جو تشدد اور زبردستی سے جو حکومت بنوای جاے تو تخت پہ بیٹھنے والا فرشتہ بھی ہو تو شیطان ہے۔ مسلمان امت کا حق ہے کہ وہ اپنا قائد چنے۔ ایک شخص زبردستی بیٹھ جاتا ہے اور بعد میں بعیت لیتا ہے یہ خود اتنا بڑا گناہ اور جرم ہےاور کرنے والا بھلے حاجی ہو یا نمازی ہو انتہا درجے کا شیطان ہے۔
The last time I spoke to IMRAN KHAN was THREE YEARS AGO.
I'm looking forward to speaking with my friend Imran Khan again. We have a lot of lost ground to make up.
FREE IMRAN KHAN.
عمران خان اور ان کے سپورٹرز کو جیل میں اتنی سختی، گندگی میں رکھا گیا ہے کہ 10 لوگ ہیپاٹائٹس سی کی وجہ سے شہید ہو گئے، میرے والد کا وزن بھی کم ہوا ہے، گرمی ناقابل برداشت اور تازہ ہوا کا بھی انتظام نہیں، ایسی کہانیاں ہیں کہ سن کر بھی خوف آتا ہے۔ قاسم خان
Below is a THREAD with some shorter clips of the most important messages from my boys’ interview regarding their father’s incarceration.
Please share if you can.
1) His conditions in jail
مطالبہ جاری رکھیں 🚨
آگر زیادہ نہیں تو کم از کم ایک ٹویٹ عمران خان کی علاج کے لئے ضرور کریں۔ مطالبہ کریں کہ شوکت خانم کے ڈاکٹرز کی موجودگی میں خان صاحب کو فوری شفا انٹرنیشنل منتقل کر دیا جائے
کیونکہ ہمیں پمز ہسپتال کے سرکاری ڈاکٹرز پر بلکل بھی بھروسہ نہیں
Today, I had the honour of speaking to the 47 countries that comprise the @UN#HumanRightsCouncil urging the immediate release of my father @imrankhanpti and all #Pakistan’s #politicalprisoners. Along with this, I want to be very clear. Like my father, I fully support maintaining GSP+ as the people of #Pakistan should never be punished for the actions of its leaders. But the Pakistani regime must also fully comply with the 27 treaties it committed to follow to obtain this benefit, including the International Covenant on Civil and Political Rights and Convention Against Torture. @UN@ptiofficial #HumanRights #ImranKhanUnlawfullyDetained
عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے یورپی یونین سے پاکستان کی جی ایس پی پلس سہولت واپس لینے کے مطالبہ پر منعقدہ کانفرنس میں شرکت کی۔ قاسم خان خصوصاً اپنے والد کی قید کو بنیاد بناتے ہوئے پاکستان کی جانب سے مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر سوال اٹھایا۔
"میرے والد، عمران خان، تقریباً ایک ہزار دنوں سے قید میں ہیں۔ وہ ایک ایسے نظام کا بنیادی نشانہ ہیں جو اختلافِ رائے کو سیاسی اختلاف نہیں بلکہ ایک سنگین جرم سمجھتا ہے جسے کچل دینا چاہیے۔
میں نے اپنے والد کو تین سال سے زیادہ عرصے سے نہیں دیکھا۔ انہیں تنہائی کی قید میں رکھا گیا ہے، ایک ایسی چکی میں جو سزائے موت کے قیدیوں کے لیے بنائی گئی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ غیر انسانی حالات تشدد کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔ یہ محض غفلت نہیں ہے، بلکہ ایک سوچا سمجھا ظلم ہے جس کا مقصد ایک انسان کی عزتِ نفس کو چھین لینا ہے۔“@Kasim_Khan_1999
#ImranKhanUnlawfullyDetained