صاحب کی وساطت سے ہم سب کے دلوں میں ان کا بہت احترام ہے۔ میں ان کے مجھ پر اس قدر اعتماد پر بھی ��شکور ہوں کہ ان کی رائے میں میری موجودگی سے عمران خان کی رہائی کی تحریک کو وہ تقویت ملے گی جو تحریک انصاف کی صوبائی حکومت اور اتنی تجربہ کار اور قابل قیادت کے ہوتے ہوئے نہیں ممکن ہو پائ۔ جب بھی خان صاحب کی میرے حوالے سے ہدایات میں تبدیلی سے مجھے، ان کے مصدقہ زرائع سے تصدیق ملی، میں انشاء اللہ ان کے اور اپنی قوم کے اس بھروسے کو شرمندہ نہیں ہونے دوں گا۔ تب تک اور ہمیشہ، ہر تحریک اور ہر مرحلے پر عمران خان کی پارٹی اور عمران خان صاحب کے خاندان کو میری اور میرے لوگوں کی ویسی ہی حمایت میسر ہوگی جس کا مظاہرہ آپ نے اس ہفتہ مالاکنڈ ریجن، آج سوات میں اور اب سے کچھ دیر بعد بونیر م��ں دیکھیں گے۔
رہی بات اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہونے کی تو میری قوم جانتی ہے کہ کل بھی اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑا تھا اور آج بھی اپنے قائد اور اپنی قوم کے ساتھ کھڑا ہوں چاہے میں اپنے لوگوں کے مابین موجود ہوں یا نہیں میں نے نہ ان کے حقوق اور ان کی زندگیوں کا سودا کرنے کی اجازت کسی کو دی ہی، نا آگے کبھی دوں گا۔ دہشت گردوں کو نکالنے اپنا امن قائم کرنے،کسٹم ایکٹ کے خاتمے اور دیگر ترقی سے یہ ثابت شدہ اور میری قوم اس کی گواہ ہے۔
"ہماری تکلیف سمجھ لیں ہمیں عمران خان کی آنکھ کی فکر ہے ان کی آنکھ میں کلاٹ کیوں آیا؟ تحریک چلانے کا مطلب اس حکومت پر پریشر ڈالنا ہے تاکہ ان کا علاج ہو، عمران خان خود کبھی نہیں کہیں گے انہوں نے تو کہا تھا میں جیل میں مر جاؤں گا لیکن وقت کے یزی�� کے سامنے سر نہیں جھکاؤں گا"علیمہ خان
ہر پاکستانی کو چاہے وہ دنیا میں کہیں بستا ہو عمران خان پر فخر ہے۔
واشنگٹن ڈی سی میں خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر شہباز گل کا کہنا تھا: "جب قوموں پر عاصم منیر جیسے درندے مسلط ہو جائیں تو پھر کسی کو اپنے کندھوں پر وزن اٹھانا پڑتا ہے۔ عمران خان آپ سب کا وزن اٹھا رہا ہے۔"
#PTIUSAProtest #FreeImranKhan
While Imran Khan’s government sought to grant overseas Pakistanis the right to vote, General Asim Munir is hounding members of the Pakistani diaspora and their families through #TransNationalRepression, said former Deputy Speaker Qasim Khan Suri at the #PTIUSAProtest in Washington.
