ہم خود کو سچا مسلمان کہتے ہیں اور فلسطین کیلئے جہاد کی پوسٹ لگاتے ہیں، مگر کبھی انفرادی طور پر جو کُچھ کر سکتے ہیں وہ کبھی نہیں کریں گے۔
ہم کبھی اپنے آپ سے نہیں جہاد کر سکتے کہ ان سب اسرائیلی Brands کو چھوڑ دیں جو اسرائیل کی Economy کو مضبوط کرتے ہیں۔
کہنے کو ہم سب مسلمان ہیں اور آپس میں بھائ بھائی ہیں۔
مگر افسوس یہ کہ جڑانوالہ میں اگر اقلیتوں کے گھروں کی دیواریں بھی جلیں تو ہمیں اتنی تکلیف ہو جاتی ہے کے مہینہ پورا ہم سوگ مناتے ہیں، اور ہمارے ادارے فٹافٹ ایکشن میں آ جاتے ہیں۔
مگر مستونگ بلوچستان میں میلادالنبیﷺ کے جلوس میں 60 مسلمان بے دردی سے شہید ہوئے اور کسی کو کوئ دُکھ نہیں ہوا؟ اداروں نے ابھی تک کیا کِیا؟
اقلیتوں کے حق میں پوسٹنگ کرنے والے مسلمان اب کہاں مر گئے ہیں؟
14 گھنٹوں سے ہر میڈیا پلیٹ فارم پر پاک بوجھ ایک ہی خبر پر زور دے کر اپنے نمبر ٹانگتی رہی اور ہیلی کاپٹر پر جُھولے لیتی رہی۔
آخر کار، مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت بچوں کو ریسکیو کر لیا۔
#Lumber01
قرآن کریم کو سویڈن میں جلایا گیا،
وزیراعظم پاکستان کا، عالم اسلام کے لیڈر عمران خان صاحب کا اور کسی بھی سیاسی جماعت کا کوئی جواب نہیں آیا۔
اور افسوس اسلامی جمہوریہ پاکستان میں، اِن سب سے اُن لعنتیوں کو جواب دلوانے کیلئے TLP کو احتجاج کر کے مجبور کرنا پڑتا ہے۔