زندگی کا سب سے خوبصورت سبق یہ ہے کہ آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر صرف چہرہ صاف کرنے پر اکتفا نہ کرو، بلکہ ہر روز اپنے دل کو بھی حسد، نفرت، غرور اور کینہ سے پاک کرنے کی کوشش کرو۔ کیونکہ وقت گزرنے کے ساتھ چہرے کی رونق ماند پڑ جاتی ہے، مگر پاکیزہ دل اور اچھا کردار انسان کو ہمیشہ عزت اور محبت عطا کرتے ہیں۔
@SindhiZulfi یار تم تو اب بھی اس کے دل میں بیٹھے ہو،
اور وہ تمہیں بلیک لسٹ پر 'VIP Seat' دے چکا ہے
اب تم 'Blocked but Heart-Subscribed' والے رکن بن گئے ہو۔
دل سے ان سبسکرپشن ختم کرو، ورنہ Lifetime Premium Pain رہے گا "
یاد رکھو، انسان اپنے اردگرد کے لوگوں کے رنگ میں رنگ جاتا ہے۔ وہ جن لوگوں کے ساتھ وقت گزارتا ہے، اُن کے رویّوں، خیالات، عادات اور طرزِ زندگی سے گہرا اثر لیتا ہے۔ اس لیے تمہاری نشوونما کے لیے یہ بہت اہم ہے کہ تم کن لوگوں کی صحبت اختیار کرتے ہو۔ اپنے اردگرد کے لوگوں کو اپنا آئینہ سمجھو، اور اپنی رفاقت کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کرو۔ اُن لوگوں کے ساتھ رہو جن کی تم دل سے عزت کرتے ہو۔
اگر شوہر کی تنخواہ کم ہے گھر نہیں چل پا رہا تو بیوی کوئی نوکری کرکے شوہر کی مدد کر سکتی ہے اور اسی طرح اگر بیوی کا بہت زیادہ کام ہے وہ نہیں سنبھال پارہی شوہر اس کی مدد کر دے ۔۔۔۔
گھر تو دونوں کا ہے نہ تو گھر کا خیال رکھنا بھی دونوں کی زمہ داری ہے
آپ لوگوں کا خیال ہے اس پر؟
Narcissistic Abuse کا سب سے بھیانک پہلو یہ ہے کہ اس کا شکار انسان خود کو مکمل طور پر تنہا اور بے بس محسوس کرتا ہے۔ لوگوں اور رشتوں پر سے اس کا بھروسہ مکمل طور پر ختم ہوجاتا ہے۔ خود سے محبت کے ساتھ ساتھ دوسروں سے محبت کرنا بھی مشکل ہوجاتا ہے۔مجھے نہیں لگتا کہ کسی انسان کے ساتھ اس سے زیادہ ظالمانہ
سلوک اور کوئی ہو سکتا ہے۔
مریض کی عیادت کے لیئے جاتے ہیں اوّل تو 20 ، 25 منٹس سے زیادہ بالکل نہ رُکیں کوشش کریں 15 منٹس میں واپس چل دیں ، بھلے مریض کو کوئی serious concern ہی ھو آپ کو حوصلہ افزاء الفاظ جُملے ہی کہنا چاھیئے تاکہ مریض اور اُسکے لواحقین کا حوصلہ ہمت بڑھے جو کہ پہلے ہی بہت پریشان ہوتے ہیں خُدارا ایسی باتیں نہ کریں جس سے اُنکی ہمت ٹُوٹے حوصلے جواب دینے لگیں ، موقع محل دیکھ لینا چاھیئے اگر کہنا ضروری ہی ھے تو علیحدگی میں کسی ذمہ دار سے کہہ لیں تاکہ باقیوں کی باڈی لینگوئیج تو ڈاؤن نہ ھو....