”اس بجٹ میں وفاقی حکومت کے لیے کوئی گرانٹ نہیں پیش کیا جائے گا۔ اضافی رقم کی جو ڈیمانڈ کی ��ئی تھی تمام صوبوں سے نیشنل اکونومک کاؤنسل میں، اس کی آخری اتھوریٹی بھی عمران خان ہی ہیں“ سہیل آفریدی
وفاقی حکومت کو اضافی رقم عمران خان کی اجازت کے بغیر نہیں دے سکتے، نیشنل اکنامک کونسل کی میٹنگ میں یہ بتایا تھا، عمران خان سے ملاقات کرائی جائے، قیدِ تنہائی بھی ختم کی جائے۔ سہیل آفریدی
عسکری امپورٹڈ حکومت کے CCD نے ایک ہزار سے زائد پاکستانیوں کو ماورائے عدالت قتل کیے۔ نہ قانون کا خوف، نہ عدالت کا، نہ اپنی آخرت کا۔
آج جب آسٹریلیا کے وزیرِاعظم نے پاکستانی نژاد آسٹریلوی بچی ہانیہ احمد کے قتل کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تو تحقیقات کی یقین دہانی کرائی جا رہی ہے۔ یہ واضح کرتا ہے کہ یہ ناجائز، فارم 47 حکومت اور اس کے عسکری ہینڈلرز خود کو کس کے سامنے ��وابدہ سمجھتے ہیں! #امپورٹڈ_حکومت_نامنظور
پاکستان میں #AsimLaw کے شرمناک مناظر۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سُہیل آفریدی کے قافلے کو اسلام آباد میں 26 نمبر چوک کے مقام پر روک دیا گیا۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا، صوبائی وزراء اور اراکینِ پارلیمنٹ کے ہمراہ پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے پرامن احتجاج کے لیے جا رہے تھے۔
احتجاج کا مقصد ناحق قید سابق وزیرِ اعظم عمران خان سے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اور مشیرِ خزانہ کی ملاقات کو یقینی بنانا تھا تاکہ آئندہ بجٹ اور صوبے سے متعلق اہم امور پر مشاورت ��ی جا سکے۔
کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، اور کشمیری اپنے بنیادی حقوق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ جمہوری معاشروں میں اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے والوں کو مذاکرات کی میز پر بٹھایا جاتا ہے، لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں اکثر مسائل کو طاقت اور گولی کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں مزید نقصان ہوتا ہے۔
ہمارے کشمیری بھائی شہید ہوئے، جبکہ ان کا قصور صرف اپنے حقوق کا مطالبہ کرنا تھا۔ ان پر بھی اسی طرح گولیاں چلائی گئیں جس طرح 26 نومبر کو اسلام آباد میں ہمارے پُرامن کارکنوں پر چلائی گئی تھیں۔
گولی اور جبر کے بجائے اگر ریاست مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کرے تو نہ صرف تنازعات جلد حل ہو سکتے ہیں بلکہ جانی و مالی نقصان سے بھی بچا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر یہی طرزِ عمل جاری رہا کہ بندوق اور ڈنڈے کے زور پر لوگوں کی آواز دبانا ہی واحد حل ہے، تو حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے۔ یہاں تک کہ صورتحال اس نہج پر پہنچ سکتی ہے جہاں نہ مذاکرات کارگر رہیں گے اور نہ ہی طاقت کے استعمال سے معاملات قابو میں لائے جا سکیں گے۔
گلگت بلتستان کے انتخابات اور گذشتہ دنوں کوٹلی اور اس سے قبل راولاکوٹ میں دہرائے گئے ۲۶ نومبر اور مریدکے کی تاریخ سے ان عناصر کی خوش فہمی کا تو تدارک ہوگیا ہوگا جو سمجھتے تھے کہ خدائ کے دعویداروں کے سیاہ دلوں میں رحم کی کوئ رمق باقی ہوگی۔
اب اگر اپنے بھی شرک سے باز آکر ان پتھر دل صنموں سے بھلائ کی توقع چھوڑ کر اپنے بل پر کچھ کرنے کی ٹھان لیں تو شاید اس قوم کی تاریخ ہمیں اپنے غداروں میں نہ شمار کرے۔
عمران خان کی حکومت گرا کر، بہ زورِ طاقت اس کی پارٹی توڑ کر، پاکستان کی عوام سے ان کا اپنے حکمران چُننے کا حق چھین کر پاکستان میں جس عدم استحکام کی د��غ بیل ڈالی گئی وہ سلسلہ دن بہ دن اور مزید واضح طور پر باقاعدہ وطن دشمنی ثابت ہورہا ہے۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ اس نہج پر عاصم منیر اور اس کے ماتحت کٹ پتلی حکومتیں پاکستان توڑنے کے ایجنڈے پر محرک ہیں۔ پورے پاکستان میں جس جبر کا ماحول گرم ہے اور نہتے کشمیریوں پر جس طرح گولیوں کی بوچھاڑیں کی گئیں جس کے باوجود وہ اپنے حقوق کے لیے ڈٹ کر کھڑے ہیں، خیبر سے کراچی تک پاکستانی قوم کو کشمیر کے عوام کی آواز بن کر، ان کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کرکے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر کسی جابر کی معرکہ آرائیوں کا شکار بننے سے روکنے کی سبیل کرنی چاہئے۔
آج عمران خان باہر ہوتا، آج عمران خان کو ان کے بنیادی انسانی حقوق میسر ہوتے اور ان کا پیغام باہر آسکتا تو انہوں نے یہی کرنا تھا۔ اس سے بڑھ کر کرنا تھا۔
میری اطلاعات کے مطابق پارٹی نے کل پارلیمان کے باہر احتجاج کی کال دی ہے ان سے بھی گزارش ہے کہ کشمیر کے ساتھ یکجہتی اور ملک کو بچانے کے لیے عمران خان کی رہائی پر گفتگو ہو۔ انشاءاللہ میرے حلقہ انتخاب میں�� **۱۳ جون ۲۰۲۶ بروز ہفتہ دوپہر دو بجے مٹہ چوک** میں، کشمیر کی عوام کے ساتھ یکجہتی ان کے ساتھ ہونے والے ظلم کے خلاف اور ملک بچانے کے لیے، عمران خان کی رہائی کے لیےاحتجاجی مظاہرہ ہوگا۔ سوات کے تمام کارکنان اس میں بھرپور شرکت یقینی بنائیں۔
یاد رکھیے!
