جابر بن سمرہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نےایک انتہائی روشن چاندنی رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، پھر آپؐ کو دیکھنے لگااور چاند کو بھی دیکھنے لگا ( کہ کون زیادہ خوبصورت ہے) آپؐ اس وقت سرخ جوڑا پہنے ہوئے تھے،اور آپؐ مجھے چاند سےبھی زیادہ حسین نظر آ رہےتھے۔
(ترمذی،۲۸۱۱)
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
دعا آسمان اور زمین کے درمیان رکی رہتی ہے، اس میں سے ذرا سی بھی اوپر نہیں جاتی جب تک کہ تم اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاۃ ( درود ) نہیں بھیج لیتے۔
(جامع ترمذی،۴۸۶)
آپ ﷺنےفرمایا:
قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ میری امت کےکچھ قبیلے مشرکین سے مل جائیں،اور بتوں کی پرستش کریں،اور میری امت میں عنقریب تیس جھوٹے نکلیں گے،ان میں سےہر ایک یہ دعویٰ کرے گاکہ وہ نبی ہے،حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں میرےبعد کوئی نبی نہیں ہو گا۔
(ترمذی،۲۲۱۹)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
کوئی بھی مسلمان جو ایک درخت کا پودا لگائے یا کھیتی میں بیج بوئے، پھر اس میں سے پرند یا انسان یا جانور جو بھی کھاتے ہیں وہ اس کی طرف سے صدقہ ہے ـ۔
(صحیح بخاری، ٢٣٢٠)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اے عائشہ! لوگوں میں سب سے بدترین لوگ وہ ہیں کہ جن کا احترام و تکریم ان کی زبانوں (کے شر ) سے بچنے کے لیے کیا جائے ۔
(سنن ابی داؤد ،۴۷۹۳)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
جب تم میں سے کوئی بیت الخلاء میں جائے تو قبلہ کی طرف منہ کرے نہ اس کی طرف پشت کرے ( بلکہ ) مشرق کی طرف منہ کر لو یا مغرب کی طرف ۔
(صحیح بخاری،۱۴۴)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
عقلمند وہ ہےکہ جواپنےنفس کومطیع رکھے اور موت کےبعدکی تیاری کرے، اور بےوقوف وہ ہےکہ جواپنےنفس کی پیروی کرے اور اللہ پر امیدیں باندھے۔
(ترمذی، ۲۴۵۹)
سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
کیا تم میں سے کوئی پسند کرتا ہے کہ ایک رات میں قرآن مجید کا تیسرا حصہ تلاوت کرے، پس جس نے رات کو سورۂ اخلاص کی تلاوت کی، اس نے اس رات کو قرآن کا تیسرا حصہ تلاوت کرلیا۔
(مسند احمد،۸۸۶۲)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:
اے معاذ! میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ ہرنماز کے بعد یہ دعا پڑھنا کبھی نہ چھوڑنا:
اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ
اے اللہ! اپنے ذکر، شکر اور اپنی بہترین عبادت کے سلسلہ میں میری مدد فرما۔
(ابوداؤد،۱۵۲۲)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جمعہ کا دن تمہارے بہترین دنوں میں سے ہے، لہٰذا اس دن میرے اوپر کثرت سے درود ( صلاۃ ) بھیجا کرو، اس لیے کہ تمہارے درود مجھ پر پیش کئے جاتے ہیں ۔
(سنن ابوداؤد ،۱۵۳۱)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
" جمعے کے دن میں ایک گھڑی ایسی ہے کہ کو ئی مسلمان اللہ تعالیٰ سے کسی خیر کا سوال کرتے ہو ئے اس کی موافقت کرتا ہے تو اللہ تعا لیٰ اسے وہی خیر عطا کر دیتا ہے”
فرمایا یہ ایک چھوٹی سی گھڑی ہے ۔
(مسلم،کتاب الجمعہ ،۱۹۷۳)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
مجھ پر درود بھیجا کرو، کیونکہ یہ تمہارے لیے باعث ِ طہارت ہے، اور اللہ تعالیٰ سے میرے لیے وسیلے کا سوال کیا کرو، یہ جنت کا سب سے بلند درجہ ہے، صرف ایک آدمی اس تک پہنچ سکے گا اور میں امید کرتا ہوں کہ وہ میں ہی ہوں۔
(مسنداحمد،۵۷۰۷)
بزم جہاں میں آج یہ کس کا ورود ہے
جبریل کے لبوں پر مسلسل دُرود ہے
فخرُ الرّسُل ہے شافعِ روزِ حساب ہے
اُمّی لقب ہے صاحبِ اُمّ الکتاب ہے
قرآن جس کا خُلق ہے وہ رحمتِ تمام
جس کیلئے ہوا ہے دو عالَم کا انصرام
جس کے غلام فاتحِ ایران و شام ہوں
لاکھوں دُرود اُس پہ، ہزاروں سلام ہوں
ﷺ