زندگی کو بنا پیار کوئی کیسے گزارے
محبوب کی انکھوں میں بڑی بات ہے پیارے 🌹
جھانکنے کی بہترین جگہ اپنا گریبان ہیں.!
اور رہنے کی صحیح جگہ اپنی اوقات میں ہیں🌹
آ
بہت امید تھی وابستہ رہ گزار کے ساتھ
سو دل بھی بیٹھتا جاتا ہے اب غبار کے ساتھ
پٹخ چکی ہے مری ناؤ کو چٹان مگر
میں گر رہا ہوں ابھی تک اس آبشار کے ساتھ
#اردو_زبان
دنیا میں امن قائم کرنے کے دعویداروں سے صرف اتنی گزارش ہے کہ اپنے ملک میں بھی امن قائم کر لیں، جہاں پرامن احتجاج کرنے والوں کے مطالبات سننے کے بجائے ان کی آواز دبائی جاتی ہے، اور جواب گولیوں یا جبری گمشدگیوں کی صورت میں دیا جاتا ہے۔ امن کا آغاز اپنے گھر سے ہونا چاہیے۔
کیا عروج کے قصے ، ذکر کیا زوالوں کا ، ، ،
پھر حساب کیا رکھتے بخت تیری چالوں کا
ہنس رہے ہیں ہم لیکن یہ نہیں کہ خوش بھی ہیں
دل تو رکھنا پڑتا ہے ارد گرد والوں کا . . . . . . .
#اردو_زبان
آنکھوں میں نہ زلفوں میں نہ رخسار میں دیکھیں
مجھ کو مری دانش مرے افکار میں دیکھیں
پوری نہ ادھوری ہوں نہ کم تر ہوں نہ برتر
انسان ہوں انسان کے معیار میں دیکھیں
#قافلہ_ادب
ہم نے کب عِشق کو سمجھا ہے تِجارت جاناں
عِشق تُم سے ہے خسارہ ، تو خسارہ ہی سہی
فرخندہ رضوی
یہ شعر فرخندہ رضوی کا نہایت خوبصورت اور گہرا معنی رکھنے والا شعر ہے۔ اس میں عشق کی فطرت، قربانی اور نقصان کو قبول کرنے کا فلسفہ بیان کیا گیا ہے۔
شعر:
ہم نے کب عشق کو سمجھا ہے تجارت جاناں
عشق تم سے ہے خسارہ، تو خسارہ ہی سہی
تشریح:
"ہم نے کب عشق کو سمجھا ہے تجارت جاناں"
شاعرہ کہتی ہیں کہ ہم نے کبھی عشق کو نفع و نقصان کا سودا نہیں سمجھا۔ یہ کوئی کاروبار نہیں جہاں فائدے کی امید رکھی جائے۔ محبت بے غرض، خالص جذبہ ہے، جس میں حساب کتاب کی گنجائش نہیں۔
"عشق تم سے ہے خسارہ، تو خسارہ ہی سہی"
اگر اس عشق میں صرف نقصان (یعنی دکھ، جدائی یا قربانی) ہی ملا ہے، تو ہمیں وہ بھی قبول ہے، کیونکہ یہ عشق تم سے ہے۔ نقصان بھی اگر تمہارے نام پر ہو، تو وہ بھی قیمتی ہے۔
مفہوم:
یہ شعر عشق کی بے غرضی، وفاداری اور قربانی کو خراجِ تحسین ہے۔ شاعرہ نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ سچا عشق فائدے کا سودا نہیں ہوتا، اور اگر اس راہ میں دکھ یا ناکامی ہو، تو بھی عاشق اس کو بخوشی قبول کرتا ہے۔
#اردو_زبان
عمران خان، جو اس قوم کی بقا اور خودداری کی جنگ تنہا لڑ رہا تھا، آج حاکمِ وقت کی بے حسی کی نذر ہو کر عملاً ایک لاپتہ انسان بنا دیا گیا ہے اور وہ لوگ جنہوں نے اس کے نظریے اور اس کے نام سائے تلے الیکشن جیت کر ایوانوں کا راستہ پایا، آج اقتدار کے نشے میں چور، وزارتوں کے مزے لوٹنے میں اتنے مصروف ہیں کہ اپنے ہی محسن کی غیر قانونی قید، بگڑتی ہوئی صحت اور تنہائی پر بات کرنے کی بھی توفیق نہیں
ان لوگوں کی زبانوں پر مفادات کے ایسے تالے لگے ہیں کہ ضمیر کی ہر آواز دم توڑ چکی ہے۔
اور اس سے بھی بڑا دکھ یہ ہے کہ اس قوم جس کے لیے وہ شخص لڑ رہا تھا، گہری، بے حس اور مجرمانہ نیند سو رہی ہے۔ ہر طرف ایک ایسی سرد مہری ہے جیسے کسی کو نہ اپنے کل کی فکر ہے اور نہ ہی اس شخص کی قربانیوں کا۔ اور اس گھٹن زدہ ماحول میں، جو ہم جیسے دو چار دیوانے بچے بچے ہیں، جو اب بھی حق سچ کی آواز بلند کرتے ہیں اور ہار ماننے کو تیار نہیں، ان کا جینا محال کر دیا گیا ہے۔ اگر ہم بولتے ہیں تو ہم پر غداری کا ٹھپا لگا دیا جاتا ہے، کسی پر جھوٹے مقدمات اور کیسز کی بوچھاڑ کر دی جاتی ہے، تو کسی کو رات کے اندھیرے میں اٹھا کر غائب کر دیا جاتا ہہ یہاں ضمیر فروشوں کو تمغے ملتے ہیں اور وطن سے سچی محبت کرنے والوں کو باغی قرار دے دیا جاتا ہے
💔
Badly missing @ImranKhanPTI