اگر ہم آ�� ایک دوسرے کا بازو نہ بنے تو یہ ایک ایک کرکے ہمیں ایسے ہی ماریں گے جیسے ۲۵ مئی ۲۰۲۲ سے لے کر ۲۶ نومبر ۲۰۲۴ تک تحریک انصاف کو مارا، جیسے مریدکے میں مارا، جیسے کوٹلی اور راولاکوٹ میں مارا۔ جیسے برسوں سے بلوچستان فاٹا اور خیبر پختونخواہ میں مار رہے ہیں۔
مریم صفدر کے منسٹر پر منشیات فروشی کا الزام۔ سکیورٹی فورسز کا چھاپہ۔ وزیر بیت المال سہیل شوکت بٹ کا بہنوئی اور کزن گرفتار۔ مجرموں کو بچانے کے لیے مداخلت پر وزیر کے خلاف کاروائی کے لیے مراسلہ۔
ملزمان لاہور بارڈر علاقے میں ڈرونز کے ساتھ منشیات بارڈر پار سمگل کرتے ہیں۔
گلگت بلتستان کے کئی حلقوں میں پی ٹی آئی امیدوار برتری پر ہیں، پولنگ ختم ہوتے ہی مخصوص پولنگ اسٹیشنز ہائی جیک کرنے اور پوگس ووٹ ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہیں۔ ہم انتخابی عمل کو ہائی جیک کرنے کی کسی بھی کوشش کو نہ قبول کریں گے نہ ہونے دیں گے۔ مسلم لیگ ن کے ایک کنڈیڈیٹ کے لئیے ایک پولنگ سٹیشن میں 80 فیصد ووٹ پول کیا گیا- اک پولنگ بوکس سے 800 سے ذائد ووٹ برآمد ہوئے باقی پولنگ سٹیشنز میں بھی بوگس ووٹ ڈالنے کی کوشش جاری ہے - ابھی پی ٹی آئی آگے ہے لیکن یہی عمل جاری رہا تو نہ اس الیکشن کو مانیگے اور نہ ہی کسی کو سکون سے رہنے دینگے- اگر عوامی مینڈیٹ میں مداخلت کی گئی تو حالات کی تمام تر ذمہ داری انتظامیہ پر ہوگی، اور گلگت بلتستان کے عوام باہر نکلیں گے۔
— سابق وزیراعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید خان
گلگت میں ایک بار پھر فسطائیت اپنے عروج پر!
پاکستان تحریک انصاف کے نامزد امیدوار عتیق پیرزادہ کے ساتھ ایئرپورٹ تھانے میں ناروا سلوک اور سینئر کارکن باباجان کی گرفتاری قابل مذمت ہے۔ سیاسی کارکنوں کو ہراساں کرنا اور اختلاف رائے کو دبانا جمہوری اقدار کے خلاف ہے۔ ایسے اقدامات عوام کے بنیادی حقوق اور سیاسی آزادیوں پر سوالیہ نشان ہیں۔
#خان_کے_نام_سے_کانپتی_ٹانگیں