مرد پر کمانے کی ذمہ داری ڈال دی گئی ہے اور اس بری طرح ڈال دی گئی ہے کہ مرد کی مردانگی ادھوری ہے اگر وہ بے روزگار ہے۔ حسنین جمال صاحب نے انڈیپینڈینٹ اردو پر مضمون لکھا جس کا عنوان ہی یہی تھا کہ اگر مرد کمانا چھوڑ دے تو کیا ہوگا۔ واقعی سوال تو صحیح ہے۔ پیدائش سے لے کر وفات تک مرد provider ہے۔ چاہے وہ دولت ہو، عزت ہو، تحفظ ہو یا محبت ہو اور وہ خود کیا چاہتا ہے، اسکی کیا خواہشات ہیں، کیا سوالات ہیں کسی کو سروکار نہیں ہے۔ جیسے خلیل الرحمٰن قمر کہتے ہیں مجھے جو بدلے میں مل رہا ہے
صلہ یہ کیا ہے انعام کیا ہے؟ بتاو میرا مقام کیا ہے؟؟
سندھ کے کہانی کار، ادیب اور ناول نگار علی بابا
7 جولائی — علی بابا کی سالگرہ
علی بابا کی مختلف کہانیوں سے منتخب اقتباسات
(1)
ساری دنیا کے لوگ ترقی کی راہوں پر گامزن ہیں، نئی نئی ایجادات کر رہے ہیں، دنیا مریخ تک جا پہنچی ہے، اور یہ لوگ آج بھی گھوڑوں کے زمانے میں اٹکے ہوئے ہیں۔ دل پھٹنے لگتا ہے۔ جیسے کے تیسے، میں نے اپنے ماروؤں کو مانا ہے، مگر میں کوئی شاہ عبداللطیف نہیں کہ سب کو معاف کر دوں۔ میں تو اپنے باپ کو بھی معاف کرنے والا نہیں۔ آج تک خود کو عربوں کی اولاد کہتا ہے، نہ جانے ان بوڑھوں کو اپنی ماؤں پر ناحق عرب چڑھانے میں کیا لطف آتا ہے! نہ عرب افضل تھے، نہ ہی ان کا اس دھرتی اور دریا سے کوئی تعلق تھا۔
(2)
مجھے اس سے جتنی محبت تھی، اس کے پردے سے اس سے بھی زیادہ نفرت تھی۔ عورت خواہ کتنی ہی خوبصورت کیوں نہ ہو، برقع پہننے کے بعد مجھے کپڑوں کی ایک گٹھڑی نظر آتی ہے۔ میں برقعے کا سخت مخالف ہوں۔ میری خواہش ہے کہ میری بیوی میرے ساتھ آزادی سے گھومے پھرے۔
(3)
دیکھو بیٹے!
ہم غریب لوگ ہیں۔ ہماری روٹی کا حساب چاند کی طرح ہے؛ کبھی پوری، کبھی آدھی، کبھی چوتھائی، اور کبھی بالکل بھی نہیں۔
(4)
ہیروشیما پر صرف ایک ایٹم بم گرایا گیا تھا، مگر میرے دل پر روز ہائیڈروجن بم گرتے ہیں، اور میں ہر روز خوابوں جیسا ایک شہر کھو دیتا ہوں۔
(5)
موئن جو دڑو میرا مکہ و مدینہ ہے، میری کاشی ہے، میری روح کی نروان ہے۔ میری خواہش ہے کہ میں انہی کھنڈرات میں جا کر سو جاؤں۔
(6)
تم سے بیس مرتبہ کہا ہے کہ اسے غلام شاہ نہ کہا کرو، عاشق لطیف کہا کرو۔ آخر کب تک غلامی کی زبان بولتے رہو گے؟
(7)
سندھو کی مبارک سرزمین، زمین پر جنت ہے۔
(8)
اسپتال میں گھٹ گھٹ کر مرنے سے بہتر ہے کہ انسان اپنی دھرتی پر قربان ہو جائے۔ عورت کی محبت انسان کو سچائی کی راہ پر لے آتی ہے۔ زندگی سزا نہیں، دوزخ نہیں، بلکہ محبت ہے، ایک عورت کی محبت، جو بہت مشکل سے نصیب ہوتی ہے۔ مجھے اب اپنی محبوبہ کنتی کے پاس جانا چاہیے۔ عورت کے بغیر دنیا میں کوئی انقلاب نہیں آ سکتا۔
(9)
خاموشی سب سے بڑا کفر ہے۔
(10)
ہر مرد کسی حسین عورت کا بت تراشنے کے بعد، اسی کی گردن پر پاؤں رکھ کر خود کو وقت کا سب سے بڑا فاتح سمجھنے لگتا ہے۔
(11)
توبہ! یہ ساری سندھ یونیورسٹی کتنی اجنبی سی لگتی ہے، مگر پھر بھی نہ جانے کیوں اسے چھوڑنے کو دل نہیں چاہتا۔
(12)
انسان کی عظمت اسی میں ہے کہ وہ کسی کے سامنے نہ جھکے۔
(13)
اے چنگیز خان!
عورت کا دل منگولیا کی سرزمین نہیں کہ تم اسے ایک ہی حملے میں فتح کر لو۔
(14)
ہم مرد بڑے مکار ہیں۔ صدیوں سے نفسیاتی طور پر عورت کو جسم فروشی کی طرف دھکیلتے آئے ہیں۔ ایک کو کوٹھے پر، دوسری کو گھر میں۔ ایک پیشہ ور جسم فروش کہلاتی ہے، دوسری جائز بیوی، مگر اس کی اپنی الگ شناخت بھی نہیں رہنے دیتے۔
(15)
آزادی کیا ہوتی ہے، یہ پنجرے میں قید پرندے سے پوچھو۔ اور وطن کیا ہوتا ہے، یہ اس بچے سے پوچھو جو اپنی ماں سے بچھڑ گیا ہو۔
---
علی بابا کی کہانی "مٹی" سے منتخب اقتباسات
(16)
خالص انسانی احساسات اور جذبات کسی ڈگری یا عقل و دانش کے محتاج نہیں ہوتے۔
(17)
عورت بھی کیا شے ہے! عورت خدا کا نور ہے۔ رومی نے بھی کہا تھا کہ عورت صرف مخلوق نہیں بلکہ خود تخلیق کا سرچشمہ ہے۔
(18)
ہندوستان بھی کیسا چھوٹا ملک نکلا کہ اس نے موہن کو سندھ کا ویزا ہی نہ دیا۔
(19)
کیا غلاموں کی اولاد کبھی شاہی تخت سنبھال سکی ہے؟
(20)
اس دھرتی پر خدا کے تمام جنتیں اور تمام بہشت قربان کیے جا سکتے ہیں۔
(21)
کتابیں سب سے بہترین پناہ گاہ ہیں۔ وہ باتیں کرتی ہیں اور پوری کائنات کی کہانیاں سناتی ہیں۔
(22)
دریاؤں کا راستہ روکنا ایسا ہے جیسے دریا کو بغیر لائسنس اور کاغذات کے ٹیکسی بنا دینا۔ پانی تو صرف یزید ہی روکتا ہے۔ امام حسینؑ نے فرمایا تھا: "اے معاویہ! کیا اقتدار ہمیشہ تمہارے پاس رہے گا؟"
(23)
بیٹا! اس دنیا کو آباد کرنا اور انسان کی مٹی کو دوبارہ گوندھنا، دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ہماری اجرک، گربی، سوسی، جھنڈی، کاشی، رلی اور کلہاڑی کی طرح ہماری اپنی پہچان اور اپنے رنگ ہیں۔ ان پر ہماری اپنی مہر ثبت ہے، یہ کہیں سے مستعار نہیں لیے گئے۔
— علی بابا
منتخب مجموعے: میری کہانیاں، جنم بھومی، شمشان بھومی
@hbhutto@_Qasim_Kehar@ZaorKhan@shafiburfat@ArifRetd@2222hollywood@sindhicongress@SindhuSorath@sindhiuk@sindhisangat
غالب کی مالی حالت اکثر خراب رہتی تھی اور ان پر قرض کا اچھا خاصا بوجھ تھا۔ ایک مرتبہ وہ دلی کے قاضی کی عدالت میں قرض کے کسی مقدمے میں پیش ہوئے۔ قاضی نے غالب کی شاعری اور ان کی عظمت کو جانتے ہوئے ذرا ہمدردی اور حیرت سے پوچھا:
"غالب صاحب! سنا ہے کہ آپ پر بہت قرض ہے، اور آپ شراب بھی خوب پیتے ہیں۔ تو پھر آپ کا گزارا کیسے ہوتا ہے؟"
غالب نے نہایت سنجیدگی اور اپنے مخصوص اندازِ بیاں کے ساتھ جواب دیا:
"حضور! قرض کی پیتا تھا مے، اور سمجھتا تھا کہ ہاں۔۔
رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن۔"
پھر مسکرا کر قاضی سے کہنے لگے: "عجیب بات یہ ہے کہ جو دیتا ہے وہ تو مانگتا نہیں، اور جس سے کبھی لیا ہی نہیں، وہ کمبخت تقاضا کرنے آ جاتا ہے!"
عدالت میں موجود تمام لوگ، بشمول قاضی، غالب کے اس لاابالی اور فلسفیانہ جواب پر ہنس پڑے اور قاضی نے مقدمے میں نرمی برتنے کا حکم دیا۔
یہ غالب کی واحد تصویر ہے
یہ بزرگ اپنی روزی روٹی گدھے پر مزدوری کرکے کماتے ہیں مگر جب قوم کو ضرورت پڑی تو خود آگے بڑھ کر اپنے محلے سے چندہ جمع کیا اور کافی مقدار میں اشیائے خوردونوش اکٹھی کیں اب وہ یہ سامان گدھے پر لاد کر تقریباً بیس کلومیٹر دور دریک راولاکوٹ کی جانب کچے اور دشوار گزار راستوں سے لے جا رہے ہیں
ایسے بے لوث جذبے ایثار اور خدمت کی مثالیں ہی قوموں کا اصل سرمایہ ہوتی ہیں ایسے قومی ہیروز کو دل کی گہرائیوں سے سلام۔
تمھارے لیے کماتا ہوں، میری خواہش پوری کرو؛ سسر نے بہو سے ناجائز مطالبہ کیا بہو نے قتل کر دیا۔
ایک 28 سالہ خاتون پر سسر کو قتل کرنے کا مقدمہ درج کیا گیا، خاتون نے پولیس کو بتایا کہ شوہر چار ماہ قبل انتقال کر گیا اور میں دو بچوں کے ساتھ سسرال میں رہ رہی ہوں۔
سسر کی جانب سے بار بار ہراساں کیا جاتا رہا،کئی بار ساس کو بھی اس بارے میں بتایا لیکن وہ باز نہیں آیا۔
خاتون نے کہا کہ یکم جون کو سسر نے زبردستی کی تو میں نے مزاحمت کی اور اسی دوران وہ ہلاک ہوگئے
یہ واقعہ بھارتی ریاست تمل ناڈو میں پیش آیا۔
I've never met anyone who has given me their heart.
Only their minds.
And that I'll always be second choice.
Not chosen.
But they still wanted to possess something inside.
So they kept me close.
And treated me like their treasure.
A toy to their amusement.
That they kept coming to it to borrow wisdom and beauty.
From something exciting and terrifying.
That is new to their world.